مختار پر ایک تحقیقی نظر
إزاحة السِتَار عن حال المختار – مختار پر ایک تحقیقی نظر
تحریر: سید علی اصدق نقوی
﷽
تاریخ ایک ایسا موضوع ہے جس پر بہت دقت درکار ہے، خصوصاً اس لیئے کہ اکثر باتیں واقعات کے کئی نسلوں اور صدیوں بعد لکھے گئے ہیں۔ اسلام کے اوائل کے حادثات بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج تک بہت سے تاریخی امور میں اختلاف نظر آتا ہے، کیونکہ جو وقائع ہزاروں سال قبل پیش آئے ان میں بالجزم کہنا کہ ایسے ہوا تھا یا ویسے ہوا تھا ممکن نہیں ہے کیونکہ جو باتیں ہم تک آئی ہیں کتب سے ان میں بہت سے ظن اور گمان اور مفروضات شامل ہیں جس وجہ سے قطعی حکم دینا ممکن نہیں البتہ تاریخ میں امکانیات کا استعمال کرتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بالامکان فلاں چیز زیادہ قوی ہے باقی کی نسبت۔ ہم ان شاء اللہ تفصیلاً تمام روایات کو نقل کرکے انکا جائزہ لیں گے۔ نوٹ: کسی روایت کی کا من حیث السند ضعیف ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اسکا متن بھی ضعیف یا غیر معتبر ہے اور کسی روایت کا من حیث السند صحیح / معتبر یا حسن ہونے کا مطلب بھی یہ نہیں کہ اسکا متن بھی صحیح ہے کیونکہ کتنی ہی روایات ہیں جنکی سند صحیح ہے مگر مضمون اور متن متروک ہے، اور کتنی روایات ہیں جنکی سند ضعیف و سقیم ہے مگر انکا متن سالم و صحیح ہے، پس اس نقطے کا خیال رکھا جائے تحقیق پڑھتے ہوئے۔
جناب مختار بن ابی عبید ثقفی کی ولادت بلاذری کے بقول اس سال ہوئی جس سال نبی اکرم ص نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی اور انکی والدہ جنکا نام دومہ بنت عمرو بن وہب تھا جب حاملہ ہوئیں تو انہوں نے خواب دیکھا جس میں کوئی کہہ رہا تھا:
أبشـــــــــــــــــــــــري بولد أشبه شيء بالأسد
إذا الرجال في كبد يتغالبون علــــــــــى بلد
بشارت ہو آپکو ایک بیٹے کی، جو شیر سے سب سے زیادہ مشابہ ہیں
جب مرد مشکل میں، سرزمین پر غالب آتے ہیں۔ (1)
مختار کا تعلق ثقیف کے قبیلے سے تھا تبھی انکو مختار ثقفی کہا جاتا ہے اور انکے والد ابو عبید بڑے اصحاب میں سے تھے اور قادسیہ کے معرکے میں بھی انہوں نے شرکت کی تھی خلیفہ دوم کے زمانے میں۔ خود مختار نے بھی اپنی نوجوانی میں بعض معارک (معرکوں) میں شرکت کی تھی۔
مختار نے مسلم بن عقیل کو اپنے گھر بھی بلایا تھا اور ان کی بیعت کی تھی اور انکا استقبال کرکے جناب ملسم کو اپنے گھر میں مہمان بھی رکھا تھا، یہ بات بلاذری اور ابو حنیفہ دینوری وغیرہ نے نقل کیا ہے (2) اسکے بعد عبید اللہ بن زیاد نے مختار کو قید کردیا تھا اور وہ امام حسین ع کی شہادت تک قید میں ہی رہے۔ اسکے بعد انہوں نے قاتلین امام حسین علیہ السلام سے انتقام لیا، جیسا کہ مشہور و معروف ہے، اور اس کو اچھے انداز سے فلم مختار نامہ میں فلمایا گیا ہے۔
اگر ہم شیعی منابع کا مطالعہ کریں، خصوصاً حدیثی مصادر کا تو ہم دیکھتے ہیں کہ مختار کے حق میں مدح و ذم دونوں قسم کی روایات وارد ہوئی ہیں، جن میں سے بیشتر روایات شیخ کشی کی رجال کی کتاب سے ہیں۔ ہم مدح اور تعریف کی روایات سے آغاز کرتے ہیں:
شیخ کشی نے مختار ثقفی کے عنوان سے الگ فصل باندھی ہے اور لکھتے ہیں:
الْمُخْتَارُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ
197 حَمْدَوَيْهِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَنْ يَعْقُوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ سَدِيرٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ (ع) قَالَ لَا تَسُبُّوا الْمُخْتَارَ فَإِنَّهُ قَتَلَ قَتَلَتَنَا وَطَلَبَ بِثَارِنَا وَزَوَّجَ أَرَامِلَنَا وَقَسَمَ فِينَا الْمَالَ عَلَى الْعُسْرَةِ.
مختار بن ابی عبیدہ
حمدویہ نے کہا: مجھ سے یعقوب نے بیان کیا جس نے ابن ابی عمیر سے جس نے ہشام بن مثنی سے جس نے سدیر سے جس نے امام باقر ع سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: مختار کو برا مت کھو، کیونکہ اس نے ہمارے قاتلوں کو قتل کیا اور ہمارے خون کا بدلہ طلب کیا، اس نے ہماری بیواہوں کی شادی کرائی اور مشکل حالات میں ہمارے درمیان مال تقسیم کیا۔ (3)
اس روایت کی سند علامہ حلی کے مطابق حسن (اچھی) ہے (وهذا الطريق حسن) (خلاصة الأقوال / 276)
سید ابن طاووس نے بھی اس روایت کو حسن سند کا کہا ہے (ان هذا حديث حسن الطريق) (التحرير الطاووسي / 558)
اور اس روایت کی صحّت راوی سدیر پر ہے، جسکے نزدیک یہ ممدوح ہے اسکے نزدیک روایت حسن ہے جبکہ جسکے نزدیک یہ مجھول ہے اسکے نزدیک روایت معتبر نہیں ٹہرتی۔
اور علامہ حلی مزید نقل کرتے:
وروى ابن عقدة، قال: ان الصادق (عليه السلام) ترحم على المختار. وقد ذكر الكشي احاديث تنافي ذلك، ذكرناها في الكتاب الكبير
ابن عقدہ نے روایت کیا ہے کہ امام صادق ع نے مختار کیلئے ترحّم (رحمت کی دعاء) کی ہے۔ اور شیخ کشی نے روایات نقل کی ہیں جو اسکے منافی ہیں، یہ ہم نے اپنی بڑی کتاب میں لکھی ہیں۔ (4)
شیخ کشی نے مزید روایت کیا ہے:
199 مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ وَعُثْمَانُ بْنُ حَامِدٍ، قَالا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جَعْفَرٍ (ع) يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَى الْحَلَّاقِ، فَقَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فَتَنَاوَلَ يَدَهُ لِيُقَبِّلَهَا فَمَنَعَهُ، ثُمَّ قَالَ مَنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا أَبُو الْحَكَمِ بْنُ الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ الثَّقَفِيُّ، وَكَانَ مُتَبَاعِداً مِنْ أَبِي جَعْفَرٍ (ع) فَمَدَّ يَدَهُ إِلَيْهِ حَتَّى كَادَ يُقْعِدُهُ فِي حَجْرِهِ بَعْدَ مَنْعِهِ يَدَهُ، ثُمَّ قَالَ أَصْلَحَكَ اللَّهُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكْثَرُوا فِي أَبِي وَقَالُوا وَالْقَوْلُ وَاللَّهِ قَوْلُكَ قَالَ وَأَيُّ شَيْءٍ يَقُولُونَ قَالَ يَقُولُونَ كَذَّابٌ، وَلَا تَأْمُرُنِي بِشَيْءٍ إِلَّا قَبِلْتُهُ، فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ أَخْبَرَنِي أَبِي وَاللَّهِ إِنَّ مَهْرَ أُمِّي كَانَ مِمَّا بَعَثَ بِهِ الْمُخْتَارُ أَ وَلَمْ يَبْنِ دُورَنَا وَقَتَلَ قَاتِلَنَا وَطَلَبَ بِدِمَائِنَا فَرَحِمَهُ اللَّهُ، وَأَخْبَرَنِي وَاللَّهِ أَبِي أَنَّهُ كَانَ لَيَمُرُّ عِنْدَ فَاطِمَةَ بِنْتِ عَلِيٍّ يُمَهِّدُهَا الْفِرَاشَ وَيُثْنِي لَهَا الْوَسَائِدَ وَمِنْهَا أَصَابَ الْحَدِيثَ، رَحِمَ اللَّهُ أَبَاكَ رَحِمَ اللَّهُ أَبَاكَ مَا تَرَكَ لَنَا حَقّاً عِنْدَ أَحَدٍ إِلَّا طَلَبَهُ قَتَلَ قَتَلَتَنَا وَطَلَبَ بِدِمَائِنَا.
محمد بن حسن اور عثمان دونوں نے کہا: ہم سے بیان کیا محمد بن یزداد نے، جس نے محمد بن حسین سے جس نے موسی یسار سے جس نے عبد اللہ بن زبیر سے جس نے عبد اللہ بن شریک سے روایت کی، اس نے کہا: ہم عید قربان کے دن امام باقر ع کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اُس وقت آپ تکیہ لگائے تشریف فرما تھے۔ اور کسی شخص کو سر تراشنے کیلئِے بُلوا بھیجا تھا ، میں امام ع کے سامنے بیٹھ گیا۔ اتنے میں اہل کوفہ میں سے ایک بزرگ داخل ہوئے ، انہوں نے امام ع کا ہاتھ لے کے چومنا چاہا تو امام ع نے منع کیا اور فرمایا: تم کون ہو؟ انہوں نے جواب دیا: میں ابو محمد حکم ہوں اور مختار ثقفی کا فرزند ہوں۔ یہ سُن کر امام ع نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا اور اتنا نزدیک کیا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اپنی آغوش میں بیٹھانا چاہتے ہیں جبکہ پہلے ہاتھ چومنے کیلئے بھی تامل فرمایا تھا۔ بیٹھنے کے بعد حکم بن مختار نے کہا کہ مولا لوگ میرے باپ کے متعلق چہ میگوئیاں کرتے رہتے ہیں لیکن اللہ کی قسم آپ جو بھی فرمائِں گے میں مان لوں گا۔ امام ع نے پوچھا : لوگ کیا کہتے ہیں ؟ حکم نے کہا کہ اُن کو کذاب کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ اب آپ جو حکم کریں اس پہ میں عمل کروں گا۔ یہ سُن کر امام ع نے فرمایا: سبحان اللہ، میرے والد نے تو مجھ سے یہ فرمایا ہے کہ میری والدہ ماجدہ کا حق مہر بھی اسی مال سے ادا کیا گیا جو مختار نے بھیجا تھا۔ کیا مختار نے ہمارے گھروں کی تعمیر نہیں کی؟ کیا انہوں نے ہمارے قاتلوں کو نہیں مارا تھا اور ہمارے خون ناحق کا بدلہ نہیں لیا؟ پس اللہ عز و جل اُن پہ رحمت فرمائے۔ میرے والد نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مختار کو فاطمہ بنت علی ع سے تکلم کا شرف حاصل تھا وہ ان کی خدمت کرتے اور بچھونا تک بچھاتے تھے اور انہیں سے مختار نے احادیث لی ہیں۔ اسکے بعد امام ع نے دو بار فرمایا: اللہ عز و جل تمہارے باپ پہ رحم کرے اور انہوں نے کسی کو ہمارا حق لیئے بغیر نہ چھوڑا انہوں نے ہمارے قاتلوں کو قتل کیا اور ہمارا قصاص طلب کیا۔ (5)
ایسے ہی شیخ کشی بیان کرتے ہیں:
201 جِبْرِيلُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْعُبَيْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ أَسْبَاطٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَمَّادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَزَوَّرٍ، عَنِ الْأَصْبَغِ، قَالَ رَأَيْتُ الْمُخْتَارَ عَلَى فَخِذِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ (ع) وَهُوَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ يَا كَيِّسُ يَا كَيِّسُ.
جبریل بن احمد نے کہا: مجھ سے عبیدی نے بیان کیا جس نے کہا: ہم سے علی بن اسباط نے بیان کیا جس نے عبد الرحمان بن حماد سے جس نے علی بن حزور سے جس نے اصبغ سے روایت کی، اس نے کہا: میں نے مختار کو امیر المؤمنین ع کی گود میں دیکھا اور وہ اسکے سر پر ہاتھ پھیر کر فرما رہے تھے: اے کیس، اے کیس (یعنی اے زیرک و ذہین)۔ (6)
اسکے بعد اس ہی کتاب میں مروی ہے:
202 إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُتَّلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِدْرِيسَ الْقُمِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْكُوفِيُّ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ سَيْفِ بْنِ عَمِيرَةَ، عَنْ جَارُودِ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ (ع) قَالَ مَا امْتَشَطَتْ فِينَا هَاشِمِيَّةٌ وَلَا اخْتَضَبَتْ حَتَّى بَعَثَ إِلَيْنَا الْمُخْتَارُ بِرُءُوسِ الَّذِينَ قَتَلُوا الْحُسَيْنَ (ع).
ابراہیم بن محمد ختلی نے کہا: مجھ سے احمد بن ادریس قمی نے بیان کیا، اس نے کہا: مجھ سے محمد بن احمد نے بیان کیا، جس نے کہا: مجھ سے حسن بن علی کوفی نے بیان کیا جس نے عباس بن عامر سے جس نے سیف بن عمیرہ سے جس نے جارود بن منذر سے جس نے امام صادق ع سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: ہم میں ہاشمی عورتوں نے کھنگی نہیں کی اور نہ خضاب کیا حتی کہ مختار نے ہمارے پاس انکے سروں کو بھیجا جنہوں نے حسین ع کو قتل کیا تھا۔ (7)
سید خوئی: یہ روایت صحیح ہے۔ (معجم رجال الحديث، ج 18، ص 93، الرقم: 12185)
آصف محسنی: یہ حدیث معتبر ہے۔ (معجم الأحاديث المعتبرة، الرقم: 258)
اور اس روایت کی سند صحیح ہے۔ اس روایت کے علاوہ باقی مدح کی سب روایات من حیث السند ضعیف ہیں – ہماری اس متعلق تنبیہ دیھان میں رہے – مگر ان روایات کو اجمالاً دیکھا جائے تو مدح اجرح و اقوی نظر آتی ہے۔
شیخ کشی نے ایک روایت بیان کی ہے:
203 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَمْرِيُّ الْمَكِّيُّ، قَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ (ع) لَمَّا أُتِيَ بِرَأْسِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ وَرَأْسِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ فَخَرَّ سَاجِداً وَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَدْرَكَ لِي ثَارِي مِنْ أَعْدَائِي، وَجَزَى اللَّهُ الْمُخْتَارَ خَيْراً.
مجھ سے محمد بن مسعود نے بیان کیا جس نے کہا مجھ سے ابو الحسن علی بن ابی علی خزاعی نے بیان کیا جس نے کہا مجھ سے خالد بن یزید عمری مکی نے بیان کیا جس نے کہا مجھ سے حسین بن زید بن علی بن حسین نے بیان کیا جس نے کہا مجھ سے عمر بن علی بن حسین نے بیان کیا کہ امام علی بن حسین ع کے پاس جب عبید اللہ بن زیاد اور عمر بن سعد کا سر لایا گیا تو راوی کہتے ہیں: امام سجدہ ریز ہوگئے اور فرمایا: سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس نے مجھے میرے دشمنان سے بدلہ دکھایا اور اللہ مختار کو اچھی جزاء دے۔ (8)
مختار کی مذمت میں جو روایات وارد ہوئی ہیں وہ یہ ہیں:
198 مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ وَعُثْمَانُ بْنُ حَامِدٍ، قَالا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ الرَّازِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْخَطَّابِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَخْرَفِ، عَنْ حَبِيبٍ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ (ع) قَالَ كَانَ الْمُخْتَارُ يَكْذِبُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ (ع).
محمد بن حسن اور عثمان بن حامد دونوں نے کہا: ہم سے محمد بن یزداد رازی نے بیان کیا جس نے محمد بن حسین بن ابی خطاب سے جس نےعبد اللہ بن مزخرف سے جس نے حبیب خثعمی سے جس نے امام صادق ع سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: مختار امام زین العابدین ع کے خلاف جھوٹ بولا کرتا تھا۔ (9)
اس روایت کی سند پر علماء کی تحکیم:
علی بروجردی: سند حسن (اچھی) ہے۔ (طرائف المقال، ج 2، ص 590)
آصف محسنی: حدیث میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ (مشرعة البحار، ج 2، ص 159)
مقدس اردبیلی: سند حسن ہے اور متن واضح ہے۔ (جامع الرواة، ج 2، ص 221)
اور ابن طاووس لکھتے ہیں:
أقول: ان هذا الحديث يحتاج إلى تعديل
میں کہتا ہوں: اس حدیث کو توجیہ کی ضرورت ہے۔ (التحرير الطاووسي / 558)
اور بظاہر یہی واحد روایت ہے مذمت کی جو سنداً قوی ہے۔ شیخ کشی نے مغیرہ بن سعید کے بیان میں یہی روایت کچھ الگ سند سے نقل کی ہے:
404 مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَامِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنِ الْمُزَخْرَفِ، عَنْ حَبِيبٍ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ (ع) قَالَ كَانَ لِلْحَسَنِ (ع) كَذَّابٌ يَكْذِبُ عَلَيْهِ وَلَمْ يُسَمِّهِ، وَكَانَ لِلْحُسَيْنِ (ع) كَذَّابٌ يَكْذِبُ عَلَيْهِ وَلَمْ يُسَمِّهِ، وَكَانَ الْمُخْتَارُ يَكْذِبُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ (ع)، وَكَانَ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَعِيدٍ يَكْذِبُ عَلَى أَبِي.
محمد بن حسن اور عثمان بن حامد نے کہا: مجھ سے محمد بن یزداد نے بیان کیا جس نے محمد بن حسین سے جس نے مزخرف سے جس نے حبیب خثعمی سے جس نے امام صادق ع سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: امام حسن ع کے پاس ایک جھوٹا تھا جو ان کے خلاف جھوٹ بولتا تھا، انہوں نے اسکو نام نہیں لیا۔ اور امام حسین ع کے پاس ایک جھوٹا تھا جو انکے خلاف جھوٹ بولتا تھا، انہوں نے اسکو نام نہیں لیا۔ اور مختار امام زین العابدین ع کے خلاف جھوٹ بولتا تھا۔ اور مغیرہ بن سعید میرے والد (امام باقر ع) کے خلاف جھوٹ بولتا تھا۔ (10)
آیت اللہ محسنی نے اپنی کتاب معجم الأحاديث المعتبرة میں ان دونوں احادیث کو نقل کرکے لکھا ہے:
اقول: وعليه فالرواية غير معتبرة...
میں کہتا ہوں: یہ روایت غیر معتبر ہے۔۔۔ (معجم الأحاديث المعتبرة / 1 / 191)
چونکہ اس میں سندی اضطراب واقع ہے جیسا کہ ملاحظہ ہو سکتا ہے جہاں پچھلی روایت میں محمد بن حسن اور عثمان بن حامد دونوں محمد بن یزداد سے روایت کر رہے تھے، مگر یہاں پر محمد بن حسن، عثمان بن حامد سے روایت لے رہا ہے اور شیخ کشی کے مشائخ میں سے محمد بن حسن تین ہیں جو کہ تینوں مجھول ہیں جس سے حدیث ضعیف ہوجاتی ہے۔ پھر شیخ کشی نے روایت نقل کی ہے:
200 جِبْرِيلُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنِي الْعُبَيْدِيُ ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ (ع) قَالَ كَتَبَ الْمُخْتَارُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ إِلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ (ع) وَبَعَثَ إِلَيْهِ بِهَدَايَا مِنَ الْعِرَاقِ، فَلَمَّا وَقَفُوا عَلَى بَابِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ دَخَلَ الْآذِنُ يَسْتَأْذِنُ لَهُمْ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُهُ فَقَالَ أَمِيطُوا عَنْ بَابِي فَإِنِّي لَا أَقْبَلُ هَدَايَا الْكَذَّابِينَ وَلَا أَقْرَأُ كُتُبَهُمْ، فَمَحَوُا الْعُنْوَانَ وَكَتَبُوا الْمَهْدِيَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ، فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: وَاللَّهِ لَقَدْ كَتَبَ إِلَيْهِ بِكِتَابٍ مَا أَعْطَاهُ فِيهِ شَيْئاً إِنَّمَا كَتَبَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ خَيْرِ مَنْ طَشَى وَمَشَى، فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ فَقُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ (ع) أَمَّا الْمَشْيُ فَأَنَا أَعْرِفُهُ فَأَيُّ شَيْءٍ الطَّشْيُ فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ (ع) الْحَيَاةُ.
جبریل بن احمد نے کہا مجھ سے عبیدی نے بیان کیا جس نے کہا مجھ سے محمد بن عمرو نے بیان کیا جس نے یونس بن یعقوب سے جس نے امام باقر ع سے روایت کی جو فرماتے ہیں: مختار بن ابی عبید نے امام علی بن حسین ع کو خط لکھا اور ان کے پاس عراق سے تحفے بھیجے۔ پس جب وہ امام علی بن حسین ع کے دروازے پر رُکے کوئی اجازت لینے کیلئے داخل ہوا ان کیلئے۔ انکے پاس امام ع کا پیغام پہنچانے والا آیا اور کہا: میرے دروازے سے ہٹ جاؤ کیونکہ میں جھوٹوں کے تحفے قبول نہیں کرتا اور نہ ہی انکے خطوط پڑھتا ہوں۔ پس انہوں نے عنوان بدل دیا اور مہدی محمد بن علی لکھا دیا۔ امام باقر ع نے فرمایا: خدا کی قسم، اس نے امام کو ایک خط لکھا تھا جس میں اس نے انکو کچھ نہیں دیا تھا، اس نے فقط یہ لکھا تھا انکو: اے بہترین جینے اور چلنے والے کے فرزند۔ ابو بصیر کہتے ہیں: میں نے امام باقر ع نے عرض کیا: مجھے چلنے (مشی) کا تو مطلب معلوم ہے مگر "طشی" کا کیا مطلب ہے؟ امام ع نے فرمایا: زندگی۔ (11)
اس روایت کی سند مُرسَل ہے لہذا ضعیف ہے کیونکہ یونس بن یعقوب، امام صادق ع، امام کاظم ع اور امام رضا ع کے صحابی ہیں اور امام باقر ع سے بلا واسطہ روایت کبھی نہیں کرتے۔ اکثر موارد میں یہ امام باقر ع سے بواسطہ أبو بصیر روایت کرتے ہیں اور اس روایت کے آخر میں بھی أبو بصیر کا کلام مذکور ہے مگر بظاہر سند سے أبو بصیر کا نام ساقط ہوگیا ہے۔
204 مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَلِيٍّ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَمْرِيُّ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍ، إِنَّ الْمُخْتَارَ أَرْسَلَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ (ع) بِعِشْرِينَ أَلْفَ دِينَارٍ، فَقَبِلَهَا وَبَنَا بِهَا دَارَ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَدَارَهُمُ الَّتِي هُدِمَتْ، قَالَ، ثُمَّ إِنَّهُ بَعَثَ إِلَيْهِ بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ بَعْدَ مَا أَظْهَرَ الْكَلَامَ الَّذِي أَظْهَرَهُ، فَرَدَّهَا وَلَمْ يَقْبَلْهَا.
وَ اَلْمُخْتَارُ هُوَ اَلَّذِي دَعَا اَلنَّاسَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ اِبْنِ اَلْحَنَفِيَّةِ وَسُمُّوا اَلْكَيْسَانِيَّةَ وَهُمُ اَلْمُخْتَارِيَّةُ وَكَانَ لَقَبُهُ كَيْسَانَ وَلُقِّبَ بِكَيْسَانَ لِصَاحِبِ شُرَطِهِ اَلْمُكَنَّى أَبَا عَمْرَةَ وَكَانَ اِسْمُهُ كَيْسَانَ وَقِيلَ إِنَّهُ سُمِّيَ كَيْسَانُ بِكَيْسَانَ مَوْلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ اَلَّذِي حَمَلَهُ عَلَى اَلطَّلَبِ بِدَمِ اَلْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَدَلَّهُ عَلَى قَتَلَتِهِ وَكَانَ صَاحِبَ سِرِّهِ وَاَلْغَالِبَ عَلَى أَمْرِهِ وَكَانَ لاَ يَبْلُغُهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَعْدَاءِ اَلْحُسَيْنِ أَنَّهُ فِي دَارٍ أَوْ فِي مَوْضِعٍ إِلاَّ قَصَدَهُ وَهَدَمَ اَلدَّارَ بِأَسْرِهَا وَقَتَلَ كُلَّ مَنْ فِيهَا مِنْ ذِي رُوحٍ وَكُلُّ دَارٍ بِالْكُوفَةِ خَرَابٌ فَهِيَ مِمَّا هَدَمَهَا وَأَهْلُ اَلْكُوفَةِ يَضْرِبُونَ بِهَا اَلْمَثَلَ فَإِذَا اِفْتَقَرَ إِنْسَانٌ قَالُوا دَخَلَ أَبُو عَمْرَةَ بَيْتَهُ حَتَّى قَالَ فِيهِ اَلشَّاعِرُ:
إِبْلِيسُ بِمَا فِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَبِي عَمْرَةَ يُغْوِيكَ وَيُطْغِيكَ وَلاَ يُعْطِيكَ كِسْرَةً
محمد بن مسعود نے کہا مجھ سے ابن ابی علی خزاعی نے بیان کیا جس نے کہا مجھ سے خالد بن یزید عمری نے بیان کیا جس نے حسین بن زید سے جس نے عمر بن علی سے روایت کی کہ مختار نے امام علی بن حسین ع کو بیس ہزار دینار بھیجے تو آپ نے وہ قبول فرمائے اور ان سے عقیل بن ابی طالب کا گھر بنوایا اور انکا اپنا گھر جو منہدم ہو چکا تھا۔ پھر مختار نے انکو چالیس ہزار دینار بھیجے اسکے بعد جو کلام اس نے ظاہر کیا تھا تو امام ع نے وہ مال لوٹا دیا اور قبول نہیں کیا۔
اور مختار لوگوں کو محمد بن علی بن ابی طالب بن حنفیہ کی امامت کی طرف دعوت دیتا تھا۔ اور انکا نام کیسانیہ ہے جو کہ مُختاریہ ہیں اور اسکا لقب کیسان تھا۔ اسکا لقب کیسان اس لیئے ہوا کہ انکے شرطہ کا قائد تھا جسکی کنیت ابو عمرہ تھی اور اسکا نام کیسان تھا۔ اور کہا جاتا ہے کہ انکا لقب کیسان اس لیئے رکھا گیا کیونکہ کیسان امام علی بن ابی طالب ع کے آزاد کردہ غلام کا نام تھا، اور یہی تھا جس نے مختار کو حسین ع کے خون کا بدلہ لینے پر لگایا اور انکے قاتلین تک لے کر گئے اور وہ انکے رازدار تھے اور انکے معاملے میں غالب تھے۔ جب بھی انکو پتا چلتا کہ امام حسین ع کے دشمنان میں سے کوئی اپنے گھر میں ہے یا کسی جگہ پر ہے تو وہ اسکے تعاقب میں نکل جاتے تھے اور گھر کو پوری طرح منہدم کردیتے اور اس میں جو بھی ذی روح ہوتا اسکو قتل کردیتے اور جو بھی کوفہ میں ویران گھر ہے وہ اس میں سے ہے جو انہوں نے منہدم کردیا تھا۔ اور اہل کوفہ اسکی ضرب المثل دیتے ہیں اور جب انسان فقیر ہوتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ اسکے گھر تو ابو عمرہ داخل ہوگیا ہے۔ شاعر نے اسکے متعلق کہتا ہے:
ابلیس جیسا بھی ہے، ابو عمرہ سے بہتر ہے، (أبو عمرہ) تمہیں ورغلاتا ہے اور سرکشی کرتا ہے، اور (روتی کا) ایک ٹکڑا بھی نہیں دیتا۔ (12)
(رجال کشی کے بعض نسخوں میں "يطغيك كسره" کی بجائے "يعطيك كسرة" لکھا ہوا ہے)
اسکے علاوہ شیخ کشی نے ایک اور روایت نقل کی ہے جس کا حصہ ہے:
وَكَانَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ (ع) قَدِ ابْتُلِىَ بِالْمُخْتَارِ
امام ع نے فرمایا: اور امام حسین بن علی ع کو مختار سے آزمائش کی گئی (یعنی تکلیف پہنچی اس سے)۔ (13)
اور شیخ آصف محسنی نے اس روایت کو نقل کرکے اس پر تبصرہ کیا ہے:
لكن أورد عليه بانه لم يسمع كذبة من المختار حتى في رواية ضعيفة على الحسين عليه السلام واُحتمل أنّه غير المختار المعروف فتأمل. ويحتمل ان كلمة الحسين بن علي مقلوبة كلمة علي بن الحسين والله العالم.
مگر میں یہ ذکر کرتا ہوں یہاں کہ مختار نے امام حسین ع کے خلاف کوئی جھوٹ نہیں بولا یہاں تک کہ ضعیف روایت میں بھی ایسا نہیں ہے۔ یہ احتمال ہے کہ یہ کوئی اور مختار ہے نہ کہ معروف والا، اس پر تامل کیجئے۔ اور احتمال ہے کہ لفظ حسین بن علی اُلٹ ہے (کاتب کی غلطی سے) لفظ علی بن حسین (امام سجاد) ع کیلئے، واللہ اعلم۔ (14)
اور یہ ایک معقول نقطہ ہے کیونکہ اگر یہ درست ہے کہ امام حسین ع کو مختار سے اذیت ہوئی تو یہ مختار ثقفی کے علاوہ کوئی اور مختار ہونے کا قوی امکان رکھتا ہے۔ سید خوئی نے بھی اپنی معجم رجال الحديث میں اس روایت کو نقل کرکے یہی لکھا ہے کہ مختار ثقفی کوفہ میں تھے جبکہ امام حسین ع مدینہ میں تھے اور کسی ضعیف روایت میں بھی مختار کا امام حسین ع پر جھوٹ بانھنا ثابت نہیں ہے تو امکان ہے کہ یہ کوئی اور مختار ہے۔ (معجم رجال الحديث، ج 19، ص 105، الرقم: 12185)
سید خوئی ان تمام مذمتی روایات کو نقل کرکے لکھتے ہیں:
وهذه الروايات ضعيفة الأسناد جدا، على أن الثانية منهما فيها تهافت وتناقض ولو صحت فهي لا تزيد على الروايات الذامة الواردة في حق زرارة، ومحمد بن مسلم، وبريد، وأضرابهم.
اور یہ روایات سند کے لحاظ سے بہت ضعیف ہیں، ان میں سے دوسری روایت میں تہافت اور تضاد ہے اور اگر یہ صحیح بھی ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے زرارہ، محمد بن مسلم، برید اور ان جیسوں کے متعلق مذمت کی روایات وارد ہوئی ہیں۔ (15)
شیخ صدوق نے علل الشرائع میں مرسل (بغیر سند) روایت نقل کی ہے کہ جب امام حسن ع ساباط نامی علاقے میں پہنچے تو مروی ہے:
فقال المختار لعمه تعال حتى نأخذ الحسن و نسلمه إلى معاوية فيجعل لنا العراق فبدر بذلك الشيعة من قول المختار لعمه فهموا بقتل المختار فتلطف عمه لمسألة الشيعة بالعفو عن المختار ففعلوا...
مختار نے اپنے چچا سے کہا: آئیے ہم حسن ع کو گرفتار کرکے معاویہ کے حوالے کرتے ہیں تاکہ کو وہ ہمارا کردے (حکومت دیکر)۔ مختار کا اپنے چچا کو یہ بات کہنے پر شیعوں کو حیرت ہوئی اور انہوں نے مختار کو قتل کرنا چاہا تو مختار کے چچا نے ان سے لطف کرکے شیعوں سے مختار کو درگزر کرنے کا کہا تو انہوں نے یہی کیا۔۔۔ (16)
یہ روایت مرسل ہے جسکے سبب قابل استدلال نہیں ہے، سید خوئی نے یہ اظہار کیا ہے کہ ممکن ہے مختار نے اپنے چچا سے یہ اس لیئے کہا تھا تاکہ انکو آزما سکیں اور وہ سنجیدہ نہیں تھے اس بات میں، وہ لکھتے ہیں:
على أن لو صحت لأمكن أن يقال إن طلب المختار هذا لم يكن طلبا جديا وإنما أراد بذلك أن يستكشف رأي عمه، فإن علم أن عمه يريد ذلك لقام باستخلاص الحسن (عليه السلام)، فكان قوله هذا شفقة منه على الحسن (عليه السلام). وقد ذكر بعض الأفاضل أنه وجد رواية بذلك عن المعصوم (عليه السلام).
اگر یہ روایت ٹھیک بھی ہے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ مختار نے یہ سنجید بات نہیں کی تھی مگر انکا ارادہ تھا کہ اپنے چچا کی رائے جان سکیں، اگر انکو پتا چلتا کہ انکے چچا یہ چاہتے ہیں تو وہ امام حسن ع کو بچانے کھڑے ہوتے، پس یہ ان کی جانب سے امام حسن ع پر شقفت تھی۔ فاضل افراد میں سے کسی نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے معصوم ع سے اس پر روایت بھی دیکھی ہے۔ (17) اور علامہ سید محسن امین نے بھی یہی توجیہ کی ہے کہ وہ اپنے چچا کو آزما رہے تھے (أعيان الشيعة / 7 / 230)
مختار کے متعلق کچھ اور مذمتی روایات ہیں جنکے مطابق وہ آتش جہنم میں ہوگا جسکے بعد امام حسین ع اسکو بچا کر شفاعت کریں گے۔ یہ روایات درج ذیل ہیں:
شیخ طوسی نے تہذیب الاحکام میں نقل کیا ہے:
173 مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَلِيٍّ الْقَيْسِيِّ عَنْ بَعْضِ مَنْ رَوَاهُ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ قَالَ لِي يَجُوزُ النَّبِيُّ ص الصِّرَاطَ يَتْلُوهُ عَلِيٌّ وَيَتْلُو عَلِيّاً الْحَسَنُ وَيَتْلُو الْحَسَنَ الْحُسَيْنُ فَإِذَا تَوَسَّطُوهُ نَادَى الْمُخْتَارُ الْحُسَيْنَ ع يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع إِنِّي طَلَبْتُ بِثَارِكَ فَيَقُولُ النَّبِيُّ ص لِلْحُسَيْنِ ع أَجِبْهُ فَيَنْقَضُّ الْحُسَيْنُ ع فِي النَّارِ كَأَنَّهُ عُقَابٌ كَاسِرٌ فَيُخْرِجُ الْمُخْتَارَ حُمَمَةً وَلَوْ شُقَّ عَنْ قَلْبِهِ لَوُجِدَ حُبُّهُمَا فِي قَلْبِهِ
محمد بن علی بن محبوب نے محمد بن احمد بن ابی قتادہ سے جس نے احمد بن ہلال سے جس نے امیہ بن علی قیسی سے جس نے روایت کرنے والے کسی سے جس نے امام صادق ع سے روایت کی، راوی نے کہا: امام ع نے مجھ سے فرمایا: نبی ص پُل صراط سے گذریں گے اور انکے پیچھے علی ع ہونگے، اور علی ع کے پیچھے حسن ع ہونگے اور حسن ع کے پیچھے حسین ع ہونگے۔ پس جب وہ اسکے بیچ میں پہنچیں گے مختار نداء دے گا امام حسین ع کو: اے ابا عبد اللہ ع! میں نے آپ کے خون کا بدلہ لیا تھا۔ تو نبی ص حسین ع سے فرمائیں گے: اسکی اجابت کرو۔ تو حسین ع جہنم میں ایسے کودیں گے کہ گویا وہ ایک شکار کرنے والا چیل ہیں اور مختار کو گرتے گرتے بچا لیں گے اور اگر مختار کے دل کو چاکا جاتا تو اس کے دل میں ان دو کی محبت ملتی۔ (18) "ان دو" کی محبت سے مراد علامہ مجلسی کے مطابق یا تو مال و ریاست ہے یا امام حسن ع و حسین ع یا پھر یہ منفی معنی میں ہے۔
علامہ مجلسی نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے:
الحديث الثالث و السبعون و المائة: ضعيف.
حدیث 173: ضعیف ہے۔ (ملاذ الأخيار / 3 / 312)
سید علی بروجردی نے بھی کہا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ (طرائف المقال / 2 / 589)
اس ہی طرح ابن ادریس حلی نے روایت نقل کی ہے:
أَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ زُرْعَةَ عَنْ سَمَاعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ يَقُولُ: إِذَا كَانَ يَوْمُ اَلْقِيَامَةِ مَرَّ رَسُولُ اَللَّهِ بِشَفِيرِ اَلنَّارِ وَأَمِيرُ اَلْمُؤْمِنِينَ وَاَلْحَسَنُ وَاَلْحُسَيْنُ فَيَصِيحُ صَائِحٌ مِنَ اَلنَّارِ يَا رَسُولَ اَللَّهُ أَغِثْنِي يَا رَسُولَ اَللَّهِ ثَلاَثاً قَالَ فَلاَ يُجِيبُهُ قَالَ فَيُنَادِي يَا أَمِيرَ اَلْمُؤْمِنِينَ يَا أَمِيرَ اَلْمُؤْمِنِينَ ثَلاَثاً أَغِثْنِي فَلاَ يُجِيبُهُ قَالَ فَيُنَادِي يَا حُسَيْنُ يَا حُسَيْنُ يَا حُسَيْنُ أَغِثْنِي أَنَا قَاتِلُ أَعْدَائِكِ قَالَ فَيَقُولُ لَهُ رَسُولُ اَللَّهِ قَدِ اِحْتَجَّ عَلَيْكَ قَالَ فَيَنْقَضُّ عَلَيْهِ كَأَنَّهُ عُقَابٌ كَاسِرٌ قَالَ فَيُخْرِجُهُ مِنَ اَلنَّارِ قَالَ فَقُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَمَنْ هَذَا جُعِلْتُ فِدَاكَ قَالَ اَلْمُخْتَارُ قُلْتُ لَهُ وَلِمَ عُذِّبَ بِالنَّارِ وَقَدْ فَعَلَ مَا فَعَلَ قَالَ إِنَّهُ قَالَ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْهُمَا شَيْءٌ وَاَلَّذِي بَعَثَ مُحَمَّداً بِالْحَقِّ لَوْ أَنَّ جَبْرَئِيلَ وَمِيكَائِيلَ كَانَ فِي قَلْبَيْهِمَا شَيْءٌ لَأَكَبَّهُمَا اَللَّهُ فِي اَلنَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمَا .
ابان بن تغلب نے جعفر بن ابراہیم سے جس نے زرعہ سے جس نے سماعہ سے روایت کی جو کہتے ہیں: میں نے امام صادق ع کو فرماتے سنا: بروز قیامت رسول اللہ ص، امیر المؤمنین ع، حسن ع اور حسین ع جہنم کے کنارے سے گذریں گے تو ایک چیخنے والا آتش جہنم میں سے تین مرتبہ چیخے گا: یا رسول اللہ، میری مدد کیجئے، یا رسول اللہ! امام ع نے فرمایا: تو آپ اسکی اجابت نہیں فرمائیں گے۔ امام ع نے فرمایا: پس وہ تین مرتبہ نداء دے گا: یا امیر المؤمنین، یا امیر المؤمنین، میری مدد کیجئے، مگر وہ اسکی اجابت نہیں کریں گے۔ امام ع نے فرمایا: تو وہ نداء دے گا: یا حسین، یا حسین، یا حسین، میری مدد کیجئے، میں آپ کے دشمنان کا قاتل ہوں تو رسول اللہ ص اُن سے فرمائیں گے: اس نے تم سے احتجاج کیا ہے۔ امام ع فرماتے ہیں: تو حسین ع اس پر ایسے کودیں گے جیسے کوئی شکاری چیل ہوتا ہے اور امام فرماتے ہیں: حسین ع مختار کو جہنم سے نکال دیں گے۔ راوی نے کہا: تو میں نے امام صادق ع سے عرض کیا: یہ کون شخص ہوگا، میں آپ پر قربان جاؤں؟ امام ع نے فرمایا: مختار۔ میں نے ان سے عرض کیا: اسکو عذاب کیوں ہوگا حالانکہ اس نے جو کیا تھا وہ کیا تھا؟ راوی نے کہا: امام ع نے جواب دیا: اسکے دل میں ان دونوں کیلئے کوئی بات تھی، اور اس ذات کی قسم جس نے محمد ص کو حق کے ساتھ بھیجا، اگر جبرئیل و میکرائیل دونوں کے دلوں میں بھی کوئی بات ہوتی تو اللہ ان دونوں کو مُنہ کے بل جہنم میں پھینک دیتا۔ (19)
یہ روایت ابن ادریس حلی نے امام صادق ع کے صحابی ابان بن تغلب کی کتاب سے نقل کی ہے۔ اور سید خوئی نے ان دونوں روایات کو نقل کرکے لکھا ہے کہ یہ دونوں روایات ضعیف ہیں، تہذیب الاحکام والی کی سند میں ارسال ہے اور امیہ بن علی قیسی راوی کی وجہ سے بھی ضعیف ہے، اور ابن ادریس کی کتاب میں جو روایت ہے اسکی سند عجیب و غریب ہے، اولاً جعفر بن محمد حضرمی کی وثاقت ثابت نہیں اور ابان کا جعفر بن محمد حضرمی سے روایت کرنا عجیب ہے بالاضافہ اسکے کہ جعفر کا زرعہ سے روایت کرنا بھی مشکوک ہے کیونکہ ان دونوں کا طبقہ الگ ہے، اور سید خوئی کے مطابق ابن ادریس کی کتاب میں بہت سی غلطیاں ہیں۔ (معجم رجال الحديث / 19 / 108 / 12185) ابن داود حلی نے اپنی رجال کی کتاب میں مختار کی مدح میں روایات نقل کرکے کشی کا قول نقل کیا ہے:
وما روي فيه مما ينافي ذلك قال الكشي نسبته إلى وضع العامة أشبه
اور جو مروی ہے جو کہ مدح کے منافی ہے اس پر شیخ کشی کہتے ہیں: اسکی نسبت عامہ (اہل سنت) کے گھڑنے سے ملتی ہے۔ (20)
مگر ہمیں شیخ کشی کی موجودہ کتاب میں یہ عبارت نہیں ملتی ان سے، ممکن ہے ابن داود کے پاس رجال کشی کا ایسا نسخہ تھا جس میں یہ عبارت موجود تھی، یہی بات سید خوئی نے کہی ہے اور کہا ہے کہ مذمت کی روایات کو تقیہ پر حمل کیا جا سکتا ہے۔
اور سعد بن عبد اللہ اشعری قمی نے اپنی کتاب المقالات والفرق میں لکھا ہے:
57 - وفرقة قالت بامامة محمّد بن عليّ بن أبي طالب ابن الحنفية بعد على ابنه لانه كان صاحب راية أبيه يوم البصرة دون اخويه الحسن والحسين عليهم السّلام، فسمّوا الكيسانية وهم المختارية، وإنّما سمّوا بذلك لان رئيسهم الّذي دعاهم إلى ذلك المختار بن أبي عبيد الثقفي... وكان يزعم أبو عمره كيسان بن عمران جبريل يأتي المختار بالوحى من عند اللّه، فيخبره بذلك ولا يراه، وقال انّه يوحى إليه وان جبرئيل وميكائيل ينزلان عليه بالوحي...
اور ایک فرقہ محمد بن علی بن ابی طالب بن حنفیہ کی امامت کا قائل ہے کیونکہ بصرہ کے دن یہی پرچم اٹھائے ہوئے تھے اپنے دونوں بھائی حسن ع و حسین ع کی بجائے، پس انکا نام کیسانیہ ہوگیا اور یہ مُختاریہ ہیں، انکا نام یہ اس لیئے رکھا گیا کیونکہ انکا سالار جس نے انکو اس نظریے کی طرف بلایا مختار بن ابی عبید ثقفی تھا۔۔۔ اور أبو عمرہ کیسان بن عمران کہتا تھا کہ جبریل ع مختار کے پاس وحی لیکر آتے ہیں اللہ کی جانب سے اور وہ انکو اسکی خبر دیتے ہیں مگر وہ جبریل کو دیکھتے نہیں، اور اس نے کہا کہ ان کو وحی ہوتی ہے اور جبریل و میکائیل دونوں ان کے پاس وحی لیکر نازل ہوتے ہیں۔۔۔ (21)
اور باقی کلام سعد بن عبد اللہ نے وہی نقل کیا ہے جو ہم اوپر شیخ کشی سے اس متعلق ذکر کر چکے ہیں۔ یہی بات نوبختی نے اپنی کتاب فرق الشيعة میں نقل کی ہے (22)
سید خوئی نے اسکو ذکر کرکے کہا ہے کہ کیسانیہ کی طرف جو مختار کو نسبت دی جاتی ہے یہ باطل ہے کیونکہ محمد بن حنفیہ نے امامت کا دعویٰ ہی نہیں کیا تھا اور مختار تب قتل ہوگیا تھا جب محمد بن حنفیہ زندہ تھے، نیز محمد بن حنفیہ کی وفات کے بعد کیسانیہ فرقہ وجود میں آیا تھا۔ اور جہاں تک کیسان کے لقب کی بات ہے تو ممکن ہے چونکہ امام علی ع نے انکو دو مرتبہ کیس کہا تو یہ تثنیہ ہوکر کیسان یعنی دو کیس بن گیا۔ (معجم رجال الحديث / 19 / 109 – 110 / 12185)
اور آقای تستری نے بھی یہی بات ذکر کی ہے مختار سے کیسانیہ کی نفی کرتے ہوئے:
وأما قولهم بكيسانيته فغير معقول ، لأنه مذهب حدث بعد المختار وبعد محمد ابن الحنفية ، بل لا يمكن قوله بإمامة محمد وقد قتل في حياة محمد ولم يكن محمد مدعيا للإمامة ؛ وإن صح أنه ادعاها يوما بعد الحسين ( عليه السلام ) كما في خبر تضمن ذاك الخبر أنه تاب وأناب .
جہاں تک انکا کہنا ہے کہ وہ کیسانیہ فرقے کا تھا تو یہ غیر معقول ہے، کیونکہ یہ مذہب تو مختار اور محمد بن حنفیہ کے بعد وجود میں آیا تھا، بلکہ یہ ممکن نہیں کہ مختار، محمد (بن حنفیہ) کی امامت کو مانتا ہو کیونکہ وہ تو محمد کی زندگی میں ہی قتل ہوگئے تھے اور محمد امامت کے مدعی ہی نہیں تھے، اگر یہ ٹھیک بھی ہے کہ انہوں نے یہ دعوی کیا تھا امام حسین ع کے بعد جیسا کہ ایک روایت میں ہے تو اس روایت کے ضمن میں ہے کہ انہوں نے توبہ کرکے بازگشت کرلی تھی۔ (23)
تفسیر منسوب بہ امام عسکری ع میں ایک روایت ہے جو مختار کی مذمت میں ہے مگر اس کا متن مضطرب ہے چونکہ اسکے مطابق حجاج بن یوسف نے مختار کو گرفتار کیا قتل کرنے کیلئے (24) لیکن ان دونوں کا زمانہ جُدا ہے اور یہ کتاب تفسیر قابل اعتبار نہیں ہے علماء و محققین کے نزدیک۔ آقای تستری نے لکھا ہے:
وبالجملة: كون ما ذكر في الخبر موضوعا واضح مقطوع.
اور بالجملہ، جو (تفسیر عسکری) کی روایت میں مذکقور ہے وہ قطعی و واضح طور پر گھڑا ہوا ہے۔ (قاموس الرجال / 10 / 15)
علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں حسن بن سلیمان حلی کی کتاب مختصر بصائر الدرجات سے ایک روایت نقل کی ہے جسکے مطابق مختار نے امام سجاد ع کو ایک لاکھ درہم بھیجے مگر امام ع نے اسکو استعمال نہیں کیا اور وہ گھر میں پڑے رہے، پھر جب مختار قتل ہوا تو امام ع نے خلیفہ عبد الملک کو کہا کہ وہ یہ لے لے اور امام ع مختار پر لعنت کرتے تھے اور اسکو جھوٹا کہتے تھے کہ وہ خدا پر جھوٹ باندھتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کو وحی آتی ہے (25)، مگر یہ روایت خود مختصر بصائر الدرجات کے موجودہ طبع میں ہمیں نہ مل سکی اور اگر وجود رکھتی بھی ہے تو مرسل اور بلا اسناد ہے، البتہ اس سے ملتے جلتے متن کی بات ابن سعد کی طبقات میں ملتی ہے (طبقات ابن سعد / 5 / 164) اور طبری نے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔ پس اگر ہم تمام روایات کا استقراء کریں تو نظر آتا ہے کہ مدح و ذم شیعی کتب میں موجود ہے، مگر تعداد کے لحاظ سے مدح کی روایات زیادہ ہیں جسکے سبب اکثر امامی علماء نے مدح کو فوقیت دی ہے اور مذمت کی روایات کی تضعیف اور تاویل کی ہے۔
علماء امامیہ کے مختار پر اقوال:
آقای رہبر لکھتے ہیں:
لذا میبینیم امام سجاد (ع) در قضیة مختار اعلام هماهنگی نمیکنند، گرچه در بعضی از روایات آمده است که ارتباطاتی پنهانی با مختار داشتند... وحتی در بعضی از روایات گفته میشود که امام سجاد نسبت به مختار بدگویی میکنند، و این هم خیلی طبیعی به نظر میرسد که این یک عمل تقیه آمیزی باشد که رابطهای بین آنها احساس نشود. البته اگر مختار پیروز میشد حکومت را بهدست اهلبیت میداد، اما در صورت شکست اگر آن، دامن امام بین امام سجاد و او رابطة مشخص و واضحی وجود می داشت یقینا نِقمتِ سجاد (ع) و شیعیان مدینه را هم میگرفت و رشتة تشیع قطع میشد. لذا امام سجاد هیچگونه رابطة آشکاری را با او برقرار نمیکنند.
پس ہم دیکھتے ہیں کہ امام سجاد ع مختار کے معاملے میں ہمآہنگی کھل کر نہیں بتاتے، اگرچہ بعض روایات میں آیا ہے کہ امام ع کے پوشیدہ تعلقات تھے مختار کے ساتھ۔۔۔ اور حتی کہ بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ امام سجاد ع مختار کی برائی کرتے تھے، اور یہ بھی بہت طبیعی چیز لگتی ہے کہ یہ تقیہ میں ہوگا تاکہ امام ع اور مختار کے درمیان کے رابطے کا (کسی کو) احساس نہ ہو۔ البتہ اگر مختار کامیاب ہوگا تو وہ حکومت کو اہل بیت ع کے ہاتھ میں دیتا، لیکن اگر ناکام ہوتا اور امام سجاد ع اور اسکے درمیان واضح رابطہ وجود رکھتا تو یقیناً امام سجاد ع اور شیعوں کی نقمت مدینہ کو بھی پہنچ جاتی اور تشیع کا تعلق ٹوٹ جاتا۔ اس وجہ سے امام سجاد ع نے کسی طرح کا واضح رابطہ نہیں رکھا اسکے ساتھ۔۔۔ (26)
آیت اللہ آصف محسنی:
ولا شك ان عمل المختار صار سببا لمسرّة أهل البيت عليهم السلام ومساءة أعدائهم وهذا لايحتاج فهمه الى رواية وهي فضيلة عظيمة للمختار لكنّها لا تتعلق بوثاقته وصدقه.
اور اس میں شک نہیں کہ مختار کا عمل اہل بیت ع کی خوشی کا سبب بنا اور انکے دشمنوں کے غم کا بھی، اس کو سمجھنے کیلئے روایت کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بہت عظیم فضیلت ہے مختار کیلئے، مگر یہ چیز وثاقت اور سچائی سے تعلق نہیں رکھتی۔ (27)
سید خوئی کے بیانات ہم اوپر نقل کر چکے ہیں کئی مقامات پر، وہ مختار کی مدح کے قائل ہیں اور کیسانیہ فرقے کی سربراہی کی نفی کرتے ہیں اس سے۔ سید خوئی مزید بھی لکھتے ہیں کہ:
أن خروج المختار وطلبه بثار الحسين عليه السلام، وقتلة لقتلة الحسين عليه السلام لا شك في أنه كان مرضيا عند الله، وعند رسوله والأئمة الطاهرين عليهم السلام، وقد أخبره ميثم، وهما كانا في حبس عبيد الله بن زياد، بأنه يفلت ويخرج ثائرا بدم الحسين عليه السلام، ويأتي في ترجمة ميثم... ويظهر من بعض الروايات أن هذا كان بإذن خاص من السجاد عليه السلام.
مختار کا خروج اور امام حسین ع کے خون کا بدلہ لینا اور حسین ع کے قاتلین کو قتل کرنا بلا شک اللہ کی رضاجوئی میں ہے اور اسکے رسول اور ائمہ طاہرین ع کے نزدیک بھی، اور میثم نے مختار کو بتا دیا تھا جب وہ دونوں عبید اللہ بن زیاد کی قید میں تھے کہ مختار رہا ہوجائے گا اور امام حسین ع کے خون کا بدلہ لے گا، میثم کے ذکر میں یہ بات ہم ذکر کریں گے۔۔۔ اور بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ (مختار کا خروج) امام سجاد ع کی خاص اجازت سے تھا۔ (28)
اور شیخ مفید نے الارشاد میں یہی روایت نقل کی ہے، اعلام الوریٰ میں شیخ طبرسی نے بھی نقل کیا ہے، شیخ مفید لکھتے ہیں:
فحبسَه وحبسَ معَه المُختارَ بنَ أبي عُبَيْدٍ ، فقالَ مِيْثَم التّمّارُ للمُختارِ : إِنّكَ تُفْلِتُ وتَخْرُجُ ثائراً بدم الحُسين فتَقتُلُ هذا الّذي يَقتُلُنا.
پس عبید اللہ بن زیاد نے میثم کو قید کردیا اور انکے ساتھ مختار بن ابی عبید کو بھی قید کردیا۔ تو میثم تمار نے مختار سے کہا: تم یہاں سے بچ نکلو گے اور امام حسین ع کے خون کا بدلہ لو گے اور اسکو قتل کرو گے جو ہمیں قتل کر رہا ہے۔ (29)
ابن نما حلی اپنے رسالے میں تفصیلی بحث کے بعد آخر میں لکھتے ہیں:
قال جعفر بن نما مصنّف هذا الثأر: اعلم أنّ كثيرا من العلماء لا يحصل لهم التوفيق بفطنة توقّفهم على معاني الألفاظ، ولا رويّة تنقّلهم من رقدة الغفلة إلى الاستيقاظ. و لو تدبّروا أقوال الأئمة (عليهم السّلام) في مدح المختار، لعلموا أنّه من السابقين المجاهدين الّذين مدحهم اللّه- جلّ جلاله- في كتابه المبين. ودعاء زين العابدين (عليه السّلام) للمختار (رحمه اللّه) دليل واضح، وبرهان لائح على أنّه عنده من المصطفين الأخيار، ولو كان على غير الطريقة المشكورة، ويعلم أنّه مخالف له في اعتقاده، لما كان يدعو له دعاء لا يستجاب، ويقول فيه قولا لا يستطاب، وكان دعاؤه (عليه السّلام) له عبثا، والإمام (عليه السّلام) منزّه عن ذلك. وقد أسلفنا من أقوال الأئمة في مطاوي هذا الكتاب تكرار مدحهم له، ونهيهم عن ذمه، ما فيه غنية لأولي الابصار، وبغية لذوي الاعتبار، وإنما أعداؤه عملوا له مثالب ليباعدوه من قلوب الشيعة، كما عمل أعداء أمير المؤمنين عليه السلام له مساوئ، وهلك بها كثير ممن حاد عن محبته، وحال عن طاعته. فالولي له عليه السلام لم تغيره الأوهام، ولا باحته تلك الأحلام، بل كشف له عن فضله المكنون، وعلمه المصون، فعمل في قضية المختار ما عمل مع أبي الأئمة الأطهار. وقد وفيت بما وعدت من الاختصار، وأتيت بالمعاني التي تضمنت حديث الثأر من غير حشو ولا إطالة، ولا سأم ولا ملالة...
جعفر بن نما اس کتاب کے مصنف کہتے ہیں: جان لو کہ بہت سے علماء کو یہ توفیق نہیں ملی کہ وہ الفاظ کے مطالب کو گہرائی سے سمجھیں، نہ ہی یہ تامل کہ وہ غفلت کی نیند سے بیداری کی طرف آئیں، اور اگر انہوں نے ائمہ ع کے اقوال پر تدبر کیا ہوتا مختار کی مدح میں تو جان لیتے کہ وہ سابقین اور مجاہدین میں سے ہیں جن پر اللہ جل جلالہ نے مدح کی ہے اپنی کتاب مبین میں۔ اور امام زین العابدین ع کی مختار کیلئے دعاء واضح دلیل اور کھلا ثبوت ہے کہ وہ امام ع کے نزدیک نیکوکار لوگوں میں سے تھے، اگر وہ قابل ستائش طریقے پر نہ ہوتے اور یہ معلوم ہوتا کہ وہ امام ع کے مخالف ہیں اعتقاد میں تو امام ع مختار کیلئے نہ دعاء کرتے نہ استجابت کرتے، اور اسکے بارے میں ناپسند بات کرتے، اور امام کی دعاء مختار کیلئے عبث ہوتی، حالانکہ امام اس سے منزہ (بالاتر) ہیں۔ اور ہم ائمہ ع کے اقوال کو اس کتاب میں ذکر کر چکے ہیں جس میں انہوں نے تکرار سے مختار کی مدح کی ہے، اور اس کی مذمت سے منع کیا ہے، اس میں اہل بصیرت کیلئے فائدہ
Comments
Post a Comment