مولا علی علیہ السلام کے فضائل اہل سنت صحیح احادیث میں، قسط 1
مولا علی علیہ السلام کے فضائل اہل سنت صحیح احادیث میں، قسط 1
﷽
ہم اہل سنت کی معتبر کتب سے صحیح الاسناد یا حسن درجے کی روایات نقل کریں گے امام علی علیہ السلام کے فضائل کے متعلق۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتُ ثَلاَثًا قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَنْ أَسُبَّهُ لأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لَهُ خَلَّفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَلَّفْتَنِي مَعَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلاَّ أَنَّهُ لاَ نُبُوَّةَ بَعْدِي " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ " لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلاً يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ فَتَطَاوَلْنَا لَهَا فَقَالَ " ادْعُوا لِي عَلِيًّا " . فَأُتِيَ بِهِ أَرْمَدَ فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ وَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ} دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ " اللَّهُمَّ هَؤُلاَءِ أَهْلِي " .
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد کو حکم دیا، تو ان سے پوچھا کہ تمہیں ابو تراب کو برا کہنے سے کیا چیز روکتی ہے ؟ حضرت سعد نے کہا: مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو رسول الله ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمائی تھیں ، اس لیے میں ان کو کبھی برا نہیں کہہ سکتا ، اگر ان تین باتوں سے ایک بات بھی میرے لیے فرمائی ہوتی تو وہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب تھی۔ جب رسول الله ﷺ نے بعض مغازی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے الله ﷻ کے رسول ﷺ! آپ نے مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ دیا ، میں نے رسول الله ﷺ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئی سنا: کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لیے ہارون تھے ، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ، اورغزوہ خیبر کے دن میں نے آپ ﷺسے یہ سنا : کل میں اس آدمی کو جھنڈا دوں گا جو الله ﷻ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوگا ، اور الله ﷻ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتا ہے ، حضرت سعد نے کہا: پھر ہم سب اس کے انتظار میں تھے ، آپﷺنے فرمایا: علی کو میرے پاس لاؤ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لایا گیا اس حال میں ان کی آنکھیں دکھتی تھیں ، آپ ﷺنے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا اور ان کو جھنڈا عطا کیا ، الله ﷻ نے ان پر خیبر فتح کردیا اور جب آیت نازل ہوئی : (ترجمہ:) آپ کہیے: آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ ، تو رسول الله ﷺ نے حضرت علی ، حضرت فاطمہ ، حضرت حسن ، اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور کہا: اے الله ﷻ! یہ میرے اہل ہیں۔
صحيح مسلم، رقم الحديث: 2404، جامع الترمذي، رقم الحديث: 4090
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ فِي بَعْضِ حَجَّاتِهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدٌ فَذَكَرُوا عَلِيًّا فَنَالَ مِنْهُ فَغَضِبَ سَعْدٌ وَقَالَ تَقُولُ هَذَا لِرَجُلٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " مَنْ كُنْتُ مَوْلاَهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاَهُ " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلاَّ أَنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلاً يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
حضرت سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک بار سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حج کے لئے تشریف لائے تو سعد رضی اللہ عنہ ان کے پاس( ملاقات کے لئے) گئے۔ (اثنائے گفتگو میں) حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ چھڑ گیا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو برا بھلا کہا۔ سعد رضی اللہ عنہ کو غصہ آگیا اور فرمایا: آپ ایسے شخص کے بارے میں یہ بات کہہ رہے ہیں جس کے متعلق میں نے رسول الله ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے:’’ جس کا مولیٰ میں ہوں، علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا مولیٰ( دوست) ہے۔‘‘ اور میں نے آپ ﷺ سے سنا کہ آپ نے ( علی رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا:’’ تیرا مجھ سے وہی تعلق ہے جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام سے تھا، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ اور میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا:’’آج میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو الله ﷻ سے اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔ (اور وہ جھنڈا علی رضی اللہ عنہ کو ملا)۔
سند صحيح ہے (الألباني)۔
سنن ابن ماجة، رقم الحديث: 121
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِعَلِيٍّ " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے حضرت ہارون علیہ السلام تھے ۔
صحيح البخاري، رقم الحديث: 3706، صحيح مسلم، رقم الحديث: 2404
أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ابْنُ أَبِي غَرَزَةَ، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْقَطَعَتْ نَعْلُهُ فَتَخَلَّفَ عَلِيٌّ يَخْصِفُهَا فَمَشَى قَلِيلًا ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ» فَاسْتَشْرَفَ لَهَا الْقَوْمُ، وَفِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا هُوَ، قَالَ: «لَا» قَالَ عُمَرُ: أَنَا هُوَ، قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ خَاصِفُ النَّعْلِ» - يَعْنِي عَلِيًّا - فَأَتَيْنَاهُ فَبَشَّرْنَاهُ، فَلَمْ يَرْفَعْ بِهِ رَأْسَهُ كَأَنَّهُ قَدْ كَانَ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
ابو سعید سے روایت ہے کہ ہم رسول الله ﷺ کے ساتھ تھے کہ انکی جوتی ٹوٹ گئی، تو انہوں نے وہ علی رضی اللہ عنہ کو دیدی گانٹھنے کیلئے، پھر وہ تھوڑا سا چلے اور انہوں نے کہا کہ بیشک تم میں سے ایک ہے جو قرآن کی تاویل کیلئے ایسے لڑے گا جس طرح میں قرآن کی تنزیل کیلئے لڑا، پھر سب لوگ متوجہ ہوئے، اور ہم میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما موجود تھے، حضرت أبو بکر نے کہا کہ کیا وہ شخص میں ہوں، رسول الله ﷺ نے کہا نہیں، حضرت عمر نے پوچھا کہ کیا وہ خوش نصیب میں ہوں، آپ ﷺ نے کہا نہیں، بلکہ وہ وہ ہے جو میری جوتی گانٹھ رہا ہے، اور حضرت علی انکی جوتی گانٹھ رہے تھے۔ صحابہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انکو خوشخبری سنائی، انہوں نے اپنا سر بلند نہ کیا، ایسے جیسے انہوں نے پہلی سے ہی یہ خوشخبری سن رکھی تھی رسول الله ﷺ سے۔
حاکم نے کہا: صحیح الإسناد ہے اور بخاری اور مسلم نے اسکو شامل نہیں کیا اپنے کتب میں۔
الذهبي نے تلخيص میں کہا: سند صحيح ہے۔
شيخ ارناووط نے کہا: حدیث صحیح ہے۔
المستدرك للحاكم، رقم الحديث: 4620، مسند أحمد، رقم الحديث: 11289، 11773 خصائص علي للنسائي، رقم الحديث: 156
مَنْ أَحَبَّ عَلِيّاً فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَبْغَضَ عَلِياً فَقَدْ أَبْغَضَنِي
رسول الله ﷺ نے کہا کہ جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔
سند صحيح ہے (الألباني)
الجامع الصغير، رقم الحديث: 10907
سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ سَبَّ عَلِيًّا، فَقَدْ سَبَّنِي "
رسول الله ﷺ نے کہا کہ جس نے علی کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی۔
سند صحيح ہے (الأرناوؤط، الهيثمي، الحاكم، الذهبي)
مسند أحمد، رقم الحديث: 26748
مَنْ أَحَبَّ عَلِيَّاً فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَحَبَّنِي فَقَدْ أَحَبَّ الله عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ أَبْغَضَ عَلِيَّاً فَقَدْ أَبْغَضَنِي وَمَنْ أَبْغَضَنِي فَقَدْ أَبْغَضَ الله عَزَّ وَجَلَّ۔
رسول الله ﷺ نے کہا کہ جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، جس نے مجھ سے محبت کی اس نے الله عز وجل سے محبت کی، جس نے علی سے بغض کیا اس نے مجھے سے بغض کیا، جس نے مجھے سے بغض کیا یقینا اس نے الله عز و جل سے بغض کیا۔
سند صحيح ہے (الألباني)
سلسلة الأحاديث الصحيحة، رقم الحديث: 1299
عَنْ زِرٍّ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَىَّ أَنْ لاَ يُحِبَّنِي إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلاَ يُبْغِضَنِي إِلاَّ مُنَافِقٌ .
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو تخلیق کیا ! نبیِ اُمی ﷺ نے مجھے بتا دیا تھا کہ "میرے ساتھ مومن کے سوا کوئی محبت نہیں کرے گا اور منافق کے سوا کوئی بغض نہیں رکھے گا ۔"
صحيح مسلم، رقم الحديث: 146
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ " لأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ رَجُلاً يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ " . قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَا أَحْبَبْتُ الإِمَارَةَ إِلاَّ يَوْمَئِذٍ - قَالَ - فَتَسَاوَرْتُ لَهَا رَجَاءَ أَنْ أُدْعَى لَهَا - قَالَ - فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا وَقَالَ " امْشِ وَلاَ تَلْتَفِتْ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ " . قَالَ فَسَارَ عَلِيٌّ شَيْئًا ثُمَّ وَقَفَ وَلَمْ يَلْتَفِتْ فَصَرَخَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى مَاذَا أُقَاتِلُ النَّاسَ قَالَ " قَاتِلْهُمْ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ مَنَعُوا مِنْكَ دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " .
سہیل کے والد (ابو صالح) نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کےدن فرمایا:"کل میں اس شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے،اللہ اس کے ہاتھ پر فتح عطافرمائے گا۔"حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب نے کہا: اس ایک دن کے علاوہ میں نے کبھی امارت کی تمنا نہیں کی، کہا: میں نے اس امید کہ مجھے اس کے لئے بلایا جائے گا اپنی گردن اونچی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا، ان کو وہ جھنڈا دیا اور فرمایا:"جاؤ،پیچھےمڑ کر نہ دیکھو،یہاں تک کہ اللہ تمھیں فتح عطا کردے۔"کہا:حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کچھ دور گئے،پھر ٹھر گئے،پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور بلند آواز سے پکار کر کہا:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کس بات پر لوگوں سے جنگ کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ان سے لڑو یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں،اگرانھوں نے ایسا کرلیا توانھوں نے اپنی جانیں اور اپنے مال تم سے محفوظ کرلیے،سوائے یہ کہ اسی(شہادت) کاحق ہو اوران کاحساب اللہ پر ہوگا۔"
صحيح مسلم، رقم الحديث: 2405
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عُمَرَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَيْرٌ فَقَالَ " اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي هَذَا الطَّيْرَ " . فَجَاءَ عَلِيٌّ فَأَكَلَ مَعَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ السُّدِّيِّ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ . وَعِيسَى بْنُ عُمَرَ هُوَ كُوفِيٌّ وَالسُّدِّيُّ اسْمُهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَرَأَى الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَزَائِدَةُ وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک پرندہ تھا ، آپ نے دعا فرمائی کہ اے للہ ! میرے پاس ایک ایسے شخص کو لے آجو تیری مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندہ کا گوشت کھائے ،تو علی آئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا۔
سند حسن ہے (دار السلام)
جامع الترمذي، رقم الحديث: 4087
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ صَلَّى مَعَ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ ذَكَّرَنَا هَذَا الرَّجُلُ صَلاَةً كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَفَعَ وَكُلَّمَا وَضَعَ.
عمران بن حصین سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بصرہ میں ایک مرتبہ نماز پڑھی ۔ پھر کہا کہ ہمیں انہوں نے وہ نماز یاد دلا دی جو کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھا کرتے تھے ۔ پھر کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب سر اٹھاتے اور جب سر جھکاتے اس وقت تکبیر کہتے ۔
صحيح البخاري، رقم الحديث: 784
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّكَ لَسْتَ نَبِيًّا، إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَّا وَأَنْتَ خَلِيفَتِي فِي كُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ بَعْدِي»
عبد الله ابن عباس سے روایت ہی کہ رسول الله ﷺ نے علی سے کہا: آپکو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسی سے تھی، سوائے یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ میں چلا جاؤں سوائے اسکے کہ میرے بعد آپ میرے خلیفہ ہوں ہر مؤمن کیلئے۔
سند حسن ہے (الألبانی)
كتاب السنة لإبن أبي عاصم، رقم الحديث: 1188
مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي
رسول الله ﷺ نے کہا: تم علی سے کیا چاہتے ہو؟ تم علی سے کیا چاہتے ہو؟ بیشک علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ میرے بعد ہر مومن کے ولی ہیں۔
إسناده صحيح (الألباني)
جامع الترمذي، رقم الحديث: 4077
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَرِيْحَةَ، أَوْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ شَكَّ شُعْبَةُ - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كُنْتُ مَوْلاَهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَأَبُو سَرِيحَةَ هُوَ حُذَيْفَةُ بْنُ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
رسول الله ﷺ نے کہا کہ جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کا علی مولا ہے۔
سند صحیح ہے (الألباني، دار السلام)
جامع الترمذي، رقم الحديث: 4078
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ - قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: قَالَتْ عَائِشَةُ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ، مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ، فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ فَدَخَلَ مَعَهُ، ثُمَّ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَدْخَلَهَا، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: " {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] "
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے جس پر کجاووں کی صورتیں یا ہانڈیوں کی صورتیں بنی ہوئی تھیں۔ اتنے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس چادر کے اندر کر لیا۔ پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی اس میں داخل کر لیا۔ پھر سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا آئیں تو ان کو بھی انہی کے ساتھ شامل کر لیا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی شامل کر کے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کو دور کرے اور تم کو پاک کرے اے اہل بیت۔(الاحزاب: 33)۔
صحيح مسلم، رقم الحديث: 2424
ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ نَجِيحٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي حِبَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ: مُفْرِطٌ فِي حُبِّي، وَمُفْرِطٌ فِي بُغْضِي
علی رضی الل عنہ نے کہا کہ میری وجہ سے دو لوگ ہلاک ہونگے، ایک وہ جو محبت میں بڑھ جائے گا اور دوسرا وہ جو بغض میں بڑھ جائے گا۔
شیخ الألباني: سند حسن ہے۔
احمد شاکر: سند حسن ہے۔
النسة لإبن أبي عاصم، رقم الحديث: 984، مسند أحمد، رقم الحديث: 1376
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسَاوِرٌ الْحِمْيَرِيُّ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ: " لَا يُبْغِضُكَ مُؤْمِنٌ وَلَا يُحِبُّكَ مُنَافِقٌ "
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول الله ﷺ کو علی رضی اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ آپ سے مومن بغض نہیں رکھ سکتا اور منافاق آپ سے محبت نہیں کر سکتا۔
شیخ شعیب ارناووط: حدیث صحیح ہے۔
مسند أحمد، رقم الحديث: 26507
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ قثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ السُّلَمِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: مَا كُنَّا نَعْرِفُ مُنَافِقِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ إِلَّا بِبُغْضِهِمْ عَلِيًّا.
جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم انصار کے لوگ منافقین کو نہیں پہچانتے تھے سوائے انکے علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے سے۔
سند حسن ہے (وصي الله محمد)
فضائل الصحابة، رقم الحديث: 1086
سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «عَلِيٌّ مَعَ الْقُرْآنِ وَالْقُرْآنُ مَعَ عَلِيٍّ لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ
میں نے الله ﷻ کے رسول ﷺ کو فرماتے سنا کہ علی قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی کے ساتھ ہے، یہ دونوں جدا نہیں ہونگے حتی کہ یہ میرے پاس حوض (الکوثر) پر پہنچ جائیں۔
حاکم نے کہا: صحیح الإسناد
الذهبي نے کہا: سند صحیح ہے۔
المستدرك للحاكم، رقم الحديث: 4628
عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُنَّا أَنَا وَعَلِيٌّ نُورًا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ آدَمَ بِأَرْبَعَةَ عَشَرَ أَلْفَ عَامٍ، فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ قَسَمَ ذَلِكَ النُّورَ جُزْءَيْنِ، فَجُزْءٌ أَنَا، وَجُزْءٌ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَامُ» .
رسول الله ﷺ نے کہا کہ میں اور علی ایک نور تھے الله عز و جل کے پاس، حضرت آدم علیہ السلام کے پیدا ہونے سے چودہ ہزار سال قبل، تو جب الله نے آدم علیہ السلام کو خلق کیا تو اس نور کے دو حصے ہوئے، ایک حصے میں ہوں اور دوسرا علی علیہ السلام ہیں۔
یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ اور مختلف اسانید کے ساتھ مختلف کتب میں آئی ہے، ہم ایک سند کا جائزہ لیتے ہیں۔
سند کا جائزہ:
عبد الرزاق: ثقة (سير أعلام النبلاء، ج 9، ص 564)
معمر بن راشد: حجت (تذكرة الحفاظ، ج 1، ص 190)، ثقة (سير أعلام النبلاء، ج 7، ص 5)
الزهري: الإمام العلم ، حافظ زمانه (سير أعلام النبلاء، ج 5، ص 327)
خالد بن معدان: وهو معدود في أئمة الفقه ، وثقه ابن سعد والعجلي ، ويعقوب بن شيبة ، وابن خراش ، والنسائي۔ (سير أعلام النبلاء، ج 4، ص 537)
زاذان: وكان ثقة ، صادقا ، روى جماعة أحاديث (سير أعلام النبلاء، ج 4، ص 281)
الغرض تمام راوی ثقہ ہیں اور حدیث صحیح ہے۔
تاريخ مدينة دمشق، ج 42، ص 67، فضائل الصحابة، رقم الحديث: 1130
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، وَابْنُ آدَمَ، يَعْنِي يَحْيَى، قَالَا: نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ ابْنُ آدَمَ: السَّلُولِيُّ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلِيٌّ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ، وَلَا يَقْضِي عَنِّي دَيْنِي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ» ، قَالَ ابْنُ آدَمَ: «وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ» .
ابن آدم سلولی جس نے حجت الوداع دیکھا تھا، اس نے کہا کہ رسول الله ﷺ نے کہا کہ علی مجھ سے ہے، اور میں اس سے ہوں، میرے بعد میرے دین کے احکام کوئی جاری نہیں کر سکتا سوائے علی کے، ابن آدم نے کہا: اور میری طرف سے صرف میں یا علی ادا کر سکتے ہیں۔
سند صحیح ہے (وصي الله محمد)
فضائل الصحابة، رقم الحديث: 1010
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، قَالُوا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَلاَ يُؤَدِّي عَنِّي إِلاَّ عَلِيٌّ " .
حضرت حُبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے:’’ علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، میری طرف سے صرف علی رضی اللہ عنہ ہی ادا کریں گے۔‘‘
سند حسن ہے (الألباني، دار السلام)
سنن ابن ماجة، رقم الحديث: 124، جامع الترمذي، رقم الحديث: 4085
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ: خَطَبَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ بَعْدَ وَفَاةِ عَلِيٍّ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَ: لَقَدْ فَارَقَكُمْ رَجُلٌ لَمْ يَسْبِقْهُ الْأَوَّلُونَ بِعِلْمٍ، وَلَا يُدْرِكُهُ الْآخَرُونَ.
علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے خطبہ پڑھا اور انکے سر پر ایک کالا عمامہ تھا، انہوں نے کہا کہ تم سے ایک ایسا شخص جدا ہوگیا ہے جس سے اولین میں سے کسی نے علم میں سبقت نہ لی تھی اور نہ آخرین میں سے کوئی ایسا آئے گا جو علم میں ان سے زیادہ ہوگا۔
سند حسن ہے (وصي الله محمد)
فضائل الصحابة، رقم الحديث: 1026
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا حَجَّاجٌ قثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ وَهُوَ ابْنُ عَازِبٍ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَتَّى كُنَّا بِغَدِيرِ خُمٍّ، فَنُودِيَ فِينَا: إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ، وَكُسِحَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَتَيْنِ، فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: «أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «هَذَا مَوْلَى مَنْ أَنَا مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالِاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» ، فَلَقِيَهُ عُمَرُ فَقَالَ: هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ.
براء بن عازب نے کہا کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے حجت الوداع میں حتی کہ ہم غدیر خم پہنچے۔ پھر ہمیں جماعت میں نماز پڑھنے کیلئے نداء دی۔ پھر رسول الله ﷺ دو درختوں کے درمیان جا کھڑے ہوئے اور علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ کیا میں مومن پر انکی جانوں سے زیادہ اولویت نہیں رکھتا؟ سب نے کہا کیوں نہیں یا رسول الله ﷺ۔ رسول الله ﷺ نے کہا کہ علی اسکا مولا ہے جسکا میں مولا ہوں۔ اے الله ﷻ اسے دوست رکھ جو علی کو دوست رکھے، اسکو دشمن رکھ جو علی کو دشمن رکھے۔ پھر حضرت عمر آکر ملے اور انہوں نے کہا اے ابو طالب کے بیٹے، آپکو مبارکباد ہو کہ آپ روز و شب ہر مومن و مومنہ کے مولا ہیں۔
سند صحیح ہے (شیخ ارناووط)
سند حسن ہے (وصي الله محمد)
فضائل الصحابة، رقم الحديث: 1042، مسند أحمد، رقم الحديث: 18479
Comments
Post a Comment