عقلی دلائل
دوم:
عقلی دلائل:
شرعی نصوص نے عقل کو بہت زیادہ مخاطب کیا ہے، اور عقل کی رہنمائی کی ہے کہ وہ عقلی دلائل و براہین پر غور و فکر کرے، اسلام کی حقانیت پر دلالت کرنے والے قطعی دلائل پر غورو فکر کرنے کی دعوت قرآن مجید میں کئی بار دی گئی ہے جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
( كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آَيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ )
ترجمہ: ہم نے بابرکت کتاب آپ کی جانب نازل کی ہے تا کہ اس کی آیات پر عقل والے غور و فکر کریں اور نصیحت حاصل کریں۔[ص:29]
قاضی عیاض رحمہ اللہ اعجازِ قرآن کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"اللہ تعالی نے قرآن مجید میں شریعتوں کے علوم اور عقل کو دلائل کے ذریعے لگام دینے کے طریقے بیان کئے ہیں،اسی طرح تمام اقوام کے فرقوں پر انتہائی ٹھوس اور واضح دلائل کے ساتھ رد کیا ہے، جو کہ معانی میں دقیق مگر الفاظ میں انتہائی سادگی کا نمونہ ہیں،آج تک تکلف اور تصنّع کا سہارا لیکر جن لوگوں نے قرآن جیسا کلام لانے کی کوشش کی، ناکام ہی رہے" انتہی
" الشفا " (1/390)
اس لیے وحی جو کہ کتاب و سنت کی صورت میں ہے، اس کے اندر کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے عقل ناممکن سمجھے یا تسلیم نہ کرے، اسی طرح کوئی ایک بھی ایسا مسئلہ نہیں ہے جو کہ بدیہی عقل یا عقلی قیاس سے متصادم ہو؛ بلکہ اہل باطل کوئی بھی اپنا قیاسِ باطل ثابت کرنے کیلیے لائیں تو یہ قرآن عقلی بیان کے ساتھ واضح ترین انداز میں اس کا رد کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
( وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا )
ترجمہ: جب بھی یہ کافر آپ کے پاس کوئی مثال (اعتراض) لائیں تو اس کا ٹھیک اور برجستہ جواب اور بہترین توجیہ ہم نے آپ کو بتلا دیں۔ [الفرقان :33]
اس آیت کی تفسیر کے بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہاں اللہ تعالی نے یہ خبر دی ہے کہ کفار کوئی بھی عقلی قیاس اپنے باطل کو ثابت کرنے کیلیے تمہارے پاس لیکر آئیں تو اللہ تعالی حق بات اس کے مقابلے میں لے آتا ہے، اللہ تعالی ایسی دلیل، مثال اور وضاحتی بیان لے آتا ہے جو ان کے کلام سے زیادہ واضح ہوتا ہے اور کفار کے لائے ہوئے قیاس سے کہیں اچھے انداز کے ساتھ حق واضح کرتا ہے۔" انتہی
"مجموع الفتاوى" (4/106)
قرآن کریم میں عقلی دلائل کی مثالوں میں سے اللہ تعالی کا یہ فرمان بھی ہے:
( أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآَنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا)
ترجمہ: کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے۔ اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سے اختلاف پاتے ۔[النساء :82]
تفسیر قرطبی میں اس آیت کی تفسیر کچھ یوں ہے:
"یہ یقینی امر ہے کہ بہت زیادہ کلام کرنے والے شخص کی باتوں میں تناقضات اور اختلاف بھی بہت زیادہ ہوتا ہے، چاہے اختلاف کا تعلق کلام کے وصف اور لفظ سے ہو، یا معنوی معیار میں کمی کی بنا پر ہو، یا تناقض کی بنا پر ہو، یا سراسر جھوٹ کی وجہ سے، لیکن اللہ تعالی نے قرآن مجید نازل فرمایا اور انہیں حکم دیا کہ قرآن مجید پر غور و فکر کریں؛ انہیں قرآن مجید میں بتلائی گئی غیبی خبروں اور راز و نیاز کی باتوں میں کوئی وصفی یا معنوی اختلاف نظر نہیں آئے گا، ان میں کسی قسم کا تناقض یا جھوٹ نہیں ملے گا۔" انتہی
"الجامع لأحكام القرآن " (5/290)
اسی طرح تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ:
"مطلب یہ ہے کہ اگر قرآن مجید خود ساختہ اور من گھڑت ہوتا جیسے کہ جاہل مشرک اور منافقین دل ہی دل میں ایسی باتیں کرتے پھر رہے ہیں تو انہیں قرآن مجید میں بہت سا اختلاف اور تناقض نظر آتا، لیکن قرآن مجید میں ایسا کچھ نہیں ہے، یہ اختلاف سے پاک صاف ہے، لہذا ثابت ہوا کہ قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے ہے" انتہی
" تفسیر القرآن العظیم " (1/802)
Comments
Post a Comment