وعلیکم السلام *امام ع کے جنازہ پر تیر...ایک تحقيق* امام حسن مجتبی ﴿ع﴾ کے جنازہ پر تیر باران کرنے کا واقعه شیعوں میں مشہور ہے اور بہت سے علماء نے اسے ذکر کیا ہے۔ سب سے پہلے ابن شہر آشوب نے زمخشری ﴿اہل سنت﴾ کی کتاب“ ربیع الابرار” سے روایت نقل کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:“ ورموا بالنبال جنازتہ حتی سل منھا سبعون نبلا۔” [1] “ حضرت ﴿ع﴾ کے جنازہ پر تیر باران کیا گیا، یہاں تک کہ تابوت پر ستر تیر آویزان ھو گئے”۔ لیکن کتاب “ ربیع الابرار”، طبع جدید میں ہم نے اس عبارت کو نہیں پایا، جبکہ اسی کتاب کے خلاصہ “ روض الجنان” میں یہ عبارت موجود ہے۔ پس لگتا ہے کہ کتاب “ ربیع الابرار ” کے جدید طبع میں اس عبارت کوحذف کیا گیا ہے ابن شھر آشوب نے اس عبارت کو، دوسروں، من جملہ شیخ مفید کی امام حسن ﴿ع﴾ کی وصیت پر مشتمل عبارت کے ضمن میں ذکر کیا ہے، لیکن خود شیخ مفید نے اسے ذکر نہیں کیا ہے۔ شیخ عباس قمی بھی صاحب مناقب ﴿ ابن شہر آشوب﴾ سے نقل کرتے ہیں:“ امام حسن ﴿ع﴾ کے جنازہ پر تیر باران کیا گیا اور دفن کرنے کے وقت اس سے ستر تیر نکالے گئے”۔[2] علامہ مجلسی نے بھی شیخ مفید کے کلام کو نقل کرنے کی ضمن میں ابن شہ...
امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں مختار ابن ابی عبید ثقفی پہلی صدی ہجری قمری کے تابعین میں سے تھا، جو طائف کا رہنے والا تھا۔ جو امام حسین (ع) اور آپ کے باوفا اصحاب کے خون کا انتقام لینے کی وجہ سے مشہور ہوا۔ مسلم ابن عقیل جب امام حسین (ع) کے سفیر کے عنوان سے کوفہ آئے تو مختار نے انکی میزبانی کی لیکن حضرت مسلم ابن عقیل کی شہادت کے وقت مختار عبید اللہ ابن زیاد جو اس وقت کوفہ کا والی تھا، کے زندان میں قید تھا۔ مختار نے اپنے قیام کے ذریعے واقعہ عاشورا اور امام حسین (ع) کے قتل میں ملوث بہت سے مجرموں کو قتل کیا۔ بعض اس بات کے معتقد ہیں کہ اس کے قیام کو امام زین العابدین (ع) کی تائید بھی حاصل تھی۔ مختار نے قیام کی کامیابی کے بعد کوفہ پر اپنی حکومت قائم کی اور 18 ماہ حکومت کے بعد مصعب ابن زبیر کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ ان کی قبر مسجد کوفہ میں مسلم ابن عقیل کی قبر کے ساتھ واقع ہے۔ نسب اور لقب: مختار ابن ابی عبیدہ ابن مسعود ابن عمرو ابن عمیر ابن عوف ابن عقدہ ابن غیرۃ ابن عوف ابن ثقیف ثقفی کہ جن کی کنیت ابو اسحاق اور لقب کیسان تھا۔ أسد الغابۃ ج4 ص 346 تاریخ طبری، ج 6 ص 7 کہا جاتا ہے کہ فرق...
🛑 أمير المؤمنين امام علی علیہ السلام ،، 🛑 کیا خلفاء کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔۔ !! 🟡 یہ سوال اھلسنت کا ھر فرد بڑے فخر یہ انداز میں شیعوں کے خلاف ایک بہت بڑے ھتھیار کے طور پر استعمال کرتا ھے ۔ ان کے اپنے خیال میں یہ ایک ایسا سوال ھے جو اھلسنت کے خلفاء ثلاثہ کی خلافت کو ثابت کر سکتا ھے ۔ اور انکی خلافت کو قانونی اور شرعی جواز مل سکتا ھے ۔ اور شیعوں کے خلفاء ثلاثہ کے خلاف موقف کو باطل ثابت کر نے کے لیئے ایک دندان شکن سوال ھے ۔ ان کے خیال کے مطابق جس کا جواب کوئی شیعہ عالم نہیں دے سکتا ۔ اسی لیئے سوال بنانے والوں نے بڑے سوچ سمجھ کر یہ سوال ارشاد بھٹی صاحب کے ہاتھوں تھما دیا تھا ۔ اور انہوں نے یہ سوال علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی صاحب کے سامنے رکھا ۔۔ 🔵 سوال یہ تھا کہ امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام خلیفہ اول کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔ اس عمل سے یہ ثابت ھوتا ھے ۔ کہ حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں خلفاء ثلاثہ عادل تھے ۔ بس وہ امامت اور خلافت کے اھل تھے ۔ لہذا شیعوں کا خلفاء ثلاثہ کو نہ ماننا باطل عقیدہ ھے ۔۔۔۔۔۔۔ !! 🌒 اور اھلسنت اپنے اس مدعا کو بعضے شیعہ کتب روایات سے پ...
Comments
Post a Comment