Posts

غیر شیعہ افراد کیلیئے

 غیر شیعہ افراد کیلیئے : مکمل حوالجات کیساتھ  ۔۔  شیعہ سنی اختلافات میں پہلا مسئلہ ہے  -  فدک یعنی وراثت نبیؐ (ص) ۔۔۔  یہاں میں یہ بحث نہیں کرتا ۔۔۔۔۔ کہ وراثت بنتی تھی ۔۔۔۔۔۔ یا نہیں ??  مگر سنی بھائی بھی مانتے ہیں - کہ نبیؐ (ص) کی بیٹی حضرت فاطمہؑ (ص)  اپنا حق لینے حضرت ابوبکر کے پاس گئیں -  اور حضرت ابوبکر نے وراثت نہ دی - بیبی ؑ (ص) ابوبکر سے ناراض ہوئیں - اور وفات تک اس سے کلام نہ کیا -  یہ میں نہیں کہہ رہا ۔ صحیح بخاری کی حدیث ہے : اور اسکی راویہ بھی بیبی عائشہ ہیں - اب یہاں ایک حقیقت ہے کہ ان دو شخصیات میں ایک اپنے قول میں سچا تھا ،  اور دوسرا جھوٹا - شیعہ کے پاس تیسرا آپشن نہیں تھا - شیعہ یا تو نبیؐ (ص) کی بیٹی کو سچا مانتا یا ابوبکر کو ۔۔۔۔۔ اا  شیعہ نے قرآن پڑھا - اس میں ہر شخص کی وراثت کا حکم دیا گیا تھا - اس میں کسی خاص یا عام کی بات نہیں کیگئی - جو بھی اس دنیا میں آیا اور یہاں سے گیا - اسکی وراثت ہوتی ہے -  یہی قرآن نے بتایا - جب شیعہ نے بیبی فاطمہؑ (ص) کیطرف دیکھا - تو وہ جنت کی عورتوں کی شہزادی و سردار نظر آ...

ولایت تکوینی و طلب استعانت از معصومین

 ؑولایت تکوینی و طلب استعانت از معصومین در نگاہ مرجع عالی قدر آیت اللہ العظمیٰ شیخ ناصر مکارم شیرازی حفظہ اللہ قرآن کی قرآن سے تفسیر کے سلسلے میں  ایک اور مثال،  ولایت تکوینی سے مربوط ہے۔  یہ وہ موضوع ہے جس میں ہمارے مخالفین بالخصوص  متعصب وہابی،  بعض آیات کے ظواہر سے  تمسک اختیار کرتے ہوئے ، اس کا انکار کرتے ہیں ۔ جن آیات سے انہوں نے تمسک اختیار کیا ہےان میں سے بعض درج ذیل ہیں:  الف) خدا وند متعال سورہ جن کی ۱۸ نمبر آیت میں ارشاد فرماتا ہے:  ﴿فَلا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدا﴾خدا کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔ اس بنا پر خالق و رازق خدا ہے ۔ دوسروں کو ان عناوین سے مت پکارو۔  سورہ فاطر کی آیت نمبر ۳ میں  صراحت کے ساتھ غیر خدا سے خالقیت اور رزاقیت کی نفی ہوئی ہے ۔ توجہ فرمائیے:  ﴿هَلْ مِنْ خالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّماءِ وَ الْأَرْض‏﴾کیا خدا کے علاوہ کوئی اور خالق ہے  جو تمہیں آسمان و زمین سے روزی دیتا ہے؟ اور ان جیسی دوسری آیات جو ان سے ملتی جھلتی ہیں ، ولایت تکوینی کو خدا (کی ذات) میں منحصر قرار دیتی ہیں۔...

جناب فاطمہ(ع) حضرت رسول خدا (ص)کی اکلوتی بیٹی

جناب فاطمہ(ع) حضرت رسول خدا (ص)کی اکلوتی بیٹی شیعہ حضرات سوائے جناب فاطمہ٭ کے اور کوئی بیٹی حضرت رسول خدا (ص) کی تسلیم نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں: زینب ، رقیہ اور ام کلثوم جن کو اہل سنت حضرات رسول خدا (ص)کی بیٹیاں بتاتے ہیں ، ان کی صلبی بیٹیاں نہیں تھیں بلکہ ربیبہ﴿لے پالک﴾ تھیں جو یا تو حضرت خدیجہ =کے پہلے شوہر سے تھیں یا حضرت خدیجہ = کی بہن ہالہ کی لڑکیاں تھیں اور چونکہ عرب میں پروردہ لڑکیا ں بھی صلبی اولاد کی طرح سمجھی جاتی تھیں اس لئے یہ مجازا ً’’ابنات رسول‘‘ کہلائیں۔ زینب کا عقد ابوالعاص سے ہوا ، رقیہ اور ام کلثوم کا نکاح ابولہب کے دونوں بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے ہوا۔ عتبہ کے مرنے اور عتیبہ کے طلاق دینے کے بعد پھر ان دونوں لڑکیوں کا عقد یکے بعد دیگرے حضرت عثمان سے ہوا فریقین کی کتابوں سے یہ بات ثابت ہے کہ حضرت رسول خدا (ص) کی اولادیں چار تھیں، تین صاحبزادے اور ایک صاحبزادی۔ تفصیل یہ ہے کہ سب سے بڑے قاسم﴿طیب﴾ پھر عبداللہ ﴿طاہر﴾جناب خدیجہ کے بطن سے تھے اور یہ دونوں جناب فاطمہ زہرا٭ سے بڑے تھے ، ان دونوں صاحبزادوں نے شیر خوارگی کے زمانے میں حضرت فاطمہ٭ کی ولادت سے پہلے ہی انتقال فرمایا تھا۔...

کوفی

کوفہ کے مومنین کو بدنام کرنے والے نام نہاد منافقین کے سامنے ایک فہرست پیش خدمت ھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین امیر المومنین علی علیہ السلام اور اہل البیت علیہم السلام کا ساتھ دیا۔ 🌹کوفہ العلویہ🌹 حضرت علی (ع) کے دور خلافت میں آپ کے اہم ساتھی عمار ابنِ یاسر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مدینہ  مالکِ اشتر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  میثمِ تمار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  کمیل اسدی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  صحصہ بن صوحان ۔۔۔۔۔۔ کوفہ  سُلیم بن قیس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  عُدی بن حاتم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  حجر بن عدی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ کربلا میں امام حسین ع کے ساتھ شہید ہونے والے ساتھی حُر بن یزید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  علی بن حُر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  حجر بن حُر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  مصعب بن یزید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  قرۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  ابو ثمامہ بن صیداوی ۔۔۔۔ کوفہ  ضرغامہ بن مالک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ  عبد الرحمن بن عبداللہ ۔۔ کوفہ  عمرو بن خالد اسدی ۔۔۔۔۔۔ کوفہ  سعد غلام عمرو بن خا...

شرک

شرک سے متعلق ایک مختصر وضاحت : ایک محب اھلبیتؑ کو اس بات کا یقین کامل ھونا چاھیۓ کہ محمد و آل محمدؑ روز محشر اللہ کے دربار میں کسی مشرک کی شفاعت نہیں کریں گے لہذا یہ لازم ھے کہ شرک کے بارے میں علم ھو تاکہ روز محشر آپ محمد و آل محمدؑ کی شفاعت کے امیدواروں کی صف میں ھوں تفصیل تو آپ کتابوں میں دیکھ لیجیۓ گا یہاں میں شرک جلی کی چار اقسام مختصر طور پر لکھے دیتا ھوں اگر میری پوسٹ پر اطمینان نہ ھو تو کسی بھی عالم سے رجوع کر لیجیۓ گا  1 :- شرک ذاتی : یعنی اللہ کی ذات میں کسی کو اسکا شریک ٹہرانا جیسے باپ ، اولاد ، بیوی یا اسکے سوا کسی اور کو خدا سمجھ کر اس سے دعا و پکار والا معاملہ رکھنا  2 : شرک صفاتی :- اللہ سنتا ھے ، دیکھتا ھے ، وہ عالم الغیب ھے ، ھر جگہ حاضر ھے ، وہ قادر ھے ، وہ مددگار ھے ، وہ محافظ ھے ، وہ وکیل ھے یہ سب اسکی صفات ھیں اب جیسے اللہ سننے اور دیکھنے کے لیے فاصلوں کا اور صحت مند اعضاء کا محتاج نہیں ایسا عقیدہ کسی مخلوق کے لیے رکھنا گویا اللہ کی صفات میں اسے شریک ٹہرانا ھے وہ کسی سے پوچھے یا سیکھے بغیر عالم ھے اور ھر غیب کے پردے میں چھپی شے کا اسے علم ھے جبکہ مخلوق کے ل...

یا ‏علی ‏مدد

یا علی مدد کہتے ہیں کہ ماوراء اسباب میں مانگنا شرک ہے اور دنیا چونکہ اسباب کی ہے اس میں ایک دوسرے کی مدد لینا شرک نہیں۔۔ عرض کیا: ماوراء اسباب میں ایسی کیا خامی ہے جو اسباب والی میں نہیں؟  مدد تو مدد ہے، کسی بھی لحاظ سے غیر خدا سے ہو کیوں کر جائز ہو سکتی ہے؟ خاص طور پر جب ہم سورہ مبارکہ فاتحہ میں اقرار کر چکے ہوں کہ "صرف اور صرف تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔"  ماوراء اسباب میں ایک دوسرے سے اس لئے فقط مدد نہیں لے سکتے کہ وہاں پر ہم پہنچ نہیں سکتے، ہمارا بس نہیں، یعنی جہاں پر بھی ہمارا بس چلے تو ہم خدا کو بھول جائیں گے؟ خدا سے بے نیاز ہو جائیں گے؟ کیا خدا علی کل شیء قدیر نہیں ہے؟ اور کیا خدا کی قدرت کا دائرہ اسباب و ماوراء اسباب دونوں پر نہیں؟ تو پھر فقط ماوراء اسباب تک خدا کو محدود کرنے کی وجہ؟  اور کیا اسباب میں مدد لینے سے صرف اور صرف اللہ سے مدد کا قانون ٹوٹ نہیں جاتا؟؟ اسی چیز کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس سورہ مبارکہ فاطر ( جسے سورہ ملائکہ بھی کہا جاتا ہے،) میں اس طرح بیان کیا۔۔ يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّـٰهِ عَلَيْكُمْ ۚ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْـرُ الل...

: اہل بیت و صحابہ کی توہین پر عمر قید کا بل

[8/23, 06:48] Qurban Bhai Bahl: اہل بیت و صحابہ کی توہین پر عمر قید کا بل موجودہ قانونی پوزیشن: اہل بیت و صحابہ کی توہین تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 اے کے تحت ایک قابلِ ضمانت جرم ہے جس پر تین سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ اس جرم کے الزام کی سماعت درجہ اول یا درجہ دوم کا مجسٹریٹ کرتا ہے۔ تاریخی پسِ منظر: توہین مذہب کی دفعات تعزیرات پاکستان میں تقسیم ہند سے پہلے سے موجود ہیں۔ انگریز دور سے جو قوانین برصغیر پاک و ہند پر نافذ کیے گئے ان میں توہین مذہب کی دفعات شامل تھیں۔ لیکن 1980 سے 1986 کے عرصے میں ان دفعات میں خاصی ترامیم کی گئیں اور ان دفعات کی موجودہ صورت اسی دور میں سامنے آئی۔ تعزیرات پاکستان میں دفعہ 298 اے کو 1980 میں ایک ترمیمی بل کے ذریعے شامل کیا گیا۔ 2010 میں قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا گیا کہ توہین اہل بیت و صحابہ کے الزمات کی تحقیق ایک اعلیٰ سطحی پولیس افسر کے ذریعے کی جائے لیکن اس پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوسکی۔ ترمیمی بل 2021: جولائی 2021 میں جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے متحدہ مجلس عمل کے پانچ دیگر اور تحریک انصاف کے دو ار...