رسول خدا (ص) اور حضرت خدیجہ (س) کی مبارک شادی کا نکاح کا خطبہ کس نے پڑھا تھا
سوال:
رسول خدا (ص) اور حضرت خدیجہ (س) کی مبارک شادی کا نکاح کا خطبہ کس نے پڑھا تھا ؟
جواب:
شیعہ اور اہل سنت کی روایات کے مطابق، حضرت ابو طالب (ع) رسول خدا کے لیے جناب خدیجہ کا رشتہ مانگنے کے لیے گئے تھے اور انھوں نے ہی ان دونوں کے نکاح کا خطبہ بھی پڑھا تھا۔ اس تحریر میں ہم اس بارے میں چند شیعہ اور اہل سنت کی روایات کو ذکر کرتے ہیں:
کتب شیعہ:
مرحوم شيخ صدوق نے اپنی كتاب من لا يحضره الفقيہ میں لکھا ہے:
وَ خَطَبَ أَبُو طَالِبٍ رَحِمَهُ اللَّهُ لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ (صلي الله عليه وآله وسلم) خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ رَحِمَهَا اللَّهُ بَعْدَ أَنْ خَطَبَهَا إِلَي أَبِيهَا وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ إِلَي عَمِّهَا فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ وَ مَنْ شَاهَدَهُ مِنْ قُرَيْشٍ حُضُورٌ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَنَا مِنْ زَرْعِ إِبْرَاهِيمَ وَ ذُرِّيَّةِ إِسْمَاعِيلَ وَ جَعَلَ لَنَا بَيْتاً مَحْجُوجاً وَ حَرَماً آمِناً يُجْبي إِلَيْهِ ثَمَراتُ كُلِّ شَيْ ءٍ وَ جَعَلَنَا الْحُكَّامَ عَلَي النَّاسِ فِي بَلَدِنَا الَّذِي نَحْنُ فِيهِ ثُمَّ إِنَ ابْنَ أَخِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا يُوزَنُ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا رَجَحَ وَ لَا يُقَاسُ بِأَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا عَظُمَ عَنْهُ وَ إِنْ كَانَ فِي الْمَالِ قَلَّ فَإِنَّ الْمَالَ رِزْقٌ حَائِلٌ وَ ظِلٌّ زَائِلٌ وَ لَهُ فِي خَدِيجَةَ رَغْبَةٌ وَ لَهَا فِيهِ رَغْبَةٌ وَ الصَّدَاقُ مَا سَأَلْتُمْ عَاجِلُهُ وَ آجِلُهُ مِنْ مَالِي وَ لَهُ خَطَرٌ عَظِيمٌ وَ شَأْنٌ رَفِيعٌ وَ لِسَانٌ شَافِعٌ جَسِيمٌ فَزَوَّجَهُ وَ دَخَلَ بِهَا مِنَ الْغَدِ فَأَوَّلُ مَا حَمَلَتْ وَلَدَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدٍ (صلي الله عليه وآله وسلم) .
جب رسول خدا خدیجہ بنت خویلد کے رشتے کی بات انکے والد یا چچا سے کر رہے تھے تو جناب ابو طالب قریش کے سامنے حاضر ہوئے اور کمرے کے دروازے کے دونوں حصوں کو پکڑ کر نکاح کے خطبے کا ایسے آغاز کیا:
تمام تعریف اس خدا کے لیے ہے کہ جس نے ہمیں نسل ابراہیم اور اسماعیل کی اولاد سے قرار دیا ہے اور ہمارے لیے ایسے گھر (خانہ کعبہ) کو قرار دیا ہے کہ جس کے گرد لوگ طواف کرتے ہیں اور وہ پر امن حرم قرار دیا ہے کہ تمام دنیا سے نعمتیں اسکی طرف لائی جاتی ہیں اور ہمیں اپنے دیار میں لوگوں پر حاکم قرار دیا ہے، پھر کہا: یہ میرا بھتیجا محمّد ابن عبد اللَّه ابن عبد المطّلب ہے، اسکا قریش میں جس کسی سے بھی موازنہ کیا جائے گا تو یہ اس سے برتر و بالا تر ہو گا اور اسکو کسی سے بھی قیاس نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ مال کے لحاظ سے اسکا ہاتھ خالی ہے (لیکن یہ کوئی عیب نہیں ہے) کیونکہ مال و ثروت ایک نا پائیدار چیز اور جلدی سے گزر جانے والا سایہ ہے اور اب وہ خدیجہ کو اور خدیجہ اسکو چاہتی ہے اور حق مہر جو بھی ہو گا، وہ میرے ذمہ پر ہو گا، چاہے وہ مہر نقد ہو یا ذمہ پر ہو، وہ بلند مقام اور اسکی شخصیت عظیم اور اسکی زبان نرم اور تاثیر گزار ہے۔
جناب ابو طالب نے خدیجہ کو اسکے نکاح میں قرار دے دیا اور رسول خدا نے دوسرے دن اس سے شادی کی اور جناب خدیجہ پہلے بیٹے عبد اللہ ابن محمد سے حاملہ ہو گئیں۔
من لا يحضره الفقيه، ج 3، ص: 398 .
یہی روایت دوسری شیعہ کتب میں بھی ذکر ہوئی ہے، جیسے:
الاصول الكافي ، شيخ الكليني ، ج 5 ، ص 374 - 375
رسالة في المهر ، شيخ المفيد ، ص 29
عوالي اللئالي ، ابن أبي جمهور ، ج 3 ، ص113 و ...
کتب اہل سنت:
اہل سنت کے بہت سے علماء نے بھی جناب ابو طالب کے خطبہ پڑھنے کی روایت کو نقل کیا ہے، جیسے آلوسی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے:
وقد صح أن أبا طالب يوم نكاح النبي صلي الله عليه وسلم خطب بمحضر رؤساء مضر . وقريش فقال : الحمد لله الذي جعلنا من ذرية إبراهيم وزرع اسماعيل وضئضيء معد وعنصر مضر وجعلنا حضننة بيته وسواس حرمه وجعل لنا بيتا محجوجا وحرما آمنا وجعلنا الحكام علي الناس ثم أن ابن أخي هذا محمد بن عبد الله لا يوزن برجل إلا رجح به فإن كان في المال قل فإن المال ظل زائل وأمر حائل ومحمد من قد عرفتم قرابته وقد خطب خديجة بنت خويلد وبدل لها من الصداق ما آجله وعاجله من مالي كذا وهو والله بعد هذا له نبأ عظيم وخطر جليل .
یہ بات صحیح ہے کہ ابو طالب نے رسول خدا کے نکاح والے دن قبیلہ قریش اور قبیلہ مضر کے بزرگان کے سامنے اس خطبہ کو پڑھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسير الآلوسي ، الآلوسي ، ج 18 ، ص 51 .
اور اہل سنت کے مشہور مفسر اور ادیب زمخشری نے لکھا ہے:
حضر أبو طالب نكاح رسول الله صلي الله عليه وسلم خديجة رضي الله عنها، ومعه بنو هاشم ورؤساء مضر، فقال الحمد لله الذي جعلنا من ذرية إبراهيم وزرع إسماعيل، وضئضئي معد وعنصر مضر، ...
ابو طالب رسول خدا اور حضرت خدیجہ کے نکاح کے وقت وہاں پر موجود تھے اور انکے ساتھ بنی ہاشم اور مکہ کے بزرگان بھی تھے، ابو طالب نے کہا: تمام تعریف اس خدا کے لیے ہے کہ جس نے ہمیں نسل ابراہیم اور اسماعیل کی اولاد سے قرار دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ربيع الأبرار ، ج1 ، ص467
الكشاف عن حقائق التنزيل وعيون الأقاويل ، ج 1 ، شرح ص 477
مبرّد کتاب الكامل میں لکھا ہے:
خطبة لأبي طالب :
وخطب أبو طالب بن عبد المطلب لرسول الله صلي الله عليه وسلم في تزوجه خديجة بنت خويلد رحمة الله عليها، فقال؛ الحمد لله الذي جعلنا من ذرية إبراهيم وزرع إسماعيل ، ...
اور آخر میں کہتا ہے:
وهذه الخطبة من أقصد خطب الجاهلية .
الكامل في اللغة والادب ، المبرد ، ج1 ، ص302 .
بہت سے علمائے اہل سنت نے اس خطبے کو نقل کیا ہے جیسے:
تاريخ ابن خلدون ، ج2 ، ص407 ،
باب المولد الكريم وبدء الوحي و إعجاز القرآن ، الباقلاني ، ص 153
تفسير البحر المحيط ، أبي حيان الأندلسي ، ج 3 ، ص 110
تاريخ اليعقوبي ، اليعقوبي ، ج 2 ، ص 20
إمتاع الأسماع ، المقريزي ، ج 6 ، ص 29
سبل الهدي والرشاد ، الصالحي الشامي ، ج 2 ، ص 165
السيرة الحلبية ، الحلبي ، ج 1 ، ص 226
تاج العروس ، الزبيدي ، ج 1 ، ص 194
جمهرة خطب العرب في عصور العربية الزاهرة ، أحمد زكي صفوت ، ج1 ، ص77
المستطرف في كل فن مستظرف ، شهاب الدين محمد بن أحمد أبي الفتح الأبشيهي ، ج2 ، ص497
نثر الدر ، الآبي ، ج1 ، ص85 و ... .
Comments
Post a Comment