کیا جھوٹا مدعی امامت زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہتا؟
کیا جھوٹا مدعی امامت زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہتا؟
تحریر: سید علی اصدق نقوی
الکافی وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے:
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ سِنَانٍ عَنْ يَحْيَى أَخِي أُدَيْمٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ صَبِيحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الله يَقُولُ إِنَّ هَذَا الامْرَ لا يَدَّعِيهِ غَيْرُ صَاحِبِهِ إِلا بَتَرَ الله عُمُرَهُ.
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کوئی نہیں جو اس امر (امامت) کا مدعی ہو سوائے اس کے حقدار کے مگر یہ کہ اللہ اس کی عمر کو قطع کر دے گا۔ (1)
اعتراض: اگر یہ حدیث صحیح ہے، تو اس کا مقتضی یہ ہوا کہ جو بھی امامت کا دعویدار ہو درحالیکہ وہ جھوٹا ہے اور اس کا حقدار نہیں تو وہ طویل عمر نہ پائے گا بلکہ اس دعوے کے کچھ عرصے بعد ہی ہلاک ہوجائے گا۔ یہی شرح علماء نے بھی بیان کی ہے مثلا علامہ مجلسی قدس سرہ لکھتے ہیں:
كما قطع عمر محمد وإبراهيم وأضرابهما.
جیسا کہ خداوند نے محمد، ابراہیم اور ان جیسوں کی عمر کو کاٹ دیا۔ (2)
علامہ مازندرانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
قوله (أن هذا الأمر لا يدعيه غير صاحبه إلا بتر الله عمره) كل من ادعى أنه صاحب الأمر ولم يكن هو صاحبه بتر الله عمره وقطعه كما وقع في كثير.
ان کا فرمانا کہ "کوئی نہیں جو اس امر (امامت) کا مدعی ہو سوائے اس کے حقدار کے مگر یہ کہ اللہ اس کی عمر کو قطع کر دے گا" (یعنی) جو بھی دعویٰ کرے گا کہ وہی صاحب امر (امام) ہے مگر وہ اس کا اہل نہ ہو تو اللہ اس کی عمر کاٹ دے گا جیسا کہ کئیوں کے ساتھ واقع ہوا ہے۔ (3)
پھر یہ بھی درست ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے بہت سے اصحاب نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے بعد عبد اللہ افطح کو اپنا امام مانا تھا مگر چونکہ ان کی وفات کچھ ایام بعد ہی ہوگئی تو وہ ان کی امامت سے رجوع کر گئے جبکہ ایک گروہ ان کی امامت پر رہا جیسا کہ شیخ کشی قدس سرہ نے بیان کیا ہے:
ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اَللَّهِ مَاتَ بَعْدَ أَبِيهِ بِسَبْعِينَ يَوْماً فَرَجَعَ اَلْبَاقُونَ إِلاَّ شُذَّاذاً مِنْهُمْ عَنِ اَلْقَوْلِ بِإِمَامَتِهِ إِلَى اَلْقَوْلِ بِإِمَامَةِ أَبِي اَلْحَسَنِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَجَعُوا إِلَى اَلْخَبَرِ اَلَّذِي رُوِيَ أَنَّ اَلْإِمَامَةَ - لاَ تَكُونُ فِي اَلْأَخَوَيْنِ بَعْدَ اَلْحَسَنِ وَاَلْحُسَيْنِ…
پھر عبد اللہ (افطح) اپنے والد (امام صادق علیہ السلام) کے 70 دن بعد وفات پا گئے تو باقی لوگ سوائے شاذ و نادر کے ان کی امامت کے قول سے رجوع لائے امام موسی کاظم علیہ السلام کی امامت کی طرف اور اس خبر کی طرف رجوع لائے جو مروی ہے کہ امامت دو بھائیوں میں حسن و حسین علیہما السلام کے بعد نہیں ہوگی۔۔۔ (4)
پس عبد اللہ افطح کی امامت کے ابطال پر ایک دلیل یہ بھی بیان ہوئی ہے کہ چونکہ ان کی وفات امام جعفر صادق علیہ السلام کے چند ایام بعد ہی ہوگئی تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ امامت ان کو نہ ملی تھی۔ لہذا یہی تفسیر و تشریح علمائے اعلام نے مذکورہ بالا حدیث کی بیان کی ہے۔ لیکن دیکھنے میں آتا ہے کئی ایسے منصوص امامت کے مدعی رہے ہیں جنہوں نے طولانی عمر بھی پائی اور جو طبعی موت مرے، اور بعض آج تک بقید حیات ہیں۔ بطور مثلا موجودہ آغا خان تقریبا 90 سال کے ہو چکے ہیں اور وہ منصوص و معصوم امامت کے مدعی ہیں مگر ان کی عمر کو خداوند نے قطع نہ کیا۔ نہ ہی یہ امر ان کے اجداد میں حاصل ہے جیسے آغا خان چہارم کے دادا آغا خان سوم 79 سال تک زندہ رہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کو دیکھا جائے تو وہ نبوت و امامت کے عہدے کا مدعی تھا کہ خود کو عیسی علیہ السلام کی آمد ثانی اور امام مہدی علیہ السلام جانتا تھا۔ اس کے باوجود اس کی موت 73 سال کی عمر میں ہوتی ہے۔ اور ایسی کئی دیگر مثالیں ہیں جیسے بہاء اللہ جو مہدی و عیسی اور نبی ہونے کا مدعی تھا مگر 74 سال کی عمر تک زندہ رہا۔ غرضیکہ بہت سے اشخاص کا ادعاء ہے کہ چونکہ حدیث میں یہ وعدہ آیا ہے اور ہم اس وعدے پر پورا اترے کیونکہ ہماری امامت صحیح ثابت ہوئی۔ اس میں یہ اضافہ بھی کریں کہ خداوند تعالی نے قرآن مجید میں جھوٹے نبوت و رسالت کے مدعیان کے لیئے قاعدہ بیان فرمایا ہے کہ ان کا انجام کیا ہوگا اور بالخصوص تعلیق بالمحال کے طور پر آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بابت فرمایا ہے کہ اگر بالفرض وہ بھی نادرست کلام خداوند سے منسوب کرتے تو کیا ہوتا:
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ ﴿الحاقة: ٤٤﴾ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ﴿الحاقة: ٤٥﴾ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ﴿الحاقة: ٤٦﴾ فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ ﴿الحاقة: ٤٧﴾
اور اگر وہ ہمارے خلاف باتیں بنا دیں تو ہم انکو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے۔ پھر ہم انکی شہہ رگ کاٹ دیتے، تو تم میں سے کوئی بھی اسکو روک نہ سکتا۔
کیونکہ اسی سے مسیلمہ کذاب وغیرہ کا دروغ آشکارا ہوا کہ ان کا انجام دنیوی عذاب کی صورت میں بھی ظاہر ہوا اور اخروی عذاب تو بہر حال ہے ہی۔ اور اگر کہا جاتا ہے کہ یہ آیات فقط نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے اثبات کے لیئے مختص ہیں تو اس سے یہ آیات لا یعنی ہوجاتی ہیں کیونکہ اس کا معنی ہوا کہ خداوند اس خصوصی نبوت کے سلسلے میں تو جھوٹ کی نسبت کو برداشت نہیں کرے گا لیکن اور کوئی اللہ تبارک و تعالی سے جو بھی منسوب کرتا رہے اور خود کو نبی و امام بتاتا رہے اس کا کوئی تعاقب نہ ہوگا۔ پھر سچے اور جھوٹے نبی و امام کی تفریق کیسے ممکن ہو سکے گی؟
جواب: جاننا چاہیئے کہ جھوٹا امامت منصوص من اللہ کا دعویدار احادیث ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی رو سے کافر ہے جیسا کہ جھوٹا نبی و رسول ہونے کا مدعی بھی کافر، اور بتحقیق ایسے مدعی کے لیئے آخرت میں سخت سے سخت عذاب ہے کہ اس نے خداوند پر جھوٹ بھی باندھا ہے اور لوگوں کو گمراہ کرکے راہ راست سے دور کیا ہے۔ رہی بات دنیوی عذاب کی تو حدیث مذکورہ کہ جھوٹے امامت کے دعویدار کی عمر کاٹ دی جاتی ہے تو اولا اس حدیث کے متعلق علامہ مجلسی علیہ الرحمہ حکم دیتے ہیں:
الحديث الخامس : ضعيف على المشهور معتبر.
پانچویں حدیث: بربنائے مشہور ضعیف ہے، (مگر) معتبر ہے۔ (5)
ہم کہتے ہیں: سندا یہ حدیث ضعیف ہے، سند میں يَحْيَى أَخِي أُدَيْمٍ سے مصادر حدیث میں بجز اس حدیث کے اور کچھ مروی نہیں اور بظاہر یہ تصحیف ہے مگر بہر صورت راوی کی جہالت کے باعث سند وثاقت و اعتبار سے ساقط ہے۔ رہی بات حدیث کی دلالت کی تو اگر تو اس سے یہی مراد لیا جائے جیسا کہ علماء کا قول ہے کہ جھوٹا امامت کا دعویدار امامت کے ادعاء کے بعد زیادہ ایام بقید حیات نہ رہے گا تو واقع میں یہ امر متحقق نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے برعکس مشاہدہ ہوتا ہے جیسا کہ ہم نے آغا خان یا مرزا قادیانی اور ان جیسوں کی مثالیں بیان کیں جو پچھلی صدیوں میں گذرے ہیں اور انہوں نے نبوت و امامت کا ادعاء تو کیا مگر ہلاک نہ ہوئے بلکہ کئی دہائیوں بعد ارذل عمر تک پہنچ کر ان کی وفات ہوئی۔ نیز ہم کہتے ہیں: یہ حدیث خبر واحد ہے اور اعتقاد میں مفید نہیں لا سیما کہ اس کی سند میں بھی ضعف ہے جبکہ آپ جانتے ہیں کہ اعتقاد میں حدیث کی سندی صحت کے ساتھ اس کا تواتر بھی شرط ہے۔ وگرنہ یہ اشخاص اس حدیث سے حجت پکڑتے ہیں کہ چونکہ ہمارے امام یا نبی بعد از ادعائے امامت و نبوت کے بھی عمر طولانی رہی تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارا صاحب صادق ہے۔ تو اس صورت میں بھی جمع نقیضین لازم آئے گا کہ دونوں کو بیک وقت قبول کرنا بھی استحالہ رکھتا ہے۔ اسی سلسلے میں سورۂ حاقہ کی آیات کو ذکر کیا جائے جن میں ہے کہ نبوت کا جھوٹا دعویدار عذاب الہی میں مبتلیٰ ہوگا تو اس صورت میں بھی بہت سے جھوٹے نبوت یا مہدویت کے مدعی رہے جیسے ریاض احمد گوہر شاہی جن کا یہ انجام نہ ہوا۔ بہاء اللہ کہ نبوت و مہدویت کا مدعی تھا نے بھی طویل عمر پائی اور اپنے دعوؤں کے کئی دہائیوں بعد ہلاک ہوا۔ پس اس حدیث کی رو سے یا تو ان سب کی تصدیق کرنی ہوگی، جو کہ باطل ہے کیونکہ سب کے دعاوی متضاد ہیں، یا پھر ان میں سے ایک کی تصدیق اور باقی کی تکذیب کرنی ہوگی، جو کہ باطل ہے کیونکہ تخصیص بلا مخصص محال ہے، یا سب کی تکذیب کرنی ہوگی اور اس صورت میں اس حدیث کی یا تو تکذیب کی جائے گی کیونکہ ملزوم یا تالی کے رفع ہونے سے لازم یا مقدّم کا رفع ہونا لازم آتا ہے جیسا کہ قیاس استثنائی کی تقریر ہے، یا اس حدیث کی تاویل ہوگی۔ اور اس حدیث کو پراسرار کہنا بھی اس لحاظ سے ممکن نہیں کہ اس میں شیعوں کے لیئے قاعدہ بیان ہوا ہے جس سے وہ سچے اور جھوٹے امام میں تفریق کر سکیں۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اس حدیث کی متابعت یا شواہد کے طور پر ہمیں اور کوئی حدیث نہیں ملتی۔ پس حاصل یہ ہے کہ سند، دلالت، اور واقعیت کی رو سے یہ حدیث ناقابل اعتبار ٹھہرتی ہے۔
رہی بات سورۂ حاقہ کی آیات کی تو یہ آیات قرآن کے کلام الہی ہونے کی حقانیت کی ذیل میں ہیں۔ اور ضروری نہیں کہ مراد ان آیات سے ظاہری معنی میں شہہ رگ کاٹنا ہو بلکہ مراد ان آیات سے بے نقاب کرنا اور باطل کو آشکارا کرنا ہے۔ پس اگر معاذ اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿النجم: ٣﴾ نہ ہوتا تو خداوند باطل کو ظاہر فرماتا جیسا کہ اس نے جھوٹے مدعیان کے لیئے کیا۔ پھر وہ باطل کا اظہار کبھی دنیوی عذاب کی صورت میں ہو سکتا ہےاور کبھی حجج قاہرہ و ظاہرہ کے ذریعے ممکن ہے اور کبھی خود اسی جھوٹے نبی یا امام کے کسی ایسے قول و فعل سے ظاہر ہے جو اس کے نص و عصمت کے دعوے کے منافی ہو۔ اور یہ بقیہ صورتیں ان مذکورہ جھوٹے مدعیان کے لیئے ثابت ہیں جو ہم ذکر کر چکے خواہ ان کی عمر ادعاء کے بعد کتنی ہی طولانی رہی ہو۔ کیونکہ حدیث مذکورہ ضعف رکھتی ہے اور اعتقاد میں مفید نہیں اور اس کا ظاہر بھی حقائق سے قابل اطلاق نہیں مگر آیات قرآن کا بیان مجاز پر حمل ہونا لغت میں جائز و سائغ ہے کہ جب اس کے اساسی دعوے کا ابطال ہوگیا تو گویا اس شخص کی شہہ رگ کاٹ دی گئی، کیونکہ شہہ رگ سے حیات ہے اور اسی طرح ایک کذاب و دجال کے دعوے کی بنیاد کے ابطال میں اس کے دعوے کی موت ہے، اور اس میں عمر طویل یا قصیر ہونے کی شرط نہیں، فلا سبيل له إلى الخروج من تلك الشناعة والبشاعة وسبيله إلى سقر وبئس المصير ونستجير بالله العلي الكبير.
مآخذ:
(1) الكافي، ج 1، ص 373، ثواب الأعمال، ص 214
(2) مرآة العقول، ج 4، ص 194
(3) شرح أصول الكافي للمازندراني، ج 6، ص 346
(4) رجال الكشي، الرقم: 472
(5) مرآة العقول، ج 4، ص 194
Comments
Post a Comment