مختار الثقفی...... دوسرا حصہ

کوئی قبلہ آقائی جواد کو بھیج سکتا ہے 
👇👇👇👇👇
تحریر محمد عامر   خانیوال 
مختار الثقفی...... دوسرا حصہ

اس سے پہلے کہ میں مختار الثقفی پر کذاب، مدعی نبوت اور دیگر الزامات لگانے والے مورخوں اور ماہرین اسماء الرجال کی عبارتوں کا تنقیدی محاکمہ کروں میں ایک بڑے سوال کو یہاں رکھ کر اُس کا جواب تلاش کرنا چاہتا ہوں..... 

 کیا کوفہ کے کبار شیعہ واقعہ کربلاء کے زمہ دار تھے؟ 

کسی عقیدے اور نظریے کے کسی دور میں  ماننے والوں کی تحریک، جدوجہد اور مزاحمت کے دوران کمزوری، کمی، کوتاہی اور خامی (ایسی کمی جو اُن کو دائرہ حُب سے خارج نہ کرتی ہو) کا ناقدانہ جائزہ دروں بینی /انٹروسپیکشن کے لیے لینا بُری بات نہیں ہوا کرتا- نہ ہی اس طرح کا جائزہ لینے پر کوئی پابندی لگانا ٹھیک ہوتا ہے- لیکن ایسے جائزے کا 'دوستانہ انتقاد' Friendly criticism کے قبیل سے ہونا لازمی ہوا کرتا ہے-

کسی نظریہ یا تحریک کے بنیادی کارکن اور رہنماء اس نظریہ اور تحریک کی بنیاد ہوا کرتے ہیں اور اُن کے ساتھ ہمدردی رکھنے والوں کا اُن سے برتاؤ دشمنانہ اور معاندانہ نہیں ہوتا-

مولانا جواد نقوی علوی تحریک کے اندر ایسے سیکشن اور رجحان کی نمائندگی کرتے ہیں جن کے نزدیک کوفہ میں علوی تحریک کے کبار بزرگ اور مجاہد اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کی آئمہ اہل بیت سے وفاداری، وابستگی اور خلوص ہی مشکوک ہے اور وہ بھی عہد شکنی و دھوکہ دہی اور دغا بازی کے مرتکب ہونے والوں کی صف میں کھڑے ہیں-

علوی تحریک سے جتنے لوگ حضرت علی کے ساتھ کوفہ سے منسلک ہوئے اور جن کا نام اور کردار اس شیعان علی میں ممتاز اور بڑا ہے، اُس کی ذات پر کسی نہ کسی لحاظ سے ایسے الزامات آپ کو ملیں گے جس الزام کو پڑھ کر آپ کو ایسا لگے گا جیسے حضرت علی، امام حسن و امام حسین و علی بن حسین و امام باقر و امام جعفر سمیت کسی کو کوئی تکلیف پہنچی، وہ شہید ہوئے یا اُن کے ساتھ کوئی اور معاملہ بنا تو اُس کی زمہ داری کوفہ کے کبار شیعہ رہنماؤں اور مجاہدوں میں سے کسی ایک یا ایک سے زیادہ پر عائد ہوتی ہے-

یعنی آپ اہل بیت اطہار کے دشمنوں اور پوری علوی تحریک کے ماننے والوں پر ظلم کرنے والوں کو تو بھول جائیں مگر جو خود مظلوم ہیں اُن میں سے چُن چُن کر ایک ایک کو ہی ظالم کا مددگار ثابت کرکے مظلوموں کو ظالموں کے قبیلے میں شامل کردیں-

آپ بنوامیہ اور بنوعباس کے دور میں مدون ہونے والی کتب تواریخ و سیر ودیگر مسلم لٹریچر میں حضرت علی، امام حسن اور امام حسین کے ساتھ ہوئے معاملات پر اگر درباری اور سرکاری موقف کو جاننا چاہتے ہیں تو وہ کیا نکلے گا جسے آج اہلسنت کے جمہور کا موقف کہتے ہیں..... وہ حضرت علی کی خلافت کو حق مانیں گے لیکن حضرت علی کے ساتھ دینے والے انتہائی جری صحابیوں اور تابعین خاص طور پر کوفہ سے تعلق رکھنے والوں پر زبردستی اور جھوٹی روایتوں کے ساتھ یہ تہمت دھردیں گے کہ وہ بھی کوفہ کے اشراف القبائل، سر داران قریش اور اموی کیمپ سے تعلق رکھنے والوں کی طرح حضرت علی کا ساتھ چھوڑ گئے تھے- جبکہ حضرت علی کی شہادت سے پہلے 60 ہزار کوفہ و گرد و نواح  سے لوگوں نے شام کے خلاف جنگ کرنے کے لیے آپ کے ہاتھ پر بیعت جہاد کی تھی اور ننانوے فیصدی کبار شیعان علی جو تھے وہ یا تو دور مرتضوی میں جناب علی المرتضٰی پر جان قربان کرگئے جیسے مالک اشتر تھے یا وہ امام حسن کے زمانے میں معاویہ کے دور میں ظلم و جبر کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے جیسے حجر بن عدی الکندی اور اُن کے دیگر ساتھی تھے یا وہ دور یزید و مروان و عبدالملک بن مروان کے زمانے میں شہادت پاگئے- جیسے شہداء کربلاء میں کوفہ کے شہید تھے، مختار، سلیمان بن صرد  الخزاعی  اور دیگر تھے-

واقعہ کربلاء بہت بڑا المناک المیہ تھا اور اس واقعے کے زمہ دار یزید، اُس کا کوفہ میں مقرر کردہ گورنر اُس کا ساتھ دینے والے کوفہ کے اشراف القبائل کے سردر، اکثر روسائے کوفہ تھے- یزید کے گورنر عبیداللہ ابن زیاد اور اس کے حامیوں نے کوفہ، بصرہ سمیت پورے عراق سے امام حسین کے خاص و عام شیعہ سب کو بے بس، مفلوج، مجبور و محکوم بنایا اور اُن میں سے کئی ایک قتل ہوگئے...... جن کبار شیعہ بزرگوں نے امام حسین کو خط لکھے تھے اُن میں صرف حبیب ابن مظاہر تھے جو کربلاء پہنچے باقی اور انیس کے قریب کوفی شیعہ امام کے ساتھ شہید ہوئے اور کوئی نصرت امام کو نہ پہنچ سکا کیونکہ باقی سب کبار شیعہ زندان میں قید تھے-

مسلم بن عقیل ہوں یا امام حسین اور ان کے رفقاء ہوں اُن کو یزید کے مقرر کردہ گورنر کوفہ عبیداللہ ابن زیاد نے باقاعدہ گھیر کر، الگ تھلگ کرکے کوفہ سے دور لق و دق صحرائے کوفہ میں پوری منصوبہ بندی سے لاکھوں کی فوج کے زریعے سے شہید کیا-

اب اس معاملے میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کوفہ میں جو کبار شیعہ اور امام کو کوفہ آنے کی دعوت دینے والے تھے وہ فول پروف سٹریٹجی نہ بناسکے اور یہ اندازہ ہی نہ کرپائے کہ یزید کے بنائے گورنر کوفہ نعمان بن بشیر کو معزول کرکے وہ اموی چنگل سے کوفہ کو جو آزاد کروانے کی کوشش کررہے تھے اُن کو ٹھیک سے یہ اندازہ ہی نہ ہوا کہ جو جوابی اموی ردعمل آئے گا اور کوفہ کے اشراف اور روساء اور اُن کے حامی جو امویوں سے رابطے میں ہیں کھل کر اگر امویوں کے ساتھ کھڑے ہوئے تو اُن کی حکمت عملی کیا ہوگی؟ اور ایسے ہی سب کو معلوم ہے کہ امام حسین کو کوفہ بلوانے کی خطوط کی تحریک ہو یا وفود کو مکہ جاکر جناب امام حسین سے ملاقات ہو یہ سب زیرزمین اور خفیہ کوشش تھی اگرچہ کوشش خفیہ امویوں کے لیے نہیں رہی تھیں- اموی ایڈمنسٹریشن کو کوفہ میں قریب قریب ہر ایک محب اہل بیت گھرانے کا پتا تھا اور اُس ایڈمنسٹریشن نے جہاں بڑی لیڈر شپ کو جیل میں ڈالا وہیں گھروں میں ہی عام علوی شیعہ کو نظر بند کردیا اور اُن سب سے اسلحہ لے لیا-

تو آپ اگر زیادہ ہی دروں بینی کرنا چاہتے ہیں تو یہ کہہ سکوگے کہ کوفہ میں شیعہ قیادت قیام امام حسین کے لیے ایسی حکمت عملی اپنانے میں ناکام رہے جس سے وہ نہتے نہ ہوتے، قید نہ ہوتے اور بڑی ناکہ بندی ہونے نہ دیتے-

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ واقعہ کربلا کی ذمہ داری امام حسین کے قافلے کو الگ تھلگ کرکے صحرائے کربلا میں گھیر کر شہید کرنے والوں، شام میں دار لخلافہ دمشق سے قتل کے فرامین جاری کرنے والے یزید پر فوکس رکھنے کی بجائے  الزام دہی اور گنہگار ٹھہرائے جانے کا فوکس مجبور و محکوم و اسیر و نہتا کردیے گئے اہل بیت کے سچے پیروکار کوفی شیعہ پر رکھ دیاگیا-

واقعہ کربلاء جس ماحول میں ہوا اُس ماحول اور کوفہ میں شیعان علی کی حالت زار کو کسی نے پیش نظر نہ رکھا بلکہ بے وفائی، دھوکہ دہی، عہد شکنی کے مرتکب کوفہ میں قریشی سرداروں اور اشراف القبائل کے سرداروں اور دیگر کو بھی پس منظر میں دھکیل کر ولن کے طور پر امام کے سچے ساتھیوں کو پیش کردیا گیا-
کتنا پڑا ظلم ہے کہ جن لوگوں نے معاویہ و یزید کے گورنروں، سپہ سالاروں اور اموی حکام کے کوفہ میں مظالم سہے، قتل ہوئے، قید ہوئے جن کی زمینیں چھین لی گئیں اور قید ہوئے اور پھر بھی انھوں نے علم مزاحمت بلند رکھا اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ واقعہ کربلاء کے بعد انتقام اور بدلے کی تحریک بثارۃ الحسین کا آغاز کیا جس میں توابین اور قیام مختار اہم ترین ہے اُن کے بانیوں کو ہی متنازعہ اور اُن کی وفاداری کو مشکوک بنادیا گیا-

واقعہ کربلاء کے بعد عزاداری امام حسین کی ابتداء بھی تو یہی کوفہ کے محبان اہل بیت نے کی تھی اور اُن کے غم، سوگ، ماتم سب کو بھی یہ رنگ دیا گیا کہ یہ سب کچھ وہ امام حسین اور اہل بیت سے دھوکہ اور دغا کے پچھتاوے کے طور پر کررہے تھے- جبکہ کوفہ کے شیعان علی کی 60ھجری کے بعد عزاداری میں پچھتاوا اور افسوس کا سبب یہ نہیں تھا کہ اُن کا خیال تھا کہ انھوں نے امام کو دھوکا دیا یا دغا کیا بلکہ وہ تو اپنی بے بسی و مجبوری اور نہتے پن اور اپنی کمزوری و کمی و کوتاہی کو پچھتاوے میں شامل کررہے تھے-

دھوکہ، عہد شکنی، دغا بازی اور بزدلی کے الزامات اور اس پر مبنی شیعان علی کی کردار کُشی کا پروجیکٹ تو زبیری،اموی اور امویوں کو الزام سے بچانے والوں یا پھر فاطمی وفاداروں کو اپنے لیے چیلنج سمجھنے والے عباسیوں کی اختراع تھی اور بعد میں آنے والے اُن کے عذر خواہوں کی......

جب کوئی شیعہ چاہے وہ اثناء عشری ہو یا اسماعیلی ہو یا پھر غیر امامی اہلسنت میں سے شیعان علی کہلانے والا کوفہ سمیت پورے عراق میں شیعی تحریک جو امام علی و امام حسن و امام حسین کے ساتھ رہے اُن کو واقعہ کربلاء کے زمہ داروں میں شامل کرے یا اُن کی زبیری و امویوں کے خلاف تحریک کو بدنام کرے تو وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اہل بیت کے دشمنوں کا مقدمہ مضبوط بناتا ہے اور اُن کو بچ نکلنے کا موقعہ فراہم کرتا ہے جو اہل بیت اور ان کے حامیوں پر ظلم و ستم کے مرتکب ٹھہرے......

اگر ہم مالک اشتر، حجر بن عدی، سلیمان بن صرد الخزاعی، مختار بن ابی عبید الثقفی سمیت کوفہ کے کبار شیعہ اور ان کا ساتھ دینے والوں کو 'شریک جرم' یا بالواسطہ 'اعانت جرم' کا مرتکب مان لیں گے تو پھر عراق میں شیعہ تحریک کے معمار کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں گے؟ جن  کبار شیعہ کے کردار کوفہ میں مشکوک ٹھہرائے جارہے ہیں اُن کو چھوڑ کر کوفہ میں شیعی تحریک کا کوئی منہ مہاندرا بنتا ہے کیا؟

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں