خدا کیسا ہے؟


💎 خدا کیسا ہے؟ 💎

خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ 

سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟ 
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں کہ ہماری عقل و فھم اتنی قدرت نہیں رکھتی ھے کہ اس حد تک پہنچ جائے،

👈لیکن ھمارے مولا امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب اسداللہ الغالب علیہ السلام نے اللہ کے وجود کے بارے میں کفار کو بڑی خوبصورت انداز میں وضاحت کے ساتھ جواب دیا اور ھماری ضعیف عقل و فھم کی طرف بھی توجہ دلائی. 

کفار کی طرف سے امام علی علیہ السلام سے سوال؟

آپ کا خدا کس سال اور کس تاریخ کو وجود میں آیا؟

امام علی علیہ السلام نے فرمایا: 
اللہ تعالی کا وجود تاریخ اور زمان سے پہلے تھا.

کفار نے پوچھا: یہ کیوں کر ھو سکتا؟ کیوں کہ ھر چیز کسی دوسری شئ سے وجود میں آتی ھے یا تبدیل ھوتی.

ھمارے امام علی مرتضٰیؑ نے فرمایا: 3 سے پہلے کون سا عدد ہے؟

کفار نے جواب دیا: 2
امام علیہ السلام نے فرمایا: 2 سے پہلے کون سا عدد؟
انھوں نےجواب دیا: 1
امام علیہ السلام نے پوچھا: 1 سے پہلے؟
انھوں نے جواب دیا: کوئی عدد نہیں.

امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ کیسے ممکن ھے کہ ایک عدد کے بعد بے شمار اعداد موجود ہوں اور اس سے پہلے کوئی عدد نہ ہو لیکن اللہ تعالٰی جو احد اور واحد حقیقی ہے اُس پہلے کوئی چیز موجود ہو؟

کفار نے عرض کیا: آپ کا خدا کہاں ہے؟ اور کس طرف واقع ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: وہ ھر جگہ حاضر اور ھر چیز پر مشرف ہے.

انھوں نے کہا: یہ کیسے ممکن ہے کہ ھر جگہ حاضر ہو اور ھر چیز پر مشرف ھو؟

امام علی علیہ السلام نے فرمایا: اگر آپ لوگ ایک تاریک اور اندھیر جگہ سوئے ہوے ھوں، جب صبح بیدار ھوجائیں تو دن کی روشنی کہاں اور کس طرف سے دیکھتے ھو؟

کفار نے کہا ھر جگہ اور ھر طرف سے.

امام علیہ السلام نے فرمایا: پس وہ خدا جو خود زمین اور آسمانوں کا نور ہے ھر جگہ اور ہر طرف کیوں نہیں ھوسکتا؟

کفار نے کہا: پس خدا نور سے ہے لیکن نور سورج سے ہے پھر آپ کا خدا کس نور سے ہے؟
اور یہ کس طرح ممکن ہے کہ کسی چیز سے نہ ہو لیکن ہر جگہ موجود ہو اور قدرت بھی رکھتا ہو؟

امام علی علیہ السلام نے فرمایا: خدا خود روشنی کا خالق ہےـ کیا تم نے طوفان اور ھوا کی قدرت کو نہیں دیکھا ہے؟ ھوا کس چیز سے ہے جو نہ دیکھی جاتی ھے نہ وہ کسی چیز سے ہے، درحالیکہ کتنی طاقتور ہے، خدا تو خود ھوا کا خالق ہےـ

انھوں نے عرض کیا: ھمارے لئے اپنے خدا کے وصف بیان فرمائیے کہ وہ کس چیز سے بنا ھوا ھے؟ کیا لوہا جیسا سخت ہے؟ یا جاری پانی جیسا؟ یا گیس سے؟ یا دھواں اور بھاپ جیسا ہے؟

حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا: کیا آج تک آپ کسی مرتے ہوئے بیمار کے پاس بیٹھے تھے؟ اور اس کے ساتھ باتیں کیں؟

انھوں نے جواب دیا: جی ھاں، ھم ایسے بیمار کے پاس تھے اور باتیں بھی کیں.

امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے ساتھ باتیں کی؟

انھوں نے جواب دیا: نہیں، ایسا ممکن نہیں ـ کیوں کہ وہ مر چکا ہےـ

امام علیہ السلام نے فرمایا: مردہ اور زندہ ہونے میں کیا فرق تھا کہ جس کے بعد کلام اور حرکت کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تھا.

انھوں نے کہا: روح، روح اس کے بدن سے خارج ہوئی.

امام علی علیہ السلام نے فرمایا: آپ وہاں پر موجود تھے اور کہتے ہو کہ روح اس کے بدن سے خارج ہوئی اور مرگیاـ اب اس روح کو جو آپ نے اپنی آنکھوں کے سامنے نکلتے ہوے دیکھا، میرے لیے اس کے وصف بیان کریں کہ وہ کس جنس سے تھا؟ اور کیسا تھا؟

یہ سن کر سب خاموش ھو گئے.

امام علی مرتضٰیؑ نے فرمایا: آپ اس روح کی توصیف کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کو تم نے اپنی آنکھوں سے بیمار انسان کے بدن سے نکلتے ہوے دیکھاـ تو آپ کیسے اس ذات اقدس احدیت اور روح کے خالق کو درک کرنے اور سمجھنے کی قدرت رکھ سکتے ہو.

📚اقتباس از کتاب توحید نظری
(حجةالاسلام شایان)

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں