علمی لدنی مختصر

علم لدنی ایک قرآنی اصطلاح ہے اور شیعہ اثنا عشریہ (مکتب اہل بیت) اس وقت بھی اس اصطلاح کو حقیقی معنوں میں خاصان  خدا کے لئے قبول کرتے ہیں۔ 

لیکن  ائمہ اطہار  واجب الاطاعت کے علاوہ  اگر  کوئی شخص کسی خاص علم پر آگاہی کا دعویٰ کرے تو وہ عام افراد کے لیے قابل حجت نہیں ہے، ۔  خواب کی حیثیت بھی یہی ہے۔ 

علم لدنی ایسا علم ہے جو مستقیم (بغیر واسطہ) اور مقدمات (یعنی تجربے یا تفکر) کے بغیر خدا کی طرف سے بندگان خدا کو خدا عطاء ہوتا ہے۔۔ 
اسی علم کو *علم غیب* بھی کہا جاتا ہے کیونکہ لوگوں کی نسبت یہ علم غیب ہے لوگ اس علم سے واقف نہیں ہوتے۔


قرآن مجید اور روایات آئمہ ع اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ علم آئمہ ع ایک خاص راستے (منبع) سے لیتے ہیں۔    یہ منابع قرآن ، فرشتگان، انکا منصوص من اللہ ہونا،  اور ان کا انبیاء کے علم کا وارث ہونا ہے۔ 

عام طور پر جو لوگ اولیاء اللہ کے نام سے جانے جاتے ہیں مثلا داتا علی بن عثمان ہجویری، میاں میر ، سلطان باہو اور خواجہ فرید گنج شکر وغیرہ نہ ہی اولیاءاللہ ہیں اور نہ ہی  ان کو علم لدنی پر دسترس ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ زمانے میں موجود افراد  بھی علمی لدنی  رکھنے کا دعویٰ نہیں کر سکتے سوائے حضرت امام مہدی مہدی اور حضرت عیسی علیہ السلام کے۔  کیونکہ یہی بندگان خدا ہیں جو خدا کی طرف سے مقرر ہیں اور خدا ہی کی حفاظت میں ہے، علم ہی وہ پہلا اور بنیادی سرچشمہ ہے جس کی وجہ سے سے خدا اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے۔ اور یہی وہ برتری ہے جس پر خدا  عام لوگوں پر یہ حکم  لگاتا ہے کہ وہ ان کی پیروی کریں ۔ نبی اللہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک ایسا ہی ہے۔ 

امام ع مکمل قرآن سے واقف ہوتا ہے۔  محکم متشابہ، خاص، عام، مطلق، مقید، ناسخ، منسوخ ان تمام سے آگاہ ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ علم تک رسائی حاصل کرتا اور قرآن کے چھپے ہوے رموز سے آگاہی حاصل کرتا ہے۔

مندرجہ ذیل دواحادیث آئمہ اہل بیت کی علمی  برتری اور فضیلت پر دلالت کرتی ہیں کہ امت کے افراد ادھر ادھر بھٹکنے کے بجاۓ ان دو بھاری چیزوں کی طرف رجوع کریں۔

رسول اللہ نے فرمایا:
إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوا كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَهْلَ بَيْتِى عِتْرَتِى أَيُّهَا النَّاسُ اسْمَعُوا وَقَدْ بَلَّغْتُ إِنَّكُمْ سَتَرِدُونَ عَلَيَّ الْحَوْضَ فَأَسْأَلُكُمْ عَمَّا فَعَلْتُمْ فِى الثَّقَلَيْنِ وَالثَّقَلَانِ كِتَابُ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ وَأَهْلُ بَيْتِى فَلَا تَسْبِقُوهُمْ فَتَهْلِكُوا وَلَا تُعَلِّمُوهُمْ فَإِنَّهُمْ أَعْلَمُ مِنْكُمْ۔
ترجمہ: بے شک میں دو امانتیں تمہارے درمیان میں چھوڑے جارہا ہوں، اگر انہیں قبول کرو تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔ 1۔ خدائے عز و جل کی کتاب (قرآن) اور 2۔ میرے اہل بیت اور میری عترت، اے لوگو! سنو! میں تمہیں یہ حقیقت پہنچا چکا کہ تمہیں میرے پاس حوض کے کنارے لوٹا دیا جائے گا اور میں ان دو بھاری اور گران بہا امانتوں کے ساتھ تمہارے برتاؤ کے بارے میں تم سے بازخواست کروں گا اور یہ دو بھاری امانتیں کتاب خدا اور میرے اہل بیت ہیں۔ پس ان سے آگے بڑھنے کی کوشش مت کرو اور انہیں کچھ سکھانے کی کوشش نہ کرو کیونکہ وہ تم سے زیادہ عالم و دانا ہیں۔

اصول كافى ج2 ص54 ح3۔

حدیث مدینۃ العلم؛ علی علیہ السلام کی شان میں پیغمبر اسلام(ص) کی حدیث ہے  جو  امت کے دوسرے پر علی(ع) کی برتری اور ان کے نسبت آپ(ع) کی اعلمیت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے اور اس حقیقت کو ثابت کرنے کے دلائل میں سے ایک ہے کہ رسول اللہ(ص) کے بعد امت کی دینی مرجعیت علی(ع) کے حصے میں آئی ہے

أنا مدينة العلم وعليّ بابها فمن اراد العلم فليأت الباب"۔
میں علم کا شہر ہوں اور علی(ع) اس کا دروازہ ہیں پس جو بھی اس شہر میں داخل ہونا چاہتا ہے، دروازے سے آکر داخل ہوجائے۔
"أنا مدينة العلم وعليّ بابها فمن اراد العلم فليأته من بابه""۔
میں علم کا شہر ہوں اور علی(ع) اس کا دروازہ ہیں، پس جو علم حاصل کرنا چاہے اس کو دروازے سے اس شہر میں داخل ہونا پڑے گا۔
"انا دار الحكمة وعليّ بابها"۔
میں حکمت کا گھر ہوں اور علی(ع) اس گھر کا دروازہ ہیں۔

آئمہ اہل بیت کے دسویں امام حضرت امام علی نقی علیہ السلام کا علم لدنی سے متعلق بچپن کا روح پرور واقعہ

راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایک دن جنیدی سے کہا غلام ہاشمی کا کیا حال ہے اس نے نہایت بری صورت بنا کر کہا انہیں غلام ہاشمی نہ کہو ، وہ رئیس ہاشمی ہیں ، خدا کی قسم وہ اس کمسنی میں مجھ سے کہیں زیادہ علم رکھتے ہیں سنو میں اپنی پوری کوشش کے بعد جب ادب کا کوئی باب ان کے سامنے پیش کرتا ہوں تو وہ اس کے متعلق ایسے ابواب کھول دیتے ہیں کہ میں حیران رہ جاتا ہوں 

”یظن الناس اتی اعلمہ وانا واللہ اتعلم مہ“

لوگ سمجھ رہے ہیں کہ میں انہیں تعلیم دے رہا ہوں لیکن خدا کی قسم میں ان سے تعلیم حاصل کر رہا ہوں میرے بس میں یہ نہیں کہ میں انھیں پڑھا سکوں 

”ہذا واللہ خیر اہل الارض وافضل من بقاء اللہ“ 

خدا کی قسم وہ حافظ قرآن ہی نہیں وہ اس کی تاویل و تنزیل کو بھی جانتے ہیں اور مختصر یہ ہے کہ وہ زمین پر بسنے والوں میں سب سے بہتر اور کائنات میں سب سے افضل ہیں 

اثبات الوصیت ودمعہ ساکبہ ص ۱۲۱

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں