معاویہ کا جھوٹی احادیث کو جعل کرنا
معاویہ کا جھوٹی احادیث کو جعل کرنا اور گھڑنا:
معاویہ کے دور حکومت میں جعل حدیث کا سلسلہ شروع ہوا، یہاں تک کہ جو افراد اہل بیت کی مذمت میں احادیث جعل کرتے تھے، تو معاویہ سرکاری طور پر انکی کی پشت پناہی کرتا اور انکو مال و اکرام سے نوازتا تھا۔
ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 4، ص 63
معاویہ کی مدح میں اس قدر احادیث جعل ہوئیں کہ ابن تیمیہ بھی اس کا اقرار کرتا ہے۔ وہ حدیث طیر کے رد میں لکھتا ہے کہ:
معاویہ کے فضائل میں بہت زیادہ احادیث جعل کی گئیں اور مستقل کتابیں لکھی گئیں۔ حدیث کے اہل دانش نہ انہیں درست سمجھتے ہیں اور نہ اسے صحیح سمجھتے ہیں۔
ابن تیمیہ منہاج السنہ النبویہ، ج 7، ص 371
معاویہ کا حکومتی سسٹم اور نظام:
معاویہ نے اپنی توانائی کے تحت حکومتی استفادے کیلئے سودمند اداری طریقے، دیوانوں کی ایجاد اور مفید وسائل بروئے کار لا کر ان سے خوب فائدہ حاصل کیا۔ معاویہ کے دور حکومت میں دیوانوں کا تحول قابل مشاہدہ تھا۔ روم اور ایران کے ساتھ ارتباط میں یہ امر مؤثر تھا۔ اموی دفتری سسٹم میں اسے تکامل بخشے بغیر عمر ابن خطاب کی پیروی کرتے تھے۔ معاویہ نے اپنے پاس موجود رومی حکومت میں کام کرنے والے عیسائیوں جیسے سرجون ابن منصور رومی اور اسکے بیٹے منصور ابن سرجون سے دیوان منظم کرنے میں مدد لی تھی۔
صَّلاَّبي،عَلي محمد محمد ، الدولَۃ الأمويَّہ عَواملُ الازدہارِ وَتَداعيات الانہيار، ج 1 ص 356
معاویہ نے دیوان خاتم اور دیوان برید کے نام سے دو دیوان (ادارے) تاسیس کیے تا کہ خطوط مہر کے بغیر نہ رہیں اور خلیفہ کے علاوہ کوئی اور شخص ان کے اسرار سے آگاہ نہ ہو نیز خطوط جعل اور دگرگونی کا شکار نہ ہوں۔
دیوان البرید میں خطوط کی ارسال و ترسیل کا کام کیا جاتا۔ دیوان خاتم کے لوگ ان خبروں کو حاصل کرتے جو صوبوں کے گورنر خلیفہ کی طرف بھجواتے تھے۔ دیوان برید خلیفہ اور اسکے عاملوں وغیرہ کے درمیان ارتباط کو سرعت بخشنے کیلئے قائم کیا گیا۔ ان دو دیوانوں (اداروں) کے ملازمین خطوط کے ارسال و ترسیل کے علاوہ خلیفہ کے جاسوس بھی تھے جو گورنروں کی حرکات و سکنات کو زیر نظر رکھتے تھے اور اپنی معلومات خلیفہ کو پہنچاتے تھے۔ معاویہ نے ان اداروں کیلئے خطیر رقم خرچ کی تھی۔
اہم واقعات:
خوارج:
معاویہ کے دور حکومت میں خوارج کی نسبت گورنروں کے شدت عمل اور سختی کے باوجود وہ مسلسل ان کی جانب سے نا آرام رہے۔ معاویہ، امام علی (ع) کی نسبت خوارج سے زیادہ نفرت کرتا تھا اور خوارج معاویہ کو اسلام سے منحرف سمجھتے تھے۔ انکے اعمال نے اموی خلیفہ کو پریشان کیا اور وہ مسالمت آمیز راستوں کے مخالف تھے، اسی وجہ سے معاویہ نے انہیں خشونت سے جواب دیا۔
مرکز خلافت کے کوفہ سے دمشق منتقل ہونے کے ہمزمان خوارج نے معتدل تر اور سازگار تر راستہ اختیار کیا کہ جو حروریہ کی سرگرمیوں کا مرکز کوفہ سے بصرہ کی طرف منتقل ، ان کی تحریک میں اندرونی گروہ بندی اور سستی اور ایک عقیدتی گروہ کی صورت میں ظاہر ہوا۔
عقیدے کے لحاظ سے خوارج کی مختلف مشابہ گروہ بندی انکی فوجی طاقت پر منفی انداز میں مؤثر ہوئی، اس سے اموی حکومت کو ان پر غلبہ حاصل کرنے کا موقع ملا۔
جنگ نہروان خوارج کی پہلی اور آخری جنگ تھی جس میں وہ ایک دشمن کے مقابلے میں ایک سربراہ کی سرکردگی میں اکٹھے ہوئے تھے، اس کے بعد وہ پراکندہ ہو گئے۔ کوفہ کے خوارج نے فروة ابن نوفل اشجعی کی سربراہی میں امام حسن (ع) اور معاویہ کی صلح کی مخالفت کی اور ابھی معاویہ کوفہ میں ہی تھا کہ انہوں نے اس پر شورش بپا کرتے ہوئے نخیلہ میں لشکر کشی کی جس کے نتیجہ میں معاویہ کی سپاہ اور انکے درمیان جنگ ہوئی۔
ابن الأثير ، الکامل فی التاریخ، ج 3 ص 9
سن 43 ہجری میں مستورد ابن علقمہ کی سرکردگی میں معاویہ کے خلاف سب سے بڑی بغاوت ہوئی۔ کوفہ کے حاکم مغیره ابن شعبہ نے مذار نامی جگہ پر انہیں سرکوب کیا۔
خوارج کے قبائل کی پراکندگی، اہل کوفہ، عراق میں معاویہ کی مرکزی حکومت کا انکے مقابلے میں سخت مؤقف اور کوفیوں کے شیعیان آل علی کی جانب میلان نے بھی خوارج کی سرکوبی میں مغیرہ کی مدد کی۔ اگرچہ خوارج نے کوفیوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کافی کوششیں کیں لیکن کوفیوں نے سیاسی منافع کی وجہ سے انکے ساتھ جنگ کرنے کو ترجیح دی۔ کوفہ کے خوارج چند سال آرام کے ساتھ رہے یہانتک کہ سال 58 ہجری میں حیان ابن ظبیان سلمی نے شورش برپا کی۔ ایک سال بعد باقیاء میں ہونے والی جنگ میں تمام خوارج قتل ہو گئے اور اس طرح یہ بغاوت دم توڑ گئی۔
ابن الأثير ، الکامل فی التاریخ، ج 3 ص 108
بصرہ کے خوارج نیز کوفہ کے خوارج کی مانند کبھی کبھی شورشیں بپا کرتے تھے۔ وہاں سال 41 ہجری میں سہم ابن غالب اور خطیم باہلی کی قیادت میں قیام کیا۔ اموی حکمران ابن عامر نے انہیں سرکوب کیا۔ ابن عامر کو خوارج کے ساتھ نرم برتاؤ کرنے کی وجہ سے معاویہ کی جانب سے برطرف ہونا پڑا۔ سال 45 ہجری میں زیاد ابن ابیہ بصرہ کا حکمران بنا۔ اس نے خوارج کے مقابلے میں سخت گیرانہ سیاست اختیار کی۔ سال 53 ہجری میں زیاد کے مرنے کے بعد خوارج کی سرگرمیاں پھر نئے سرے سے شروع ہوئیں لیکن سال 55 ہجری میں عبید اللہ ابن زیاد کے حاکم بننے کے بعد اس نے ان کا تعاقب کیا اور انہیں زندانی اور قتل کیا۔
عراق سے باہر کے سیاسی حالات:
عراق سے باہر کے سیاسی حالات نے معاویہ کیلئے کوئی خاص مشکلات پیدا نہیں کیں۔ والیان کسی اعتراض کے روبرو ہوئے بغیر اپنی حکومتیں کرتے رہے۔ عمرو ابن عاص نے مصر میں دو سال حکومت کی اور سال 63 ہجری میں مر گیا پھر اس کا بیٹا عبد الله دو سال تک اس کا جانشین رہا، پھر معاویہ کا بھائی عتبہ ابن ابی سفیان اور پھر معاویہ ابن جدیج ترتیب کے ساتھ مصر کے حاکم رہے۔
حجاز میں امام حسن (ع)، امام حسین (ع)، عبد الله ابن زبیر و... جیسی قد آور اسلامی شخصیات تھیں۔ اس وجہ سے اس علاقے کو معاویہ مستقیم زیر نظر رکھتا تھا اور یہاں کے لوگوں کیلئے اموی خاندان کا والی بناتا تا کہ وہ اسکی سیاست کا اجرا کرے۔ مدینہ کے امور مروان ابن حکم اور سعید ابن عاص کے ذریعے چلائے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ غیر سیاسی مختلف سرگرمیوں جیسے مشاعرہ، موسیقی اور علوم دینی کی طرف لوگوں کو تشویق کرتا تھا۔ اس مسئلے نے مکہ اور مدینہ کو معاشرتی اور اجتماعی لحاظ سے اہم ترین مراکز میں تبدیل کر دیا تھا۔
شیعہ:
کسی شک و شبہ کے بغیر معاویہ شیعوں کو اپنے دشمنوں میں سے شمار کرتا تھا۔ معاویہ اور اسکے عاملین اور والی مختلف شکلوں میں شیعوں کے روبرو ہوتے تھے۔
امام علی (ع) سے بیزاری پیدا کرنا:
شیعوں کا مقابلہ کرنے کیلئے معاویہ کی اہم ترین روشوں میں سے ایک روش لوگوں کے درمیان امام علی (ع) سے نفرت و بیزاری کو پیدا کرنا تھا۔ معاویہ اور اسکے بعد کے دیگر اموی حاکمان معاشرے سے علی (ع) کے چہرے کو حذف کرنے کی خاطر ان کا ایک جنگجو اور خونریز شخص کے طور پر تعارف کرانے کیلئے سرگرم رہے۔
محمد سہیل طقوش، دولت امویان، ص 28
محفلوں میں ان سے نفرت کا اظہار کرتے اور ان پر لعن کرتے۔ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں معاویہ کی طرف سے علی (ع) کی مذمت میں جعلی اور من گھڑت احادیث کی طرف اشارہ کیا ہے۔
ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 4، ص 63 باب فصل في ذكر الأحاديث الموضوعة في ذم علي
معاویہ اور اسکے بعد امیوں کے دور حکومت میں علی (ع) پر لعن اور دشنام درازی ایک متداول اور رائج رسم تھی یہانتک کہ عمر ابن عبد العزیز کے دور میں اس کا خاتمہ ہوا۔
سیوطی، تاریخ الخلفاء، ص 243
چنانچہ جب مروان ابن حکم سے سوال کیا گیا کہ منبروں پر علی کو ناسزا کہا جاتا ہے ؟ اس نے جواب دیا:
بنی امیہ کی حکومت علی کو گالیاں دیئے بغیر باقی نہیں رہ سکتی ۔
عَن عمر بن عَلی قَالَ: قَالَ مروان لعلی بن الْحُسَین: ما کانَ أحد أکف عَن صاحبنا من صاحبکم. قَالَ: فلم تشتمونه عَلَی المنابر؟!! قَالَ: لا یستقیم لنا هذا إلا بهذا،
۔۔۔۔۔ یہ حکومت علی کو سبّ و شتم کیے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔
بلاذری، انساب الاشراف، ج 2، ص 184
معاویہ کہتا تھا:
علی پر لعن و سبّ اس طرح پھیل جانا چاہیے کہ بچے اسی عادت کے ساتھ بڑے ہوں اور جوان اسی کے ساتھ بوڑھے ہوں۔ کوئی شخص اسکی ایک بھی فضیلت نقل نہ کرے۔
ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 4، ص 57
العمانی، النصایح الکافیہ، ص 72
معاویہ نے سمرة ابن جندب کو چار لاکھ دینار دیئے کہ وہ کہے:
و هو الد الخصام،
سورہ بقرہ آیت 204
علی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 4، ص 361
اس نے صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت بنائی کہ جو علی (ع) کی مذمت میں جھوٹی روایات جعل کرتے تھے۔ ان میں سے ابو ہریره، عمرو ابن عاص، مغیره ابن شعبہ اور عروه ابن زبیر وغیرہ شامل تھے۔
وہ خطبے کے آخر میں علی (ع) پر لعن کرتا اور اگر اسکے والی ایسا نہ کرتے تو انہیں عزل کر دیتا۔ اس نے معاشرے میں اس قدر خوف و ہراس پیدا کر دیا تھا کہ لوگ اپنے بیٹوں کے نام، علی نہیں رکھتے تھے۔
حجر ابن عدی اور اسکے اصحاب کی شہادت:
جب مغیره اور دوسرے لوگ کوفہ میں منبر پر علی (ع) کو لعن کیا کرتے تھے تو ایسے حالات میں بھی حجر ابن عدی کندی اور عمرو ابن حمق خزاعی اور انکے ساتھی کھڑے ہو جاتے اور انکی لعن کو انکی طرف نسبت دیتے اور اس کے متعلق بات کرتے تھے۔ مغیره کے بعد زیاد ابن ابیہ حاکم کوفہ بنا۔ وہ انکی گرفتاری کے در پے ہوا۔ عمرو ابن حمق خزاعی اور اسکے ساتھ چند افراد موصل فرار کر گئے جبکہ حجر ابن عدی 13 افراد کے ساتھ اسیر ہو گیا اور انہیں معاویہ کی طرف روانہ کر دیا گیا۔ زیاد نے معاویہ کو خط میں لکھا کہ:
ابو تراب علی کی کنیت پر لعن کرنے والے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ مخالفت کرتے ہیں اور والیوں پر دروغ باندھتے ہیں، اس وجہ سے یہ اطاعت سے خارج ہو گئے ہیں۔ جب یہ اسیر مرج عذراء پہنچے کہ یہاں سے دمشق چند میل دور رہ گیا تھا تو معاویہ نے حکم دیا کہ انکی گردنیں اڑا دی جائیں۔ 6 افراد کسی کی سفارش اور وساطت سے بچ گئے اور باقی 7 افراد : حجر ابن عدی کندی، شریک ابن شداد حضرمی، صیفی ابن فسیل شیبانی، قبیصہ ابن ضبیعہ عبسی، محرز ابن شہاب تمیمی، کدام ابن حیان عنزی کی گردنیں اڑا دی گئیں۔
یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج 2، ص 162
اگرچہ یعقوبی نے افراد کی تعداد سات بیان کی ہے اور نام چھ افراد کے ذکر کیے ہے۔
عبد الرحمان ابن حسان عنزی.
الطبری، تاریخ الطبری، ج 4، ص 207
طبری نے 7 افراد کے نام ذکر کیے ہیں، محرز ابن شہاب کو تمیمی کی بجائے « سعدی منقری » کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
حجر ابن عدی اور اسکے ساتھیوں کی شہادت کی خبر امام حسین (ع) کیلئے نہایت گراں گزری لہذا آپ نے معاویہ کو ایک خط میں اس خشن آمیز رفتار اور اسکے قتل پر بہت سخت رد عمل کا اظہار کیا۔
الامامۃ والسیاسۃ، دینوری، ص 223
تاریخ طبری، ج 5، ص 279
رجال کشی، ص 99
عائشہ نے بھی اس کام پر سخت نکتہ چینی کی تو معاویہ نے اس کی توجیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں امت کی اصلاح تھی۔ عائشہ نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا:
سمعت رسول الله (صلی الله علیه و آله) یقول سیقتل بعذراء اناس یغضب الله لهم و اهل السماء،
میں نے رسول خدا سے سنا تھا کہ عنقریب لوگ عذراء میں قتل ہونگے اور اہل آسمان اور خدا انکے قتل کی وجہ سے خشم آور ہونگے۔
سیوطی، الجامع الصغیر، ج 2، ص 61
ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ج 12، ص 226
الصفدی، الوافی بالوفیات، ج 11، ص 248
مجلسی، بحار الانوار، ج 18، ص 124
حسن بصری نے کہا ہے کہ:
معاویہ میں ایسی چار خصلتیں ہیں کہ ان میں ہر ایک معاویہ کی ہلاکت کیلئے کافی ہے :
پہلی: کسی سے مشورے کے بغیر تلوار کے زور پر مسلمانوں کی گردنوں پر سوار ہو جانا جبکہ اس سے با فضیلت صحابہ موجود تھے۔
دوسری: اپنے دائم الخمر بیٹے کو جانشین بنانا کہ جو ہمیشہ ریشم پہنتا اور تنبور میں مشغول رہتا تھا۔
تیسری: زیاد کو اپنا بھائی کہنا جبکہ رسول خدا (ص) نے فرمایا تھا :
الولد للفراش و للعاہر الحجر،
بیٹا صاحب بستر کا ہے اور زنا کار کیلئے صرف پتھر ہیں۔
چوتھی: حجر کا قتل،
اس وقت دو مرتبہ کہا : ہائے افسوس حجر اور اس کے ساتھیوں پر۔
ابن الاثیر، الکامل فی التاریخ، ج 3، ص 487
الطبری، تاریخ الطبری، ج 4، ص 208
Comments
Post a Comment