حکمت عملی کا انحصار حالات کار پر ہے


جنگ کرنا اور جنگ نہ کرنا، بیرونی حالات پر منحصر ہے۔۔نہ کہ اندرونی میلان اور طبیعت پر۔ اندرونی میلان اور طبیعت تمام انبیاء و اولیاء اللہ کا یکساں ہے۔ 

جب باہر سے ایسے حالات پیدا ہوں کہ جنگ گوروں کا جا سکے تو اس وقت اگر تمام انبیاء اور اولیاء بھی ہوں گے تو جنگ روکی جائیں گی۔۔جہاں پر ہجرت کی ضرورت ہوگی تو وہاں پر تمام انبیاء اور اولیاء ہجرت کریں گے۔۔جہاں پر جنگ کی ضرورت ہوگی تو وہاں پر تمام انبیاء اور اولیاء جنگ کریں گے۔ 

 امام حسن علیہ السلام کی صلح امام حسین علیہ السلام کی صلح تھی

اسی طرف امام حسین علیہ السلام کی جنگ امام حسن علیہ السلام کی جنگ تھی۔ 

خدا کے بندے بدلنے سے خدا کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں اتی۔۔یہاں پر جو منشاء خداوندی ہو وہ ہوتا ہے۔۔

اگر ایسا خیال نہیں کریں گے تو اختلاف، فتنہ و فساد پیدا ہو گا۔۔

یہ سوچ پیدا ہوگی کہ فلاں نے تو ایسا کیا اور فلاں نے ویسا کیا 

ان کے ایسا کرنے کے اختلاف میں۔۔ پیروکار انسانوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔۔کوئی کسی کو اپنا رہبر بنا کر پیش کرے گا اور کوئی کسی اور کو۔ 

کوئی کہے گا میں جنگ نہیں کرتا کیونکہ میں امام حسن کا پیروکار 

کوئی دوسرا یہ کہے گا کہ میں جنگ کرتا ہوں کیونکہ میں امام حسین کا پیروکار۔۔

جب کہ یہ حالات پر منحصر ہے کہ کب جنگ کرنی ہے کب صلح کرنی ہے اور کب ہجرت کرنی ہے۔ 

اس کے لیے حالات کا مطالعہ کرنا اور جائزہ لینا ضروری ہے۔۔

Comments

Popular posts from this blog

امیرمختار ثقفی کی شخصیت اور انکے قیام بارے میں