مختار

copied

*مختار کے بارے میں متنازعہ بات اور*
 *جمہوری شیعوں کا رد عمل* :

تحریر: *محمد شفاء شمشیری*

مسجد بیت العتیق لاہور میں حکم رہبر معظم سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ پر لبیک کہتے ہوئے ہونے والے ختم نبوت و وحدت امت کانفرنس میں پاکستان بھر سے تمام مسالک کے جید علمائے کرام نے شرکت کی اور شیاطینِ عالم کو وحدتِ امتِ مسلمہ کا قابل تحسین و ستائش پیغام دیا. اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک اہل سنت عالم دین نے ایک تاریخی شخصیت کے حوالے سے اپنے عقیدے کے مطابق اظہار خیال کیا, جس کو لے کر فخرِ تشیعِ پاکستان, فیلسوفِ عظیم, استاد عالیقدر سید جواد نقوی حفظہ اللّٰہ کے نظریاتی مخالفین عام سادہ لوح مومنین اور جوانوں کی نظر میں اس سید بزرگوار کی اہمیت کو کم کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں.
احیائے نظام امامت و ولایت کے لئے فقید المثال کاوشیں کرنے والی واحد شخصیت کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والی مشینیں اس حوالے سے درج ذیل سوالات اٹھا رہی ہیں:
1. وحدت مشترکات پر ہوتی ہے تو پھر اس اہل سنت عالم نے متنازعہ بات کیوں کی?
2. جب اس نے یہ متنازعہ بات کی تو سید جواد نقوی خاموش کیوں رہے?
3. کیا مختار ثقفی کی شان میں گستاخی قابل قبول ہونی چاہئے?
میں ان سوالوں کا ٹو دی پوائنٹ  "to the point" جواب دینے سے پہلے مختار کی شخصیت کے بارے میں اقوال معصومین علیہم السلام اور تاریخی شواہد کے حوالے سے ایک مختصر وضاحت دینا پسند کروں گا, تاکہ مومنین خود فیصلہ کریں کہ کیا مختار کی شخصیت واقعاً اتنی عظیم ہے کہ اس کی ذات کے حوالے سے اپنے عقیدے کا اظہار کرنے والے کے خلاف فوراً  کفر و شرک کے فتوے دیے جائیں?
مختار کون تھا:
مختار بن ابی عبید ثقفی وہ تاریخی شخصیت ہے جس نے امام حسین علیہ السلام اور آپ کے باوفا انصار علیہم السلام کے خون کا انتقام لیا تھا, مختار خود شیعہ محققین اور علماء کے درمیان بھی ایک متنازعہ شخصیت ہے چونکہ آئمہ معصومین علیہم السلام سے بعض اقوال اس کی مدح میں اور بغض مذمت میں وارد ہوئے ہیں اور مختار کے دور کے حالات اور تاریخی واقعات میں سے کچھ مخصوص قسم کے حالات و واقعات بھی مختار کے بارے میں دونوں قسم کے تأثرات پیدا کرتے ہیں, پہلے میں وہ اقوال بیان کرنا چاہوں گا جو مختار کی مدح یا مذمت میں وارد ہوئے ہیں.
 وہ اقوال جو مختار کی مدح میں وارد ہوئے ہیں:
1. "امام حسین ع نے صبح عاشور عمر ابن سعد کے لشکر سے حجت تمام کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ آگاہ ہوجاؤ, بنو ثقیف کا ایک فرد میرے خون کا انتقام لےگا, خدا اسکا بھلا کرے"
2. "امام سجاد علیہ السلام نے خدا وند تعالی سے مختار کے کام کے بدلے میں اسے جزائے خیر کی دعا کی ہے"
3. "امام باقر علیہ السلام نے مختار کے بیٹے ابوالحکم سے جب ملاقات کی تو اس کی عزت و احترام کے بعد مختار کی بھی تعریف کی اور فرمایا تمہارے والد پر خدا کی رحمت نازل ہو"
4. "امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ واقعہ عاشورا کے بعد ہماری عورتوں میں سے کسی عورت نے خود کو زینت نہیں دی یہاں تک کہ مختار نے عبیداللہ بن زیاد اور عمر بن سعد کا سر مدینہ بھیجا"
مختار کی مذمت میں وارد اقوال معصومین علیہ السلام:
1. امام باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ امام سجاد علیہ السلام نے مختار کے قاصد سے ملاقات نہیں کیا اور اس کے بھیجے ہوئے تحفے  واپس بھیج دیے اور اسے "کذاب" یعنی جھوٹا کہہ کر یاد کیا"
2. "امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ مختار نے امام سجاد علیہ السلام کی طرف جھوٹی نسبت دی ہے"
3. "جس وقت امام حسن علیہ السلام مختار کے چچا کے گھر میں تشریف فرما تھے تو مختار نے اپنے چچا کو امام ع کو گرفتار کرکے معاویہ کے حوالے کرنے کی تجویز دی تاکہ ان کا مقام معاویہ کے سامنے باقی رہے۔"
4. ایک روایت میں آیا ہے کہ مختار اہل جہنم میں سے ہے لیکن امام حسین ع کی شفاعت کے ذریعے نجات پائے گا.
مختار پر چند تاریخی اعتراضات:
1. مختار کو حکومت ملنے کے بعد بھی امام وقت کے ہوتے ہوئے بھی تخت حکومت پر کیوں بیٹھے?
2. مختار کا امام وقت, امام زین العابدین ع سے کوئی رابطہ نہیں تھا بلکہ محمد حنفیہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور انہی کو امام زمن سمجھتا تھا.
3. مختار نے توابین کا ساتھ نہیں دیا اور نہ ہی ان کی مدد کی.
4. مختار کے اعمال بتاتے ہیں کہ وہ اقتدار کا حریص تھا اس لئے عبداللہ بن ذبیر کی طرف سے بھی لڑتا رہا. 
مختار پر ہونے والے تاریخی اعتراضات کے جوابات:
1. حالات کا تقاضا تھا کہ مختار خود تخت حکومت پر بیٹھے. 
2. حالات کی وجہ سے مختار نے محمد حنفیہ سے رابطہ رکھا اور اسی کے توسط سے امام وقت سے ہدایات لیتے رہے.
3. مختار نے حضرت مسلم ع کی میزبانی کی لہذا اقتدار کا حریص نہیں ہوسکتا.
4. مختار نے توابین کا اس لئے ساتھ نہیں دیا چونکہ اسکا کوئی فائدہ نہیں تھا.
مختار شیعہ علماء کی نظر میں:
مذکورہ اقوال اور تاریخی شواہد کی روشنی میں شیعہ علماء میں سے بعض نے ان کی تعریف اور بعض نے ان کی مذمت کی ہے جبکہ بعض نے نہ تعریف کی ہے اور نہ مذمت بلکہ توقف کیا ہے. علامہ حلی رح, سید بن طاؤس رح, آیت اللہ خوئی اور علامہ امینی یہ سمجھتے ہیں کہ مختار کا قیام ایک شیعی قیام تھا اور مختار قابل تعریف ہے. علامہ مرزا محمد استرآبادی اور علامہ مجلسی رح کے مطابق مختار کی مذمت نہیں کرنی چاہئے لیکن مختار کے ایمان کو کامل بھی نہیں سمجھتے اور جن علماء نے مختار کی مذمت والے اقوال کو قبول کیا ہے اور کہا ہے مختار عقیدتی شیعہ نہیں تھا بلکہ ایک زیرک, ہوشیار, موقع پرست اور اقتدار کا حریص شخص تھا, حضرت مسلم ع کا ساتھ دینا بھی عقیدتی نہیں تھا, جس طرح ذبیریوں نے خون امام حسین علیہ السلام کے بدلے کا نعرہ لگاکر اقتدار کے لئے سعی کی, اسی طرح مختار نے بھی اس نعرے سے اپنی حوس کے حصول کے لئے فائدہ اٹھایا, تاریخی شواہد کا حوالہ دے کر وہ یہ کہتے ہیں کہ مختار نے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے آئمہ اطہار ع کے ناموں سے فائدہ اٹھایا, لہذا اسکا قیام شیعی قیام نہیں تھا اور اس وقت شیعہ سنی باقاعدہ علحیدہ بھی نہیں تھے, لہذا اس وقت کے کوفی آج کے شیعوں کی طرح عقیدتی شیعہ نہیں تھے بلکہ عام مسلمان تھے, اسی لئے پہلے امام حسین ع کو بلایا, سفیر حسین ع کی بیعت کی اور پھر حالات کو دیکھ کر ابن زیاد کا ساتھ دیا, مختار بھی ایسے ہی موقع پرستوں میں سے تھا.
مختار اہل سنت کی نظر میں:
اہل سنت کی کتابوں میں مختار کی سوفیصد مذمت کی گئی ہے, ان کی کتب میں مختار کے حوالے سے آیا ہے کہ مختار نے حکومت کے قیام کے بعد نبی ہونے کا دعوی بھی کیا تھا, جھوٹے معجزے دکھا کر عام افراد کو گمراہ کرتا تھا, اہل سنت کتابوں میں مختار کے حوالے سے رسول ص سے حدیث کا بھی ذکر ہے کہ آپ ص نے فرمایا تھا کہ قبیلہ ثقیف سے ایک جھوٹا اور ظالم شخص آئے گا, اور اہل سنت مختار ثقفی کو اس حدیث کا مصداق مانتے ہیں.
بہر حال اگر اقوال معصومین علیہ السلام اور تاریخی نکتہ نظر سے دیکھیں تو مختار خود اہل تشیع کی تاریخ میں بھی ایک متنازعہ شخصیت ہے, اور پھر اس نکتے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مختار نہ خود معصوم تھے اور نہ ہی کسی معصوم کی اولاد میں سے تھے, البتہ قاتلان امام حسین ع کا انتقام لینے کی بدولت تشیع اکثریت کے نزدیک یہ ایک محترم کردار ضرور ہے.
جامعہ عروہ الوثقی میں ہونے والی وحدت امت کانفرنس میں اہل سنت عالم دین کو بات شیعوں کے اکثریت کے نکتہ نظر کو دیکھ کر کرنی چاہئیے تھی, لیکن انھوں نے اپنے عقیدے کا اظہار کیا جوکہ نا درست عمل ہے. انھوں نے غلط تو کیا لیکن اگر وہی پر شیعہ کھڑے ہوکر اس کے خلاف نعرے لگاتے یا انتظامی مدیر اعلی اس بات پر اعتراض اٹھاتے تو وحدت کی ساری کاوشیں ضائع ہوتیں, ہاں اگر کوئی معصومین ع یا تشیع کے بنیادی عقائد کے خلاف حرزہ سرائی کرتا تو یہ قابل برداشت عمل نہیں ہوتا, میرے خیال سے ایک ایسے عظیم موقع پر ایک متنازعہ شخصیت کے بارے میں غلطی کرنے پر فوری رد عمل دکھانا کسی قسم کا عقلی, علمی یا فکری عمل نہیں ہوتا اور بالفرض اس کو بہت بڑی غلطی بھی کہا جائے تو اس ایک فرد کی غلطی کی وجہ سے ساری کی ساری کاوشوں کو تنقید کا نشانہ بنانا یہ فقط شخصی یا شخصیتی بغض کے سواء کچھ بھی نہیں.
میں آخر میں ان پروپیگنڈہ مشینوں سے بھی چند ایک سوال کرنا چاہوںگا:
1. اس اہل سنت عالم دین نے کانفرنس کے دوران اپنے عقیدے کا اظہار کیا, اگر اس بات کو لے کر وحدت کے نام پر ہونے والے کانفرنس کو احتجاجاً کینسل کردیا جاتا یا اس کے خلاف نعرے لگائے جاتے تو اس کا نتیجہ کیا نکلتا? 
2. مختار کو تمام اہل سنت کذاب سمجھتے ہیں, چاہے وہ فضل الرحمان ہو, مفتی زاہد الراشدی ہو یا مولانا عبدالغفور سیفی.. پھر تو وحدت کا نعرہ لگانا ہی فضول ہے?

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں