گالی

کسی بھی شخص کو گالیاں دینا ، یا گالیاں نکالنا اچھا کا نہیں ہے۔  خواہ وہ کتنا ہی ظالم شیطان مردود ہی کیوں نہ ہو۔ 

البتہ لعنت کرنا، بیزارگی، اختیار کرنا، دوری اختیار کرنا، درست ہے۔ 

لفظ گالی کے الفاظ منہ پر نہیں لانے چاہئے۔ اسکا عام معاشرے پر برا اثر پڑتا ہے۔ سننے والوں میں بچے بزرگ اور عورتیں بھی ہوتی ہیں۔ اور گالیمیں اکثر برے فعل کی طرف اشارہ ہوتا ہے جو ایک مومن کو زیب نہیں دیتا کہ عملی طور پر سر انجام دے۔

جہاں آپ سمجھتے ہیں کہ کسی دشمن خدا سے برات کا اظہار کرنا ضروری ہے تو لعن کریں۔ 

Comments

Popular posts from this blog

امام ع کے جنازہ پر تیر...ایک تحقيق

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں

أمير المؤمنين امام علی علیہ السلام ،،🛑 کیا خلفاء کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔۔ !!