حضرت مختار ثقفی رض ، اہل بیت ع کی نگاہ میں

حضرت مختار ثقفی رض  ، اہل بیت ع کی نگاہ میں

تحریر : سید علی حیدر شیرازی
قسط : اول 

                     " بسم اللہ الرحمٰن الرحیم "

حضرت مختار بن ابو عبیدہ ثقفی رض تاریخ کی ان مظلوم شخصیات میں سے ہیں جن کا جرم فقط محبت اہل بیت ع رہی ہے ، آپکا شمار شیعانِ علی ع میں ہوتا ہے 

آپ رض نے جس طرح کربلا کے بعد قیام کرکے قاتلین حسین ع کو چن چن کر قتل کیا 
اس عمل سے اموی نمک خوار مؤرخ اتنے خائف ہوئے کہ آپ کی شخصیت کو مجروح کرنے کی ہر ممکن کوشش کی 
ان روایات کو بنیاد بنا کر ہمیشہ دشمنان اہل بیت ع نے منبروں سے آپ رض کی شخصیت کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے

بدقسمتی سے اس پروپیگنڈے کو پھیلانے کا سبب 
مکتبِ اہل بیت ع کے لبادے میں چھپے کچھ بھیڑیے بھی بنے جو اب آپ رض کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہیں اور آپ رض پہ قتل حسین ع کیش کروانے کا الزام تک لگایا

البتہ محققین تشیع نے ہمیشہ ایسے ناقص العقل حضرات کی بیخ کنی کی اور جناب مختار رض کی شخصیت کا مکمل دفاع فرمایا ہے

حضرت مختار ثقفی رض کی شخصیت سے متعلق معصومین علیہم السلام کی مدح میں وارد روایات 
                 
                          -------------------------

رجال کشی میں ابوعمرو کشی نے حضرت مختار رض پر پورا باب قائم کیا ہے اور اس میں جناب مختار رض کی مدح پر روایات نقل کی ہیں
روایت ملاحظہ ہو :

الْمُخْتَارُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ

حَمْدَوَيْهِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَنْ يَعْقُوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ سَدِيرٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ (ع) قَالَ‏ لَا تَسُبُّوا الْمُخْتَارَ فَإِنَّهُ قَتَلَ قَتَلَتَنَا وَطَلَبَ بِثَارِنَا وَزَوَّجَ أَرَامِلَنَا وَقَسَمَ فِينَا الْمَالَ عَلَى الْعُسْرَةِ.

حمدویہ نے کہا: مجھ سے یعقوب نے بیان کیا جس نے ابن ابی عمیر سے جس نے ہشام بن مثنی سے جس نے سدیر سے جس نے امام باقر ع سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: 

" مختار کو برا مت کہو، کیونکہ اس نے ہمارے قاتلوں کو قتل کیا اور ہمارے خون کا بدلہ طلب کیا، اس نے ہماری بیواؤں کی شادی کرائی اور مشکل حالات میں ہمارے درمیان مال تقسیم کیا".

رجال کشی ص ۹۷ 
                                                    
علامہ حلی رح نے خلاصۃ الاقوال میں جناب مختار رض کے باب میں رجال کشی سے یہ روایت نقل کی ہے اور اس روایت کی سند کو " حسن " قرار دیا ہے 

خلاصة الأقوال ، ص ۲۷۶
                          -------------------------

دوسری روایت :

 إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُتَّلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِدْرِيسَ الْقُمِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْكُوفِيُّ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ سَيْفِ بْنِ عَمِيرَةَ، عَنْ جَارُودِ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ (ع) قَالَ‏ مَا امْتَشَطَتْ فِينَا هَاشِمِيَّةٌ وَلَا اخْتَضَبَتْ حَتَّى بَعَثَ إِلَيْنَا الْمُخْتَارُ بِرُءُوسِ الَّذِينَ قَتَلُوا الْحُسَيْنَ (ع).

ابراہیم بن محمد ختلی نے کہا: مجھ سے احمد بن ادریس قمی نے بیان کیا، اس نے کہا: مجھ سے محمد بن احمد نے بیان کیا، جس نے کہا: مجھ سے حسن بن علی کوفی نے بیان کیا جس نے عباس بن عامر سے جس نے سیف بن عمیرہ سے جس نے جارود بن منذر سے جس نے امام صادق ع سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: 
" ہماری ہاشمی عورتوں نے کھنگی نہیں کی اور نہ خضاب کیا حتیٰ کہ مختار نے ہمارے پاس انکے سروں کو بھیجا جنہوں نے حسین ع کو قتل کیا تھا".

رجال کشی ، ص ۹۸

سید خوئی نے لکھا ہے : " یہ روایت صحیح ہے".

معجم رجال الحديث، ج ۱۹ ، ص ۱۰۲، 

شیخ آصف محسنی نے بھی اس روایت کو اپنی معجم الاحادیث المعتبرہ میں نقل کیا ہے

معجم الاحادیث المعتبرہ ، ج ۱ ، ص ۱۹۰
                              ------------------
تیسری روایت : 

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَمْرِيُّ الْمَكِّيُّ، قَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ زَيْدِ  بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ‏، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ (ع) لَمَّا أُتِيَ بِرَأْسِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ وَرَأْسِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ فَخَرَّ سَاجِداً وَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَدْرَكَ لِي ثَارِي مِنْ أَعْدَائِي، وَجَزَى اللَّهُ الْمُخْتَارَ خَيْراً.

مجھ سے محمد بن مسعود نے بیان کیا جس نے کہا مجھ سے ابو الحسن علی بن ابی علی خزاعی نے بیان کیا جس نے کہا مجھ سے خالد بن یزید عمری مکی نے بیان کیا جس نے کہا مجھ سے حسین بن زید بن علی بن حسین نے بیان کیا جس نے کہا مجھ سے عمر بن علی بن حسین نے بیان کیا کہ امام علی بن حسین ع کے پاس جب عبید اللہ بن زیاد اور عمر بن سعد کا سر لایا گیا تو راوی کہتے ہیں: 
امام ع سجدہ ریز ہوگئے اور فرمایا: 

" سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس نے مجھے میرے دشمنان سے بدلہ دکھایا اور اللہ مختار کو اچھی جزاء دے" ۔ 

رجال کشی ، ص ۹۸ 
                             ----------------------
چوتھی روایت : 

جِبْرِيلُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْعُبَيْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ أَسْبَاطٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَمَّادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَزَوَّرٍ، عَنِ الْأَصْبَغِ، قَالَ‏ رَأَيْتُ الْمُخْتَارَ عَلَى فَخِذِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ (ع) وَهُوَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ يَا كَيِّسُ يَا كَيِّسُ.

جبریل بن احمد نے کہا: مجھ سے عبیدی نے بیان کیا جس نے کہا: ہم سے علی بن اسباط نے بیان کیا جس نے عبد الرحمان بن حماد سے جس نے علی بن حزور سے جس نے اصبغ سے روایت کی، اس نے کہا: میں نے مختار کو امیر المؤمنین ع کی گود میں دیکھا اور وہ اسکے سر پر ہاتھ پھیر کر فرما رہے تھے:
"  اے کیس، اے کیس (یعنی اے زیرک و ذہین)".

رجال کشی ، ص ۹۸
                          --------------------------


 سید علی بروجردی رح جناب مختار سے متعلق لکھتے ہیں :

أن الرجل قد صدر منه الامر العظيم والفعل الجسيم الذي قد عجز عنه الاثبات والثقات، خصوصا مع صدور الترحم من الإمام عليه السلام عليه من طريق حسن، فلا يعبأ بما ورد من الروايات الذامة.

مختار سے ایک عظیم و بڑا امر صادر ہوا جو بہت بڑے اور ثقہ لوگ بھی نہ کر سکے، خصوصاً اسکے ساتھ جو امام ع نے اس پر رحمت کی دعاء کی ہے جو حسن سند سے ہے، پس اسکی طرف توجہ نہ کی جائے جو اسکی مذمت میں روایات وارد ہوئی ہیں

طرائف المقال، ج ۲، ص ۵۸۹

                                 -----------------

آیت اللہ خوئی رح لکھتے ہیں :

أن خروج المختار وطلبه بثار الحسين عليه السلام، وقتلة لقتلة الحسين عليه السلام لا شك في أنه كان مرضيا عند الله، وعند رسوله والأئمة الطاهرين عليهم السلام، وقد أخبره ميثم، وهما كانا في حبس عبيد الله بن زياد، بأنه يفلت ويخرج ثائرا بدم الحسين عليه السلام، ويأتي في ترجمة ميثم... ويظهر من بعض الروايات أن هذا كان بإذن خاص من السجاد عليه السلام.

مختار کا خروج اور امام حسین ع کے خون کا بدلہ لینا اور حسین ع کے قاتلین کو قتل کرنا بلا شک اللہ کی رضاجوئی میں ہے اور اسکے رسول اور ائمہ طاہرین ع کے نزدیک بھی، اور میثم نے مختار کو بتا دیا تھا جب وہ دونوں عبید اللہ بن زیاد کی قید میں تھے کہ مختار رہا ہوجائے گا اور امام حسین ع کے خون کا بدلہ لے گا، میثم کے ذکر میں یہ بات ہم ذکر کریں گے۔۔۔ اور بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ (مختار کا خروج) امام سجاد ع کی خاص اجازت سے تھا۔ 

معجم الرجال الحدیث ، ج ۱۹ ، ص ۱۰۹

                               -----------------
آیت اللہ آصف محسنی کہتے ہیں : 

ولا شك ان عمل المختار صار سببا لمسرّة أهل البيت عليهم السلام ومساءة أعدائهم وهذا لايحتاج فهمه الى رواية وهي فضيلة عظيمة للمختار لكنّها لا تتعلق بوثاقته وصدقه.

اور اس میں شک نہیں کہ مختار کا عمل اہل بیت ع کی خوشی کا سبب بنا اور انکے دشمنوں کے غم کا بھی، اس کو سمجھنے کیلئے روایت کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بہت عظیم فضیلت ہے مختار کیلئے، مگر یہ چیز وثاقت اور سچائی سے تعلق نہیں رکھتی۔

معجم الاحادیث المعتبرہ ، ج ۱ ، ص ۱۹۰
                           --------------------

آیت اللہ صادق روحانی لکھتے ہیں : 

الغرض انہوں ( مختار ) نے چن چن کر دشمنان اہل بیت ع کو قتل کیا اس لیے آل محمد ع کے دشمنوں نے آپ کی مذمت میں روایات اختراع کیں.اور شیعوں کی نظر میں انہیں بےوقعت بنانے کےلیے آئمہ معصومین علیہم السلام کی زبانی روایات بھی گھڑیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا اور مختار کی شخصیت کو عزت و احترام عطا کیا 

قربان الشہداء ، ص ۶۴

                               -----------------

سید علی خامنہ ای لکھتے ہیں:

لذا میبینیم امام سجاد (ع) در قضیة مختار اعلام هماهنگی نمیکنند، گرچه در بعضی از روایات آمده است که ارتباطاتی پنهانی با مختار داشتند... وحتی در بعضی از روایات گفته میشود که امام سجاد نسبت به مختار بدگویی میکنند، و این هم خیلی طبیعی به نظر میرسد که این یک عمل تقیه آمیزی باشد که رابطهای بین آنها احساس نشود. البته اگر مختار پیروز میشد حکومت را بهدست اهلبیت میداد، اما در صورت شکست اگر آن، دامن امام بین امام سجاد و او رابطة مشخص و واضحی وجود می داشت یقینا نِقمتِ سجاد (ع) و شیعیان مدینه را هم میگرفت و رشتة تشیع قطع میشد. لذا امام سجاد هیچگونه رابطة آشکاری را با او برقرار نمیکنند.

پس ہم دیکھتے ہیں کہ امام سجاد ع مختار کے معاملے میں ہمآہنگی کھل کر نہیں بتاتے، اگرچہ بعض روایات میں آیا ہے کہ امام ع کے پوشیدہ تعلقات تھے مختار کے ساتھ۔۔۔ اور حتی کہ بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ امام سجاد ع مختار کی برائی کرتے تھے، اور یہ بھی بہت طبیعی چیز لگتی ہے کہ یہ تقیہ میں ہوگا تاکہ امام ع اور مختار کے درمیان کے رابطے کا (کسی کو) احساس نہ ہو۔ البتہ اگر مختار کامیاب ہوگا تو وہ حکومت کو اہل بیت ع کے ہاتھ میں دیتا، لیکن اگر ناکام ہوتا اور امام سجاد ع اور اسکے درمیان واضح رابطہ وجود رکھتا تو یقیناً امام سجاد ع اور شیعوں کی نقمت مدینہ کو بھی پہنچ جاتی اور تشیع کا تعلق ٹوٹ جاتا۔ اس وجہ سے امام سجاد ع نے کسی طرح کا واضح رابطہ نہیں رکھا اسکے ساتھ۔۔۔ 

اڑھائی سو سالہ انسان ، ص ۲۴۶ ، ۲۴۷

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں