جشن_میلاد_رسول

#جشن_میلاد_رسول

#سوال

آیا پیغمبر(ص) نے کبھی اپنا جشن میلاد منایا تھا؟! کیا سند ہے؟ اور اگر نہیں منایا تھا تو ہم کیوں منائیں؟ کیا یہ بدعت نہیں ہے؟ جس کام کو خود نبی پاک نے انجام نہیں دیا ہم کیوں کرتے ہیں؟؟

جواب

پورے جواب کے لئے پوری بات پر توجہ: 

1️1 بدعت اس کام کو کہا جاتا ہے کہ جس کا کسی بھی طرح سے قرآن و سنت سے رابطہ نہ ہو

ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

وَالْمُرَاد بِهَا مَا أُحْدِث ، وَلَيْسَ لَهُ أَصْل فِي الشَّرْع وَيُسَمَّى فِي عُرْف الشَّرْع " بِدْعَة " وَمَا كَانَ لَهُ أَصْل يَدُلّ عَلَيْهِ الشَّرْع فَلَيْسَ بِبِدْعَة

«بدعت اس  امر حادث کو کہتے ہیں جس کے سلسلہ میں شرع میں کوئی دلیل (اگرچہ دلیل عام ہی صحیح) نہ ہو اور اگر اس کے لئے شرع میں کوئی دلیل موجود ہو تو وہ بدعت نہیں۔

فتح الباری ج۲۰ ص۳۳۰۔ المکتبۃ الشاملۃ

علامه #مجلسی لکھتے ہیں:

«بدعت ہر وہ امر ہے جو پیغمبر کے بعد شریعت میں ایجاد ہوئی ہو  اور اس پر کوئی نص موجود نہ ہو اور عمومات کے تحت بھی نہ آتا ہو۔»

بحار الأنوار (ط - بيروت)، ج‏31، ص14، منها: صلاة التراويح، ..... 

2️2۔ میلاد کی مناسبت سے جشن برپا کرنا قرآن سے بھی ثابت ہے اور کسی بھی عنوان سے بدعت کے مصداق میں شمار نہیں ہوگا۔

1-ہم سب جانتے ہیں کہ اصول اسلام میں ایک پیغمبر سے اظہار مودت ہے۔

قرآن میں ہے:
«پیغمبرآپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ دادا اولاد برادران ,ازواج ,عشیرہ و قبیلہ اور وہ اموال جنہیں تم نے جمع کیا ہے اور وہ تجارت جس کے خسارہ کی طرف سے فکرمند رہتے ہو اور وہ مکانات جنہیں پسند کرتے ہو تمہاری نگاہ میں اللہ اس کے رسول اور راہ خدا میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو وقت کا انتظار کرو یہاں تک کہ امر الہی آجائے اور اللہ فاسق قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے۔

 توبه 24

پیغمبر(ص) سے مہر و محبت ایک الہی حکم ہےاور احادیث نبوی میں بھی اس کی تاکید پائی جاتی ہے.

پيغمبر گرامى (ص ) فرماتے ہیں:

فَوَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِه
«اس خدا کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی بھی دائرہ ایمان میں داخل نہیں ہوسکتا مگر یہ کہ میں اس کی نظر میں اس کے والدین سے بھی زیادہ محبوب ہوں ۔

صحيح البخارى، موقع وزارة الأوقاف المصرية، ج۱، ص۳۲؛  جامع الأصول من أحاديث الرسول، ملتقى أهل الحديث، ج۱، ص۲۱۔

جو لوگ شب ولادت آپ(ص) کے لئے جشن مناتے ہیں۔ اظہارمودت کے علاوہ ان کا کوئی مقصد نہیں ہوتا درحقیقت اس طریقہ سے وہ محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

2-قرآن مجيد مسلمانوں کو پیغمبر پر ایمان کے علاوہ پیغمبر کی تعظیم  کا بھی حکم دیتا ہے۔
«جو لوگ اس پر ایمان لائے اس کا احترام کیا اس کی امداد کی اور اس نور کا اتباع کیا جو اس کے ساتھ نازل ہوا ہے وہی درحقیقت فلاح یافتہ اور کامیاب ہیں.

اعراف 157

یہ آیت مسلمانوں کو چار حکم دے رہی ہے۔

1. پيغمبر پر ايمان لاؤ .

2. ان کی تكريم و تعظيم کرو۔
3. سختیوں میں انکی مدد کرو۔

4. قرآن پر عمل کرو۔

ان چار حکموں میں دوسرے حکم کو ملاحظہ کریں تو سمجھ میں آئے گا کہ دوسرا حکم میلاد نبی اکرم(ص) اور ان کی تعظیم و تکریم کو بھی شامل ہے لہذا قرآن میں جمله «وعزّروه» استعمال ہوا ہے۔

3-قرآن مجيد نے پیغمبر اکرم (ص) کے سلسلہ میں الہی نعمتوں میں سے  ایک نعمت ان ذکر کو بلند کرنا شمار کیا ہے:

"کیا ہم نے آپ کے سینہ کو کشادہ نہیں کیا  اور کیا آپ کے بوجھ کو اتار نہیں لیا  جس نے آپ کی کمر کو توڑ دیا تھا  اور آپ کے ذکر کو بلند کردیا" 

انشراح 1 الی 4

آیت کے آخری ٹکڑے میں جو رسول اکرم (ص) کے سلسلہ میں اللہ کی نعمتوں میں سے آیا ہے کہ رسول کا ذکر بلند ہوگا یعنی پورے عالم میں آپ کا ذکر ہوگا، اور اور جگہ آپ(ص) کا نام عزت و احترام سے لیا جائے گا، مسلمانوں کا ایام میلاد میں جشن منانا اور نبی پاک کا ذکر کرنا ایک طرح سے اس آیت کے مفاد کی جلوہ نمائی ہے۔ 

تو پھر ایک جگہ جمع ہوکر لہو لعب سے دور رسول اکرم کا ذکر کیا جائے تو کیا کہلائے گا؟

پیغمبر اکرم کی تکریم ہے یا تحقیر؟ 
آپ(ص) سے محبت کا اظہار ہے یا دشمنی کا؟ 

ذکر کرنا آپ (ص) کے ذکر کی شہرت عظمت، بلندی کا سبب قرار پائے گا یا نہیں؟ 

جواب مکمل طور پر واضح ہے کہ ہر صاحب عقل و شعور اسے پیغمبر(ص) سے محبت کا اظہار، احترام، ذکر کی بلندی کا سبب سمجھتا ہے۔ 

4-حضرت عیسی نے اپنے حواریوں کے لئے آسمان سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم اس دن عید منائیں گے:

«عیسٰی بن مریم نے کہا خدایا پروردگار !ہمارے اوپر آسمان سے دستر خوان نازل کردے کہ ہمارے اول و آخر کے لئے عید ہوجائے».

مائده 114

تو اگر نزول مائدہ پر،  ایک محدود نعمت ہونے کے باوجود جشن منانے کا حق حاصل ہے تو کیا رسول اکرم جیسی نعمت مدام پر جشن کار عبث ہوگا؟؟

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں