Posts

کوفی

کوفہ کے مومنین کو بدنام کرنے والے نام نہاد منافقین کے سامنے ایک فہرست پیش خدمت ھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین امیر المومنین علی علیہ السلام اور اہل البیت علیہم السلام کا ساتھ دیا۔ 🌹کوفہ العلویہ🌹 حضرت علی (ع) کے دور خلافت میں آپ کے اہم ساتھی عمار ابنِ یاسر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مدینہ  مالکِ اشتر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  میثمِ تمار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  کمیل اسدی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  صحصہ بن صوحان ۔۔۔۔۔۔ کوفہ  سُلیم بن قیس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  عُدی بن حاتم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  حجر بن عدی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ کربلا میں امام حسین ع کے ساتھ شہید ہونے والے ساتھی حُر بن یزید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  علی بن حُر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  حجر بن حُر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  مصعب بن یزید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  قرۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  ابو ثمامہ بن صیداوی ۔۔۔۔ کوفہ  ضرغامہ بن مالک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  عبد الرحمن بن عبداللہ ۔۔ کوفہ  عمرو بن خالد اسدی ۔۔۔۔۔۔ کوفہ  سعد غلام عمرو بن خا...

شرک

شرک سے متعلق ایک مختصر وضاحت : ایک محب اھلبیتؑ کو اس بات کا یقین کامل ھونا چاھیۓ کہ محمد و آل محمدؑ روز محشر اللہ کے دربار میں کسی مشرک کی شفاعت نہیں کریں گے لہذا یہ لازم ھے کہ شرک کے بارے میں علم ھو تاکہ روز محشر آپ محمد و آل محمدؑ کی شفاعت کے امیدواروں کی صف میں ھوں تفصیل تو آپ کتابوں میں دیکھ لیجیۓ گا یہاں میں شرک جلی کی چار اقسام مختصر طور پر لکھے دیتا ھوں اگر میری پوسٹ پر اطمینان نہ ھو تو کسی بھی عالم سے رجوع کر لیجیۓ گا  1 :- شرک ذاتی : یعنی اللہ کی ذات میں کسی کو اسکا شریک ٹہرانا جیسے باپ ، اولاد ، بیوی یا اسکے سوا کسی اور کو خدا سمجھ کر اس سے دعا و پکار والا معاملہ رکھنا  2 : شرک صفاتی :- اللہ سنتا ھے ، دیکھتا ھے ، وہ عالم الغیب ھے ، ھر جگہ حاضر ھے ، وہ قادر ھے ، وہ مددگار ھے ، وہ محافظ ھے ، وہ وکیل ھے یہ سب اسکی صفات ھیں اب جیسے اللہ سننے اور دیکھنے کے لیے فاصلوں کا اور صحت مند اعضاء کا محتاج نہیں ایسا عقیدہ کسی مخلوق کے لیے رکھنا گویا اللہ کی صفات میں اسے شریک ٹہرانا ھے وہ کسی سے پوچھے یا سیکھے بغیر عالم ھے اور ھر غیب کے پردے میں چھپی شے کا اسے علم ھے جبکہ مخلوق کے ل...

یا ‏علی ‏مدد

یا علی مدد کہتے ہیں کہ ماوراء اسباب میں مانگنا شرک ہے اور دنیا چونکہ اسباب کی ہے اس میں ایک دوسرے کی مدد لینا شرک نہیں۔۔ عرض کیا: ماوراء اسباب میں ایسی کیا خامی ہے جو اسباب والی میں نہیں؟  مدد تو مدد ہے، کسی بھی لحاظ سے غیر خدا سے ہو کیوں کر جائز ہو سکتی ہے؟ خاص طور پر جب ہم سورہ مبارکہ فاتحہ میں اقرار کر چکے ہوں کہ "صرف اور صرف تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔"  ماوراء اسباب میں ایک دوسرے سے اس لئے فقط مدد نہیں لے سکتے کہ وہاں پر ہم پہنچ نہیں سکتے، ہمارا بس نہیں، یعنی جہاں پر بھی ہمارا بس چلے تو ہم خدا کو بھول جائیں گے؟ خدا سے بے نیاز ہو جائیں گے؟ کیا خدا علی کل شیء قدیر نہیں ہے؟ اور کیا خدا کی قدرت کا دائرہ اسباب و ماوراء اسباب دونوں پر نہیں؟ تو پھر فقط ماوراء اسباب تک خدا کو محدود کرنے کی وجہ؟  اور کیا اسباب میں مدد لینے سے صرف اور صرف اللہ سے مدد کا قانون ٹوٹ نہیں جاتا؟؟ اسی چیز کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس سورہ مبارکہ فاطر ( جسے سورہ ملائکہ بھی کہا جاتا ہے،) میں اس طرح بیان کیا۔۔ يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّـٰهِ عَلَيْكُمْ ۚ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْـرُ الل...

: اہل بیت و صحابہ کی توہین پر عمر قید کا بل

[8/23, 06:48] Qurban Bhai Bahl: اہل بیت و صحابہ کی توہین پر عمر قید کا بل موجودہ قانونی پوزیشن: اہل بیت و صحابہ کی توہین تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 اے کے تحت ایک قابلِ ضمانت جرم ہے جس پر تین سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ اس جرم کے الزام کی سماعت درجہ اول یا درجہ دوم کا مجسٹریٹ کرتا ہے۔ تاریخی پسِ منظر: توہین مذہب کی دفعات تعزیرات پاکستان میں تقسیم ہند سے پہلے سے موجود ہیں۔ انگریز دور سے جو قوانین برصغیر پاک و ہند پر نافذ کیے گئے ان میں توہین مذہب کی دفعات شامل تھیں۔ لیکن 1980 سے 1986 کے عرصے میں ان دفعات میں خاصی ترامیم کی گئیں اور ان دفعات کی موجودہ صورت اسی دور میں سامنے آئی۔ تعزیرات پاکستان میں دفعہ 298 اے کو 1980 میں ایک ترمیمی بل کے ذریعے شامل کیا گیا۔ 2010 میں قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا گیا کہ توہین اہل بیت و صحابہ کے الزمات کی تحقیق ایک اعلیٰ سطحی پولیس افسر کے ذریعے کی جائے لیکن اس پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوسکی۔ ترمیمی بل 2021: جولائی 2021 میں جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے متحدہ مجلس عمل کے پانچ دیگر اور تحریک انصاف کے دو ار...

امام مبین ع

امام مبین ع میرا آج کا موضوع قران کریم کی سورہ یٰس کی آیت مبارکہ ۱۲ کا اردو ترجمہ ہے۔   سورہ یایٰس 12. انا نحن نحیی الموتى ونکتب ما قدموا واثارهم وکل شیء احصیناه فی امام مبین O 12. بیشک ہم ہی تو مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم وہ سب کچھ لکھ رہے ہیں جو وہ اگے بھیج چکے ہیں، اور ان کے اثرات، اور ہر چیز کو ہم نے روشن کتاب میں احاطہ کر رکھا ہےo     اس آیت مبارکہ کی آخر میں امام مبین استعمال ہوا ہے۔ جس کا ترجمہ روشن کتاب یا واضع کتاب کیا گیا ہے۔ جو کہ کسی طرح درست نہیں ہے۔ امام مبین کا ترجمہ صرف اور صرف واضع امام ، یا واضع پیشوا یا واضع رہنما ہو سکتا ہے۔ کیونکہ قران پاک میں امام کا مطلب ہی پیشوا لیا گیا ہے نہ کہ کتاب۔   روشن کتاب یا واضع کتاب کا تزکرہ قران کریم میں کافی جگہ ہوا ہے اور ان آیات میں لفظ کتاب مبین استعمال ہوا ہے۔ امام مبین کہیں نہیں استعمال ہوا۔     مثال کے طور پر مندرجہ ذیل آیات گرامی کو ملاحظہ کیجئے۔ جہاں کتاب مبین واضع طور پر استعمال ہوا ہے۔     سورہ المائدہ 15. یا اهل الکتاب قد جاءکم رسولنا یبین لکم کثیرا مما کنتم تخفون من الکتاب وی...

‎(" یہ اقتدار کا بھوکا ھے " مخالفینِ حق کا قدیم حربہ )

 (" یہ اقتدار کا بھوکا ھے " مخالفینِ حق کا قدیم حربہ ) " یہ بھی مخالفینِ حق کا قدیم حربہ ھے کہ جو شخص بھی اصلاح کے لیے کوشش کرنے اُٹھے اُس پر یہ الزام فورًا چسپاں کر دیتے ہیں کہ " کچھ نہیں ، بس اقتدار کا بھوکا ھے ۔" یہی الزام فرعون نے حضرت مُوسیٰؑ اور ہارونؑ پر لگایا تھا کہ " تم اِس لیے اُٹھے ہو تمھیں ملک میں بڑائی حاصل ہو جائے ( یونس ۔ 78 ) ۔ یہی حضرت عیسیٰؑ پر لگایا گیا کہ " یہ شخص یہودیوں کا بادشاہ بننا چاہتا ھے ۔" اور اِسی کا شُبہ نبیﷺ کے متعلق سردارانِ قریش کو تھا ، چنانچہ کئی مرتبہ انہوں نے آپؐ سے یہ سودا کرنے کی کوشش کی کہ اگر اقتدار کے طالب ہو تو " اپوزیشن " چھوڑ کر " حزبِ اقتدار " میں شامل ہو جاؤ ، تمھیں بادشاہ بنائے لیتے ہیں ۔  اصل بات یہ ھے کہ جو لوگ ساری عمر دنیا اور اس کے مادّی فائدوں اور اس کی شان و شوکت ہی کے لیے اپی جان کھپاتے رہتے ہیں ، اُن کے لیے یہ تصوّر کرنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ھے کہ اِسی دنیا میں کوئی انسان نیک نیّتی اور بےغرضی کے ساتھ فلاحِ انسانیت کی خاطر بھی اپنی جان کھپا سکتا ھے ۔ وہ خود چونکہ اپ...

شکرانے ‏کی ‏مسجدیں

🍁  *فقط دین کی پیروی کافی نہیں دین فہمی بھی ضروری ہے!!* ◻ امیرالمومنین ع کے بالمقابل جنگ جمل و نھران و صفین میں جو افراد آۓ وہ بے دین، یا دین دشمن افراد نہیں تھے بلکہ کٹر دیندار اہل نماز، قاریان قرآن مجید و عابد حضرات تھے. ▪ دیندار تھے دین کے پیرو تھے لیکن دین کی صحیح فہم نہیں رکھتے تھے، دینداروں کی فہم نادرست کا یہ نتیجہ نکلا کہ اپنے وقت کے امام ع کو کہا کہ تم کافر ہوگئے ہو توبہ کرو. ▫ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے مدمقابل دین کے دشمن یا سیکولر افراد جمع نہیں تھے بلکہ دین کے پیروکار جمع تھے لیکن دین کی صحیح سمجھ بوجھ نہیں رکھتے تھے اس لئے وقت کے امام ع کو بے دردی سے شھید کر کے مراسم شکرگزراری برپا کی. ☝🏻 امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ کوفیوں نے امام حسین علیہ السلام کے قتل ہونے پر شکرانے کے طور پر کوفہ میں چار مساجد کی بنیاد رکھی: ١. مسجد اشعث ٢. مسجد جریر ٣. مسجد سماک ٤. مسجد شبث بن ربعی ➖➖➖➖➖➖➖ ▪️ *مصادر و مراجع* : ۱. *کافی، ج٣، ص٤٩٠*