مکتب اہل بیت علیہم السلام میں بِسۡمِ اللّٰہِ
مکتب اہل بیت علیہم السلام میں بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ سورۂ توبہ کے علاوہ تمام سورتوں کا جزو ہے۔۔
مروی ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے آباء طاہرین کے ذریعے سے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ (ع)نے فرمایا:
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ فاتحۃ الکتاب کی آیات میں شامل ہے اور یہ سورہ سات آیات پر مشتمل ہے جو بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ سے مکمل ہوتا ہے۔ میں نے رسول خدا (ص) کو یہ فرماتے سنا ہے:
اِنَّ اللہَ عز و جل قَالَ لِیْ: یَا مُحَمد! ’’ وَ لَقَد آتَیْنَاکَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِی وَ الْقُرْآنَ الْعَظِیْمَ‘‘ فَأفْرَدَ الْاِمْتِنَانَ عَلَیَّ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَ جَعَلَھَا بِاِزَائِ الْقُرْآنِ الْعَظِیْمِ وَ إنَّ فَاتِحَۃَ الْکِتَابِ اَشْرَفُ مَا فِیْ کُنُوْزِ الْعَرْشِ ۔(البیان للامام الخوئی اردو ترجمہ ص ۴۱۸۔ امالی للصدوق ص ۱۷۵ ۔ عیون اخبار الرضا ج ۱ ص ۳۰۲ ۔) اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد (ص) ! بتحقیق ہم نے آپؐ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم عطا کیا ہے۔ پس اللہ نے مجھے فاتحۃ الکتاب عنایت کرنے کے احسان کا علیحدہ ذکر فرمایا اور اسے قرآن کا ہم پلہ قرار دیا۔ بے شک فاتحۃ الکتاب عرش کے خزانوں کی سب سے انمول چیزہے۔
آیت سے مراد ’’ نشانی‘‘ ہے۔ قرآن مجید کی ہر آیت مضمون اور اسلوب کے لحاظ سے اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اسی لیے اسے آیت کہا گیا ہے۔
اس بات پر آئمہ اہل بیت علیہم السلام کا اجماع ہے کہ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ جزو سورہ ہے۔ مکہ اور کوفہ کے فقہاء اور امام شافعی کا نظریہ بھی یہی ہے۔ عہد رسالت میں بتواتر ہر سورہ کے ساتھ بِسۡمِ اللّٰہِ کی تلاوت ہوتی رہی اور سب مسلمانوں کی سیرت یہ رہی ہے کہ سورۂ برائت کے علاوہ باقی تمام سورتوں کی ابتدا میں وہ بِسۡمِ اللّٰہِ کی تلاوت کرتے آئے ہیں۔ تمام اصحاب و تابعین کے مصاحف میں بِسۡمِ اللّٰہِ درج تھی، حالانکہ وہ اپنے مصاحف میں غیر قرآنی کلمات درج کرنے میں اتنی احتیاط ملحوظ رکھتے تھے کہ قرآنی حروف پر نقطے لگانے سے بھی اجتناب کرتے تھے ۔
عصر معاویہ تک یہ سیرت تواتر سے جاری رہی۔ معاویہ نے ایک بار مدینے میں بِسۡمِ اللّٰہِ کے بغیر نماز پڑھائی تو مہاجرین و انصار نے احتجاج کیا :
یا معاویہ أسرقت الصلاۃ أم نسیت بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۔ (مصنف عبد الرزاق ۲: ۹۲۔) ( کتاب الام للشافعی میں مذکورہ عبارت تھوڑے فرق کے ساتھ موجود ہے۔) اے معاویہ! تو نے نماز چوری کی ہے یا بھول گئے ہو۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ کہاں گئی؟
معاویہ اوراموی حکام نے قرآن سے بِسۡمِ اللّٰہِ کو حذف کیا، لیکن ان کے مصلحت کوش پیروکاروں نے اسے ترک تو نہیں کیا، مگر آہستہ ضرور پڑھا، حالانکہ قرآن کی تمام سورتوں میں بِسۡمِ اللّٰہِ کے ایک الگ آیت شمار ہونے پر متعدد احادیث موجو د ہیں:
۱۔ عن طلحہ بن عبید ﷲ قال: قال رسول ﷲ (ص): مَنْ تَرَک بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ فَقَدْ تَرَکَ آیَۃً مِنْ کتٰابِ ﷲ ۔ (الدر المنثور۱ : ۲۷ ۔ تذکرۃ الحفاظ ۹۰ ۔ تقریب التہذیب ۱ : ۳۷۹) طلحہ بن عبید اللہ راوی ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا: جس نے بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ کو ترک کیا، اس نے قرآن کی ایک آیت ترک کی۔
۲۔ حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ(ص) ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ آپ(ص) پر غشی کی سی کیفیت طاری ہوگئی پھر مسکراتے ہوئے سر اٹھایا۔ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ (ص) آپ (ص)کس بات پرمسکرا رہے ہیں؟ فرمایا :
اُنْزِلَتْ عَلَیَّ آنِفَاً سُوْرَۃٌ فَقَرَأَ ابھی ابھی مجھ پر ایک سورہ نازل ہوا ہے۔ پھر پڑھا :
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ ؕ﴿۱﴾ (صحیح مسلم کتا ب الصلوٰۃ ۱: ۳۰۰ ۔ سنن ابی داؤد کتاب الصلوٰۃ ۱ : ۲۰۸ حدیث ۷۸۴ ۔ سنن بیہقی ۱ : ۴۳) بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ ؕ﴿۱﴾
۳۔ ابن عمر راوی ہیں کہ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ہر سورہ کے ساتھ نازل ہوئی ہے۔ (الدر المنثور ۱: ۲۶ )
۴۔حضرت ابن عباس کہتے ہیں :
جب رسول اللہ (ص) کے پاس جبرائیل بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ لے کر نازل ہوتے توآپ(ص) کو معلوم ہوجاتا تھا کہ جدید سورہ نازل ہونے والا ہے۔ (مستدرک الحاکم ۱: ۲۳۱ )
لیکن بااین ہمہ امام ابوحنیفہ بسم اللہ کو سورۂ حمد سمیت کسی بھی قرآنی سورے کا جزو نہیں سمجھتے۔ مزید۔ توضیح کے لیے ملاحظہ ہو القرآن الکریم و روایات المدرستین از علامہ مرتضیٰ عسکری۔
بِسۡمِ اللّٰہِ سورۂ حمد کی ایک آیت ہے: اس بارے میں متعدد روایات موجود ہیں۔ جن کے راوی درج ذیل جلیل القدر اصحاب ہیں:
۱۔ ابن عباس کہتے ہیں :
رسو ل اللہ(ص) سورۂ حمد کی ابتدا بِسۡمِ اللّٰہِ سے کرتے تھے۔ (سنن الترمذی ۲:۴۴ )
حضرت ابن عباس کا یہ قول بھی مشہور ہے:
شیطان نے لوگوں سے قرآن کی سب سے بڑی آیت چرا لی ہے۔ (سنن بیہقی ۲ : ۵۰)
۲۔ حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں :
رسول اللہ (ص) سورۂ حمد میں بِسۡمِ اللّٰہِ پڑھتے تھے۔ (مستدرک الحاکم ۲ :۲۳۲ ۔)
۳۔ جابر (الدر المنثور ۱: ۸ )
۴۔ نافع (سنن بیہقی ۲ :۴۷)
۵۔ ابوہریرہ (سنن بیہقی ۲ :۴۷)
۶۔ انس بن مالک (صحیح بخاری باب فضائل القرآن )
Comments
Post a Comment