Posts

حضرت ‏امام زین العابدین علیہ السلام اور طواف کعبہ ‏

خلیفہ بنی امیہ ہشام بن عبد الملک حج پر گیا اور طواف کے بعد اس نے حجرِ اسود کو بوسہ دینے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے اپنی پوری دنیاوی شان و شوکت کے ساتھ چل پڑا۔ لیکن لوگ طواف اور اللہ کی تسبیح میں اتنے مشغول تھے کہ بادشاہ کو حجرِ اسود کی طرف جانے نہ دیا اور ہشام کے غلام بھی بے بس نظر آئے۔ پھر ہشام پلٹ گیا، ایک اونچے تخت پر جا بیٹھا اور حاجیوں کو دیکھنے لگا۔ اسی وقت امام زین العابدین علیہ السلام کی مسجد الحرام میں آمد ہوئی اور لوگوں نے آپ علیہ السلام کو راستہ دینا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر ہشام چونک اٹھا۔ کسی نے پوچھا کہ یہ کون شخصیت ہیں۔ ہشام نے جان کر انجان بنتے ہوئے کہا میں نہیں جانتا یہ کون ہیں اور کیوں لوگ ان کے ارد گرد جمع ہیں۔ فرزدق نے،جو اس وقت وہاں موجود تھے، جواب دیا: ’’لیکن میں جانتا ہوں یہ کون شخصیت ہیں‘‘ اور یہ کہہ کر ایک طویل قصیدہ بیان کیا: يَا سَائِلِي اَيْنَ حَلَّ الْجُودُ وَ الْكَرَمُ عِنْدِي بَيَانٌ إِذَا طُلَّابُهُ قَدِمُوا اے جود و کرم، شرافت و بزرگی کے مرکز کے بارے میں سوال کرنے والے، اس کا واضح جواب میرے پاس ہے اگر سوال کرنے والے میرے پاس آیئں۔ هَذَا الَّذِي تَعْرِفُ...

اولوا الامر سے مراد کون ھیں؟

اولوا الامر سے مراد کون ھیں؟ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ھوتا ھے:  <یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَطِیعُوا اللهَ وَاٴَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاٴُوْلِی الْاٴَمْرِ مِنْکُم> [1]  ”اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کروجو تمھیں میں سے ھیں“۔ یھاں پر یہ سوال اٹھتا ھے کہ اولوا الامر سے مراد کون حضرات ھیں؟ اولوا الامر کے بارے میں اسلامی مفسرین کے درمیان بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ھے، ذیل میں ھم اس کا خلاصہ پیش کرتے ھیں: ۱۔ بعض اھل سنت مفسرین اس بات کا عقیدہ رکھتے ھیں کہ ”اولوا الامر “ سے مراد ھر زمانہ اور ھر مقام کے حکام وقت اور بادشاہ ھیں،اور اس میں کسی طرح کا کو ئی استثنا نھیں ھے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی ذمہ داری ھے کہ وہ ھر حکومت کی پیروی کریں اگرچہ وہ مغل حکومت ھی کی کیوں نہ ھو۔ ۲۔ صاحب تفسیر المنار اور صاحب تفسیر فی ظلال القرآن وغیرہ اس بات پر عقیدہ رکھتے ھیں کہ اولوا الامر سے مراد عوام الناس کے نمائندے، حکام وقت، علمااور صاحبان منصب ھیں ،لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان کا حکم اسلامی قوانین کے برخلاف نہ ھو۔   ۳۔ بعض دیگر علماکے نزدیک اولوا الام...

محدثین شیعہ امامیہ کے بخاری پر عدم اعتماد کے چند دلائل

محدثین شیعہ امامیہ کے بخاری پر عدم اعتماد کے چند دلائل  پیش خدمت ہیں اس تحریر سے ہرگز مطلب یہ نہ لیا جاۓ کہ ہم نعوذ باللہ بخاری کی تکذیب کر رہے ہیں بلکہ ہم چند وجوہات بیان کر رہے ہیں جن کی وجہ سے شیعہ امامیہ اسے کو حجت تسلیم نہیں کرتے   بخاری  شریف جس کو مکتب اھلسنت میں ایک بلند مقام حاصل ھے اس کا مکمل نام الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللهﷺ وسننه وایامه ہے یہ اہل سنت کے ہاں  قرآن کریم کے بعد ـ معتبر ترین ماخذ حدیث ہے جس کو محمد بن اسماعیل بخاری  جن کی ولادت سنہ 194 اور وفات 256 ہجری قمری ھے  نے 16 سال کے عرصے میں تالیف کیا ہے اور اس کے مندرجات کو 600000 حدیثوں کے مجموعے سے اخذ کیا گیا ہے یہ کتاب اعتقادی اور فقہی موضوعات پر مشتمل کتاب ھے اور  صحیح بخاری کو 97 کتابوں اور 4350 ابواب میں مرتب کیا گیا ہے۔ مختلف ابواب میں بخاری کی احادیث کی تعداد مختلف ہے ابن صلاح کا کہنا ہے کہ اگر اس کتاب میں منقولہ مکررہ احادیث کو بھی الگ الگ شمار کیا جائے تو منقولہ احادیث کی تعداد 7275 تک پہنچتی ہے اور ابن صلاح اور نووی کے بقول اگر مکررات کو حذف کیا جائے...

‏آپ ٹھیک کہ رہے ہیں ۔۔

‏آپ ٹھیک کہ رہے ہیں ۔۔۔۔۔ ایک دانا شخص سے کسی نے پوچھا کہ”آپ اتنے خوش کیسے رہتے ہیں۔“ اُس نے کہا :”میں بیوقوف لوگوں سے بحث نہیں کرتا۔“ پوچھا ”پھر کیا کہتے ہیں ؟“ دانا شخص بولا میں انہیں جواب دیتا ہوں  ‏کہ ”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔“  پوچھنے والے نے کہا:”پھر بھی اپنی بات یا اپنا موقف منوانے کےلئے اسے قائل کرنے کے لئے آپ کو اسے کوئی دلیل, کوئی جواز تو دینا چاہیے ۔“  اس پر اُس دانا شخص نے پوچھنے والے کو تاریخی جواب دیا: ”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں“

موضوع امام بخاری اور معیار حدیث و محدثین شیعہ ‏

موضوع امام بخاری اور معیار حدیث و محدثین شیعہ  قارئین محترم ایک نئے موضوع کے ساتھ حاضر خدمت ہیں  یوں تو کتب صحین میں بے شمار شیعہ راویوں کی موجودگی ایک اٹل حقیقیت ھے  لیکن زیر بحث موضوع شیعہ راویوں یا روافض سے نقل کردہ احادیث جو کہ صحین کی زینت ہیں ان پر تھوڑا کلام کریں گے  اور تناقضات کو سامنے لانے کی کوشش کریں گے  آئمہ جرح و تعدیل اور آئمہ محدثین اھلسنت کی مجبوریاں اور بے بسیاں بھی ملاحظہ کر لیجیے گا  اگر تو راوفض سے حدیث لینا یا شیعہ غالی سے روایت لینا مکتب اھلسنت کے نزدیک مکروہ اور حرام ہے تو پھر امام بخاری اس کام میں سر فہرست آتے ہیں  اس کے بعد اور بھی اجماع محدثین موجود ہیں جنہوں نے نہ صرف شیعہ محدثین سے روایات کو لیا بلکہ ان کی ثقاہت کو بھی لکھا  خیر موضوع یہ نہیں موضوع یہ ھے کہ آیا امام بخاری قدماء محدثین جیسے کہ امام مالک اور امام شافعی کی پیش کردہ تصریحات کے تحت روایات نقل کرتے رہے یا پھر اس پر محض اپنا گمان یا اپنے طریق سے ہی روایات کو نقل کیا  امام مالک سے کسی نے پوچھا روافض سے حدیث لینے کا,کیا حال ھے کہا کہ ان سے بات نہ کرو اور ن...

سوشل میڈیا پر بے جا بحث مباحثے اور سیرت اہلبیت علیہم السلام_______

☘️ *سوشل میڈیا پر بے جا بحث مباحثے اور سیرت اہلبیت علیہم السلام_______!!* 📜 *تحریر:* عون نقوی اس واقعے کو حکیم بزرگ و فلاسفر عظیم بو علی سینا سے منسوب کیا جاتا ہے کہ ایک دن بو علی سینا سفر پر نکلے، سفر کے دوران ایک قہوے خانے کے آگے رُکے تاکہ کچھ آرام کریں اور پھر سفر کو آگے جاری رکھ سکیں، اپنے گھوڑے سے اترے اور اسے ایک درخت سے باندھا اس کے آگے تھوڑا سا چارہ ڈالا اور خود قہوہ پینے بیٹھ گئے. گدھے پر سوار ایک اور شخص بھی وہاں آ پہنچا اور اپنے گدھے کو بو علی سینا کے گھوڑے کے ساتھ باندھ دیا تاکہ گدھا بھی گھوڑے کے ساتھ چارہ کھانے میں شریک ہو جائے اور خود بو علی سینا کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا. بو علی سینا نے اس سے کہا اپنے گدھے کو میرے گھوڑے کے ساتھ مت باندھو کیونکہ وہ میرے گھوڑے کا چارہ کھا رہا ہے اور گھوڑا اس پہ حملہ بھی کر سکتا ہے جس سے گدھے کی ٹانگ ٹوٹ سکتی ہے. اس شخص نے کوئی جواب نہ دیا اور قہوہ پینے میں مشغول رہا اتنے میں گھوڑے نے گدھے کو ایک لات ماری جس سے گدھا زخمی ہو گیا اور لنگڑانے لگا، اس شخص نے بوعلی سینا پر چڑھائی کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے گھوڑے نے میرے گدھے کو زخمی کیا ہے تمہیں مجھے ...

مشاجرات صحابہ

*جناب قاری حنیف ڈار صاحب کا ناصبی مولوی فہد حارث کی پوسٹ پر کمنٹ* فہد حارث صاحب نے *مشاجرات صحابہ کےبارے کف لسان* کا کہا تو قاری حنیف ڈار صاحب نے کمنٹ میں لکھا لیکن وہ کمنٹ یہاں لکھنے سے پہلے ایک چیز کی وضاحت کر دیتا ہوں کہ یہ *مشاجرات صحابہ اور کف لسان* ہے کیا بلا ، اور اسکو کیوں اتنے مشکل الفاظ میں پیش کیا جاتا ہے کہ عنوان ہی عام انسان کی سمجھ سے باہر ہوتا ہے تاکہ جو شخص بھی پہلی نظر پوسٹ پر ڈالے تو اتنا مشکل الفاظ پر مشتمل عنوان دیکھ کر ہی پوسٹ کو اگنورکر دیتا ہے کہ عنوان ہی سمجھ سے باہر ہے تو اندر کیا خاک سمجھ آئے گا؟؟؟ اس لیے ہم عام قاری کے لیے اس عنوان کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ ایسے مشکل عنوان آخر کیوں دئیے جاتے ہیں۔ پہلے الفاظ کے لغوی معنی دیکھیں۔ *مشاجرات صحابہ*  معنی صحابہ کا آپس میں ہونے والا لڑائی جھگڑا ، خون خرابہ ، اختلافات وغیرہ *کف لسان* معنی زبان بندی  سارے عنوان کا مطلب ہوا کہ صحابہ کے درمیان ہونے والے لڑائی جھگڑے خون خرابے فسادات اور اختلافات پر خاموشی اختیار کرنا  *لیکن کیوں* کیوں خاموشی اختیار کی جائے تاکہ صحابہ کے غلط کردار ی...