وحدت اور اختلاف کا شعور

وحدت اور اختلاف کا شعور
اسفر ہاشمی

حالات یہ ہیں کہ حوزہ علمیہ جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں ختمِ نبؤت و وحدتِ اُمت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبد الغفور سیفی (ڈیرہ غازی خان) نے مختار کی مثال پیش کی کہ مختار نے امام حُسین ع کے قاتلوں سے انتقام لیا. مگر بعد اذاں مختار نے اپنی نبؤت کا دعویٰ کردیا اور مرتد ہوگیا.

یہ بات شیعہ تاریخ کے حوالے سے ثابت نہیں ہے. شیعہ تاریخ میں مختار کے حوالے سے مثبت و منفی ہر دو رائے پائی جاتی ہے. لہٰذا ہمیں مختار سے متعلق حُسنِ ظن رکھنا چاہیے. حُسنِ ظن یہ ہے کہ مختار سے متعلق بُرا گمان بھی پیدا نہ ہو اور یقینِ کامل بھی نہیں ہونا چاہیے.

مولانا عبدالغفور سیفی کے بیان کے بعد مختلف قسم کے اعتراضات کا اظہار کیا جارہا ہے, جیسا کہ...

١- سید جواد نقوی نے بیان خاموشی سے کیوں سُن لیا...

استادِ محترم کیا کہتے اور کیا کرتے... آپ ہی بتائیں...
آیا اُن مولانا صاحب کو منبر سے اتار دیتے . . . دھکے مار کے مسجد سے نکالتے یا ان کا عمامہ چھین لیتے . . . کیا کرتے . . .
تو کیا یہ کام مناسب ہوتا . . . کیا اس ردِ عمل سے عبدالغفور صاحب کا مختار سے متعلق نظریہ بدل جاتا . . . 
میرے بھائی ہر کسی کا اپنا تاریخی منبع ہے. شیعہ سنی دونوں کا تاریخی سفر جدا جدا ہے. اب بعض شخصیات اہلِ سنت کی نگاہ میں محترم ہیں جبکہ شیعہ اُن کو اچھا نہیں سمجھتے. بعض شیعہ کے ہاں محترم ہیں اور سنی اُن کو اچھا خیال نہیں کرتے. یہ تاریخی منہج ہے. تاریخی اختلاف پر تحقیقات کے ذریعہ بات کی جاسکتی ہے . . . بیٹھ کر بات کی جاسکتی . . . جیسا کہ استادِ محترم نے خطاب میں فرما دیا کہ بعض باتیں بیٹھ کر حل ہونیوالے ہیں.

٢- مختار کی توہین کرنیوالے کو قتل کردیا جائے اور عروۃ الوثقیٰ کو بند کردیا جائے

 شیعہ نقطہِ نظر سے صحابہ عصمت کے درجہ پر فائز نہیں ہیں. اُن میں غلطی کا امکان بحرحال موجود ہے. اگرچہ اُن کی توہین حرام ہے لیکن توہین کرنیوالوں کی سزا قتل نہیں ہوسکتی. اُن سے فکری اختلاف رکھنے والوں کی بھی ایسی سزا متعین نہیں ہوسکتی بلکہ اُن کو سمجھانا بجھانا چاہیے. ہم یہ قطعاً نہیں کہہ سکتے کہ رسول کے اصحاب یا کسی امام کے اصحاب سے اختلاف رکھنے والا واجب القتل ہے. جبکہ خود اصحابِ رسول و آئمہ ع آپس میں متعدد اختلافات رکھتے تھے. لہٰذا یہ قتل کردینے والی بات تو عمداً تکفیریت اور شدت پسند سوچ کو پروان چڑھانے والی ہے.
دوسرا عروۃ الوثقیٰ کو بند کردینے کی بات جس کسی کی ذاتی خواہش ہے تو وہ ہم جوانوں کو اس جتنا بڑا مرکز بنا کردے . . . جو ملت کی فکری و عصری ضروریات پوری کرسکے تو ماشاءاللہ, ابھی پھونک مار کر بند کردیں.

مفصل وضاحت
وحدت اس چیز کا نام نہیں کہ کوئی اپنے نظریات کا پرچار نہ کرسکے. یا اگر کرے تو اس کے قتل کا فتویٰ صادر کیا جائے. ہم بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کی فضا ابھی اتنی کشادہ نہیں کہ وہاں ہر شخص کھل کر اپنے نظریات بیان کرسکے. مولانا سیفی صاحب کو ایسی محفل میں ایسا بیان نہیں دینا چاہیے تھا. لیکن اگر بالفرض اُنہوں نے یہ غلطی کردی تو ایک باشعور ملت اس کا کیا ردِ عمل دے . . . 
باشعور ملت اختلافات کو سُنتی ہے اور اس کا مدلل جواب دیتی ہے. حوصلہ مندی اور ہوش مندی اسی میں ہے کہ اگلے کی غلط بات سُن کر آگے سے تماشہ نہ کیا جائے. ذمہ دارانہ اور محققانہ انداز میں بات کی جائے. ممکن ہے کہ اگلا بندہ آپ کا اخلاقی کمال دیکھ واقعی آپ کی تحقیقات پر غور کرے اور اپنے نظریات میں نظرِ ثانی کرنے پر مجبور ہوجائے. یہی چیز وحدت ہے, جس میں ہر شخص اپنا نظریہ ذمہ داری کے ساتھ آزادی سے بیان کرتا ہے اور اُسے کوئی خطرہ نہیں ہوتا. ایسے ماحول میں افراد ہر آن اپنی اصلاح کے لیے آمادہ نظر آئیں گے. مسلمانوں میں جب کبھی کسی معاملے میں اختلاف ہوجائے تو اسے مفاہمت اور مصالحت سے حل کرنا چاہیے, کفر کے فتوے حل نہیں ہیں.

اس کانفرنس کے مثبت پہلو دیکھیں. آج شیعہ ادارہ ملک بھر میں تمام مسالک کو ایک منبر پر لانے کا موجب بنا ہے. کل شیعہ اس ملک میں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا جبکہ آج مہر و محبت اور اخوت کی وجہ سے ہر فرد خاشع و خاضع نظر آرہا ہے. یہ الہٰی تحریک کی سُرخروئی ہے. کل تک خون کے پیاسے آج گلے مل رہے ہیں . . . یہ فضائے وحدت مسلم یک جہتی, اسلامی بیداری اور ملکی سلامتی کے لیے پہلا قدم ہے.

باقی اگر فتنہ گران اتنا ہی ہمدرد ہیں تو وہ تاریخی حوالے سے تحقیقات کیوں نہیں کرتے. پاکستان کے اندر شیعہ میں کتنے ایسے لوگ ہیں جو علم الرجال اور علمِ تاریخ میں گراں قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں... آپ کی تاریخ, سیاست, معاشرت, وغیرہ کے موضوعات پر کتب دستیاب کیوں نہیں ہیں جس سے آپ اپنی شخصیات اور نظریات کا دفاع کرسکیں. یہ کُجا, آپ کے پاس شیعہ کی ستر سالہ تاریخ قلمبند نہیں ہے. آئیے, مولانا سیفی اپنا تاریخی نقطہِ نظر بیان کرگئے, اب آپ بھی تاریخی حوالے سے اپنی تحقیقات بیان کریں... آپ کے پاس یہی موقع ہے. کلپ کاٹنا, ویڈیو ایڈیٹ کرنا, جارحانہ اور تکفیرانہ انداز چھوڑیں اور ذمہ داریاں ادا کریں . . . شکریہ
نہضتِ بیداری
فکر و فلسفہ

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں