رسول_اکرم_صلی_اللہ_علیہ_وآلہ_وسلم_کا#مکےکےسرکش_سرداروں_سےمناظرہتحریر
#رسول_اکرم_صلی_اللہ_علیہ_وآلہ_وسلم_کا
#مکےکےسرکش_سرداروں_سےمناظرہ
تحریر:۔ منظرزیدی
#پہلاحصہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ مناظرہ بھی کتاب احتجاج طبرسی سے لیا گیا ہے۔۔۔۔
یہ کتاب شیعوں کے ایک معروف عالم دین ابومنصور احمد بن علی ابن ابی طالب طبرسی (جو 600ھجری کے مشہور شیعہ عالم دین ہیں) نے لکھی۔۔۔اس کتاب کو لکھنے کا سبب وہ خود یہ تحریر کرتے ہیں کہ۔۔۔۔
"جس چیز نے مجھے اس کتاب کی تالیف پر ابھارا وہ ہمارے دوستوں اور دانشمندوں کی سستی اور لاپرواہی تھی کہ انھوں نے مخالفین کے ہمارےعقائد و نظریات پر الزامات کے سلسلے میں مباحثے اور احتجاج کے مقابلے میں سکوت کو اختیار کیا۔۔۔اور باطل ادیان کے مقابلے سے کنارہ کش ہوگئے اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ پیغمبراکرم ؐ اور آئمّۂ معصومین علیہم السلام بھی مخالفین کے سامنے خاموش رہےہیں اور انہوں نے اپنے شیعوں اور پیروکاروں کو بھی مخالفین سے بحث و مباحثے کی اجازت کبھی نہیں دی۔۔۔۔بلکہ میں نے توبعض افراد کو اس نظریئے کے ساتھ پایا کہ مخالفین سے بحث و مباحثہ یا ان کے لگائے گئے الزامات پر کسی بھی قسم کے احتجاج جائز ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
بس اسی وجہ سے میں نے یہ حتمی ارادہ کیا کہ رہنمایان اسلام علیہم السلام کے دوسرے اہل مذہب و ادیان سے کئے گئے احتجاجات و مناظرات کو جمع کروں اور انہیں ایک کتاب کی شکل دوں۔۔۔
یہ بات بیان سےنہ رہ جائے کہ معصومین علیہم السلام نے مناظرے یا احتجاج سے جو منع کیا ہے وہ امتناع ان افراد سے خاص ہے جو علمی صلاحیت سے خالی ہوتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح ممکن ہے کہ مخالف کے مقابل آکر ان کے دلائل سےوہ کم علم افراد، مغلوب و لاجواب ہوجائیں اور اس طرح وہ اپنے ساتھ ساتھ دوسرے باایمان افراد کے بھی ایمان کے متزلزل ہونے کا سبب بن جائیں گے۔۔۔۔۔۔
اور پھر باطل پرست، اس جیت کے بعد، اس طرح اپنی راہ باطل میں محکم و جری ہوجائیں گے۔۔۔۔۔۔
لہٰذا۔۔۔۔۔۔۔
کم علم و کم عقل افراد کو بحث و مباحثے سےاس وقت تک منع کیا گیا ہے۔۔۔۔جب تک وہ متعلقہ علم میں مہارت ومضبوطی حاصل نہ کرلیں۔۔۔۔۔ورنہ علماء و دانشمند افراد تو ہمیشہ مخالفین سے مباحثہ و مناظرہ کرنے کے لئے معصومین علیہم السلام کی جانب سے منتخب و مامور ہوتے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔اور اسی وجہ سے بے شمار اصحابِ معصومین رضوان اللہ علیھم، بلند و بالا درجات پر بھی فائز تھے۔۔۔۔
لہٰذا۔۔۔۔۔۔
یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ باطل ادیان کے مقابلے میں سکوت کا اختیار کرنا اور مناظرہ و مباحثہ کے ذریعے احتجاج نہ کرنا معصومین علیہم السلام کاغیرمشروط اقدام بھی تھا اور ان کی اپنے پیروکاروں کو غیرمشروط تاکید بھی تھی۔۔۔۔
اس کے علاوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کتاب کو پڑھنے والے متوجہ رہیں کہ جو روایات اس کتاب میں ذکر ہوئی ہیں۔۔۔۔۔میں، اختصار کی خاطر اور اختلاف و ضعیف نہ ہونے کی وجہ سے، ان کی اسناد سے صرف نظر کررہا ہوں اور فقط متن حدیث پر ہی اکتفا کررہا ہوں۔۔۔۔۔۔کیونکہ یہ تمام واقعات و مناظرات، تمام معتبر کتابوں میں موجود ہیں اور علماء ورجال حدیث کے درمیان مشہور بھی ہیں۔۔۔"
الغرض۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کتاب فقط اس بات کی تائید میں لکھی گئی کہ غلط بات پر احتجاج کرنا اور غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح ثابت کرنے کے لئے عقلی مباحثہ و مناظرہ کرنا اہل تشیع کے معصومین کی سنت ہے۔۔۔۔۔
بہرحال۔۔۔۔۔۔۔
اس کتاب میں بہت کچھ ایسا ہے جس کو ہر مسلمان قبول نہیں کرسکتا لیکن میری کوشش ہے کہ وہ مناظرے یا احتجاج جس کو دیگر مسلمان بھی قبول کرسکیں فقط وہی آپ کے سامنے اپنے قلم و اسلوب والے ترجمے کے ساتھ پیش کروں تاکہ سمجھا جاسکے کہ مناظروں کی وہ روش جو اس وقت رائج ہے اور وہ مناظرے جو خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئے ان میں کتنا اور کیا فرق ہے۔۔۔۔۔۔
دوستو!۔۔۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دورِزندگی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔۔
پہلا دور۔۔۔۔۔
اعلانِ رسالت سے پہلے کا دور ہے جس میں نبی محترم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی ظالم کو نہ تو ظلم سے روکا اور نہ ہی کسی کے خدا و دیوتا کو برا کہا۔۔۔
دوسرا دور۔۔۔۔۔
اعلانِ رسالت کے بعد کا مگر مکی زندگی کا دور ہے جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باطل سوچ و فکر پر بھرپور احتجاج کیا اور عقلی دلائل کے ذریعے ان کے باطل اعتقادات کو واضح کیا۔۔۔۔۔
تیسرا دور۔۔۔۔۔۔
جب کفّارِ مکہ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دلائل سے لاجواب ہوگئے تو اپنی نفسانی خواہشات کے پیش نظر ان کے جانی دشمن ہوگئے۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ نبی محترم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی نقصان پہنچاتے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب نے مدینہ و حبشہ ہجرت کی۔۔۔۔۔
یہ مدینہ وہی مدینہ تھا جس کے لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایسے ہی مناظروں سے مسلمان ہوئے اور انہوں نے مہاجرین کے لئے اپنے گھر و وراثت کے لئے دروازے کھول دیئے۔۔۔۔۔اور انصارومہاجرین میں اخوت کا رشتہ قائم کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔اس طرح کے مسلمان اور اس طرح کا بھائی چارہ پھر کبھی دیکھنےمیں نہیں آیا۔۔۔۔
کفاّرِ مکہ نے جب مہاجرین کے مکےمیں رہ جانے والے عزیزوں کو تکالیف دینے اور ان کی املاک کو لوٹنے کا سلسلہ شروع کیا تو خدا نے مسلمانوں پر جہاد فرض کردیا۔۔۔۔۔جس کے بعد کفّارِمکہ پر ایسی دھاک بیٹھی کہ بالآخر بڑے بڑے کفّار سرداروں کو اسلام قبول کرنا ہی پڑا۔۔۔۔۔۔
بہرحال یہ مناظرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ مناظرہ ہے جو مکے میں ان دانشور سرداروں سے ہوا جو اپنی دانست میں ماہر ترین منطق و فلسفے کے ماہر تھے۔۔۔۔۔
یہ مناظرہ ، شیعوں کے گیارہویں امام، امام حسن عسکری علیہ السّلام سے منقول ہے۔۔۔وہ فرماتے ہیں کہ۔۔
میں نے اپنے والدبزرگوار امام علی نقی علیہ السّلام سے عرض کیا کہ جب یہود و مشرکین نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملامت کی اور ان کو اذیت دی تو کیا آنحضرتؐ نے ان سے مباحثہ و مناظرہ کیا تھا یا نہیں؟
تو میرے بابا نے فرمایا کہ ہاں ! آنحضرتؐ نے بہت سے مقام پر مخالفین سے احتجاج و مجادلہ کیا ہے ان موقعوں میں سے ایک موقعہ یہ بھی ہے کہ۔۔
پھر انہوں نے چند آیات تلاوت کیں۔
سورۃالفرقان آیت نمبر7
وَ قَالُوۡا مَالِ ہٰذَا الرَّسُوۡلِ یَاۡکُلُ الطَّعَامَ وَ یَمۡشِیۡ فِی الۡاَسۡوَاقِ ؕ لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مَلَکٌ فَیَکُوۡنَ مَعَہٗ نَذِیۡرًا ۙ
اور انہوں نے کہا کہ یہ کیسا رسول ہے؟ کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ، اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا جاتا ۔ کہ وہ بھی اس کے ساتھ ہو کر ڈرانے والا بن جاتا ۔
سورۃ الزخرف آیت نمبر31
وَ قَالُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡیَتَیۡنِ عَظِیۡمٍ۔
اور کہنے لگے ، یہ قرآن ان دونوں بستیوں میں سےکسی بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل کیا گیا ۔
سور ۃ الاسریٰ آیت نمبر90
وَ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ یَنۡۢبُوۡعًا۔
انہوں نے کہا کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان لانے کے نہیں تاوقتیکہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری نہ کر دیں ۔
(نوٹ:-سورۃ الاسراء یا سورۃ بنی اسرائیل کی 90 سے لیکر آخرِ سورت تک اس مناظرے کا اشارہ موجود ہے۔۔۔۔۔۔)
اور پھر ان آیات کی تفصیل میں میرے بابا (امام علی نقی علیہ السّلام) نے یوں ارشاد فرمایا کہ۔۔۔۔
ایک روز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کچھ اصحاب کے ساتھ خانۂ کعبہ کے نزدیک بیٹھے ہوئے تھے اور ان کو احکام خدا اور حقائق قرآن کی تعلیم دے رہے تھے۔۔۔۔۔کہ۔۔۔۔
اسی وقت قریش کے کچھ بزرگ افراد جن میں ولیدابن مغیرہ،عاص ابن ہشام،ابوجہل،عاص بن وائل، عبداللہ بن حذیفہ اور دیگر افراد جمع ہوئے اور کہنے لگے کہ۔۔۔۔۔۔
محمدؐ ابن عبداللہ کا دین رائج ہورہا ہے اور اس کے مقتدی بڑھتے جارہے ہیں۔۔۔۔لہٰذا اب ضروری ہے کہ محمدؐ کی سرزنش و توبیخ کی جائے۔۔۔۔۔اب پکا ارادہ کرنا پڑے گا کہ محمدؐ کے نظریات کو باطل و فاسد ثابت کیاجائے تاکہ اس کے دوستوں کے سامنے اس کے باطل و غلط عقائد واضح و روشن ہوجائیں۔۔۔۔۔۔۔
اور اگر وہ پھر بھی اپنے باطل و غلط نظریات سے توبہ نہ کرے اور اپنی سرکشی اور انحراف پر باقی رہے تو ہم اپنی تلوار سے اس کے شر کو اپنے آپ سے دور کردیں گے۔۔۔۔۔
اس وقت ابوجہل بولا۔۔۔۔۔۔۔۔
محمدؐ سے مباحثہ کون کرے گا؟ کیونکہ وہ جس طرح بات کرتا ہے بڑے سے بڑے دانشور لاجواب ہوجاتے ہیں۔
عبداللہ بن مخزومی نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں محمدؐ سے مناظرے کے لئے تیار ہوں۔۔۔۔لیکن جب اس نے دیکھا کہ ابوجہل ودیگر لوگ غیرمطمئن نظر آرہے ہیں تو وہ کہنے لگا کہ۔۔۔کیا تم لوگ محمدؐ کے شر کو برطرف کرنے کے لئے مجھے سزوار و کافی نہیں سمجھتے؟۔۔۔
ابوجہل بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں چلو ابھی محمدؐ کے پاس چلتے ہیں تم اس سے مناظرہ کرو۔۔
پھر یہ سب لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے جو اپنے اصحاب کے درمیان اس طرح بیٹھے تھے جیسے چاند اپنے ستاروں کے درمیان ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہاں پہنچتے ہی عبداللہ ابن مخزومی نے کہنا شروع کیا۔۔۔۔۔۔۔
اے محمدؐ ! تم نے اپنے قد سے بہت بڑا دعویٰ کیا ہے۔۔۔اور انتہائی عجیب و غریب دعویٰ کیا ہے۔۔۔۔
یعنی تم کہتے ہو کہ تم خدا کے رسول ہو۔۔۔۔جبکہ جو رسول خدا کی طرف سے بھیجا جائے وہ تم جیسا نہیں ہونا چاہئے۔۔۔۔۔۔وہ کس طرح خدا کا رسول ہوسکتا ہے جو ہماری طرح کھانا کھاتا ہو۔۔۔ہماری طرح سے راستوں میں چلتا ہو۔۔۔۔کیونکہ بادشاہِ روم یا سلطانِ فارس اگر اپنی طرف سے کسی نمائندے کو معین کرتے ہیں تو کسی ایسے کا انتخاب کرتے ہیں جو صاحبِ ثروت ہوتا ہے اور مالکِ حشمت و شخصیت ہوتا ہے اور اپنے بہت سے غلام وخدمتگار رکھتا ہے۔۔۔۔
جبکہ یہ بات طے ہے کہ خدا، سلطانوں کا سلطان اور تمام افرادِ بشر سے بلندوبرتر ہے۔۔۔۔لہٰذا ضروری ہے کہ وہ اپنے نمائندے کے انتخاب میں بطریق اولیٰ و اکمل ان تمام باتوں کا خیال رکھے۔۔۔۔
یعنی۔۔۔۔۔
اے محمد ؐ!اگر تم خدا کے رسول ہو تو تمہارے ہمراہ ایک فرشتہ ہونا چاہئے اور ہم اس فرشتے کو دیکھیں کہ وہ تمام لوگوں کے حضور تمہارے رسول ہونے کی تصدیق کرے۔۔۔۔۔بلکہ خدا کا نمائندہ تو خود فرشتے کو ہونا چاہئے نہ کہ تم جیسےایک عادی و معمولی انسان کو۔۔۔۔۔
ہمارے نزدیک تم بہت بڑے اشتباہ کا شکار ہو اور بہت بڑی غلطی پر ہو بلکہ تم کسی کے جادو کا شکار ہوچکے ہو۔۔۔
وہ جب خاموش ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انتہائی اطمینان سے پوچھا:۔
تمہاری باتیں ختم ہوگئیں یا تم کچھ اور بھی کہنا چاہتے ہو؟۔
عبداللہ مخزومی نے کہا:۔ ابھی میری باتیں ختم نہیں ہوئیں۔۔۔اے محمدؐ! ہمارا کہنا ہے کہ اگر خدا اپنی طرف سے کوئی پیغمبر بھیجنا چاہتا تو یقیناً کسی ایسے کا انتخاب کرتا جو لوگوں کے درمیان سب سے زیادہ عزت و احترام اور دولت و ثروت رکھنے والا ہوتا۔۔۔۔۔جو قرآن تم پر نازل ہورہا ہے وہ مکے کے بڑے آدمی ولید بن مغیرہ یا طائف کے مردِ بزرگ عروہ بن مسعود ثقفی پر کیوں نہیں نازل ہوا؟
وہ پھر خاموش ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا کہ ابھی کچھ اور کہنا ہے یا بس۔۔۔
تو عبداللہ ابن مخزومی نے دوبارہ کہنا شروع کیا:۔ہاں ابھی میرا کلام باقی ہے۔۔۔۔۔۔میں تمہارے پیروکاروں کے سامنے تم سے کہتا ہوں کہ ہم تم پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔۔۔۔۔مگر یہ کہ تم مکے کی سخت و سنگلاخ زمین سے پانی کا چشمہ جاری کردو کیونکہ مکے کے لوگ پانی کے سخت محتاج ہیں۔۔۔۔۔یا اس بے آب و گیاہ زمین میں ایک سرسبزوشاداب باغ اگادو کہ جس میں کثرت سے درخت خرما اور انگور ہوں۔۔۔۔۔اور ان درختوں کے درمیان پانی کا خوشگوار چشمہ جاری ہو۔۔۔۔۔۔جس باغ و چشمے سے تم خود اور ہم بھی استفادہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔۔۔۔تم آسمان کے ٹکڑے زمین پر گرا دو جیسا کہ تم کہتے ہو کہ اگر وہ آسمان سے آتے ہوئے ٹکڑوں کو دیکھیں گے تو وہ کہیں گے کہ بادل پراگندہ ہوگئے ہیں۔۔۔۔اس طرح ہم کو تمہارے قول کی سچائی معلوم ہوجائے گی۔۔۔۔۔۔
یا پھر ایسا کرو کہ خدا یا آسمان کے ملائکہ کا ہی ہمیں دیدار کرادو۔۔۔۔۔۔یا پھر تم اپنے لئے کوئی سونے کا گھر بنالو اور ہمیں اتنا مال و دولت دے دو کہ ہم بے نیاز ہوکر سرکش ہوجائیں۔۔۔۔۔۔۔جیسا کہ تم کہتے ہو کہ جب انسان مستغنی ہوجاتا ہے تو سرکش ہوجاتا ہے اور اس طرح تمہاری بات سچی ہوجائے۔۔۔۔۔۔
یا تم آسمان پر جاکر اپنے سے ہاتھ میں ایک کتاب لاؤ کہ اس میں لکھا ہوا ہو کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے محمدبن عبداللہ بن عبدالمطلب اور اس کے پیروکاروں کی طرف بھیجی گئی ہے کہ تم اس پر ایمان لاؤ اور ان کی باتوں کی تصدیق کرو۔۔۔۔۔
ان تمام باتوں کے بعد اس نے کہا کہ۔۔۔۔۔۔ان تمام علامات و آثارومعجزات کے مشاہدے کے بعد بھی ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں اطمینان قلب پیدا ہوگا یا نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ یہ سارے غیرفطری اعمال اور خوارق العادات باتیں کسی جادویا شعبدے کے ذریعے انجام پائی گئی ہوں۔۔۔۔۔
اس کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پھر خاموش ہوگیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا کہ کچھ اور کہنا ہے یا بات ختم ہوگئی؟۔۔۔۔تو عبداللہ بن مخزومی نے کہا کہ ہاں اتنی باتیں کافی ہیں۔۔۔۔۔اگر تمہارے پاس اس کا جواب ہوتو بیان کرو۔۔۔۔۔۔
تمام اصحابِ رسول اور کفّار اس مناظرے کو بغورسن رہے تھے۔۔۔۔۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بجائے براہ راست جواب دینے کے یوں کہا:۔ اے میرے پروردگار! تو خود ان کی باتوں کو سن رہا ہے اور تو یقیناً اپنے بندوں کے تمام ظاہری و باطنی امور سے آگاہ ہے تو ہی ہے جو ان تمام سوالوں کے جواب کے لئے کافی ہے۔۔۔۔اس وقت سورۃ الفرقان کی آیت نمبر7 نازل ہوئی۔۔۔۔
وَ قَالُوۡا مَالِ ہٰذَا الرَّسُوۡلِ یَاۡکُلُ الطَّعَامَ وَ یَمۡشِیۡ فِی الۡاَسۡوَاقِ ؕ لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مَلَکٌ فَیَکُوۡنَ مَعَہٗ نَذِیۡرًا ۙ
اور انہوں نے کہا کہ یہ کیسا رسول ہے؟ کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ، اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا جاتا ۔ کہ وہ بھی اس کے ساتھ ہو کر ڈرانے والا بن جاتا ۔
پھر سورۃ الھود کی آیت نمبر12 نازل ہوئی۔۔۔۔
فَلَعَلَّکَ تَارِکٌۢ بَعۡضَ مَا یُوۡحٰۤی اِلَیۡکَ وَ ضَآئِقٌۢ بِہٖ صَدۡرُکَ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ کَنۡزٌ اَوۡ جَآءَ مَعَہٗ مَلَکٌ ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ نَذِیۡرٌ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ وَّکِیۡلٌ۔
پس شاید کہ آپ اس وحی کے کسی حصے کو چھوڑ دینے والے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی جاتی ہے اور اس سے آپ کا دل تنگ ہے ، صرف ان کی اس بات پر کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اترا؟ یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہی آتا ، سن لیجئے! آپ تو صرف ڈرانے والے ہی ہیں اور ہرچیز کا ذمہ دار اللہ تعالٰی ہے ۔
پھر سورۃ الانعام کی آیت نمبر9 نازل ہوئی۔۔۔
وَ لَوۡ جَعَلۡنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلۡنٰہُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسۡنَا عَلَیۡہِمۡ مَّا یَلۡبِسُوۡنَ۔
اور اگر ہم اس کو فرشتہ تجویز کرتے تو ہم اس کو آدمی ہی بناتے اور ہمارے اس فعل سے پھر ان پر وہی اشکال ہوتا جو اب اشکال کر رہے ہیں۔
پھر نبیٔ مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان آیات کی تشریح اس طرح کی۔۔۔۔۔۔۔۔کہ۔۔
اگر تم یہ کہتے ہو کہ۔۔۔۔۔۔
خدا کے رسول کو غذا نہیں کھانا چاہئے تو اگر غذا کھانا نبی نہ ہونے کی دلیل ہے توجان لو کہ نبی کا انتخاب کرنا خدا کے اختیار میں ہے۔۔۔۔
وہ جیسا چاہتا ہے عمل کرتا ہے اور جیسی مصلحت دیکھتا ہے ویسا ہی حکم دیتا ہے کسی کو اس کی حکومت میں اعتراض ومخالفت کا حق نہیں ہے۔۔۔۔۔۔وہ، بعض کو فقیر، بعض کو غنی، بعض کو عزیز و محترم، بعض کو ذلیل و خوار، بعض کو صحیح و سالم ، بعض کو مریض، بعض کو شریف اور بعض کو رذیل قرار دیتا ہے۔۔۔۔۔۔اور بعض کو دیگر دوسری صفات سے متصف کرتا ہے۔۔۔۔۔مگر اس حالت میں کہ نہ تو فقراء ، اعتراض کرنے کا حق رکھتے ہیں اور نہ غنی لوگ، نہ سالم افراد، نہ مریض، نہ شریف اور نہ ہی ذلیل لوگ کسی قسم کے اعتراض کا حق رکھتے ہیں۔۔۔۔۔
اور۔۔۔۔۔۔
جو بھی خدا کے حکم و اختیار کے خلاف اپنی زبان کھولے گا وہ یقیناً خدا کا مخالف و معترض کہلائے گا اور وہ احکام الہٰی و مقرراتِ آسمانی کا منکر ہوگا۔۔۔۔۔
کیونکہ اس کے اس طرح کے اعتراضات کے جواب میں خدا کہے گا کہ میں دنیا کا بادشاہ ہوں اور امورِ مملکت کو تم سے بہتر جانتا ہوں لہٰذا بشر میں سے جو جس لائق ہوتا ہے میں اس کو وہ عطا کردیتا ہوں۔۔۔۔اب چونکہ میں تم سب سے زیادہ علم واختیار رکھتا ہوں لہٰذا تم سب کو مجھ پروردگار کا مطیع و فرمانبردار ہونا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔پس جو بھی میرے حکم و فرمان کی اطاعت کرے وہ بندہ میرا فرمانبردار و مؤمن ہے اور جو مخالفت کرے گا وہ گناہگار اورمقصّر ہے اور وہ سخت ترین عذاب میں مبتلا ہوگا۔۔۔۔۔۔
(جاری ہے۔)
Comments
Post a Comment