Posts

شرمگاہ: شرعی مسئلہ اور اس کی وضاحت

*سوال: آپ کے فقہاء محرم خاتون جیسے والدہ اور بہن  کےلئے  اپنے محرم مرد جیسے والد اور بھائی کے  سامنے سینہ کھلا رکھنے کو جائز قرار دیتے ہیں ، شرم سے ڈوب مرو ؟* جواب: سب سے پہلے آپ فقہاء کا فتویٰ پڑھ لیں اور سمجھ لیں ، اس کے بعد ہم آیات و روایات سےمکمل گفتگو کریں گے ، اور یاد رکھیں دین ہمارے ذاتی جذبات اور ذاتی پسند اور ذاتی رائے کا نام نہیں ہے ، جو روایت و آیت سے ثابت ہوگا وہی حکم معصوم ہوگا کہ جسے قبول کرنا ہمارے اوپر واجب ہے۔  *شرعی مسئلہ اور اس کی وضاحت:* 32 مسألة: يجوز النظر إلى المحارم‌ التي يحرم عليه نكاحهن‌  نسبا أو رضاعا أو مصاهرة ما عدا العورة مع عدم تلذذ و ريبة و كذا نظرهن إليه(العروۃ ج2، ص803 ) ترجمہ: ان محرم خواتین کو دیکھنا جائز ہے کہ جن سے نکاح حرام ہوتا ہے چاہے وہ نسبی محرم ہوں ، رضاعی محرم ہوں یا مصاھرہ سے محرم ہوں (جیسے ساس، سسر) ، سوائے شرمگاہ کے ، اور بغیر جنسی شہوت اور شک کے  اور اس طرح محرم خواتین کا مرودں کو بھی دیکھنا جائز ہے۔(شرمگاہ کے علاوہ اور بغیر شھوت کے) *سب سے پہلے شرعی مسئلہ کی وضاحت ضروری ہے:* بغیر جنسی شھوت کے یا شک والی صورت...

کیا معاویہ کاتب وحی تھا

👈👈👈 کیا معاویہ کاتب وحی تھا ??  خود ساختہ روایت کے بطلان میں مدلل تفصیلی جوابات ۔ ممبران گروپ کیلیئے ایک زبردست علمی و تحقیقی پوسٹ : 1- معاویہ کے کاتب وحی ھونے کی روایت کی تحقیق ۔ 2- مندرجہ روایت کے ضعیف ھونے کے دلائل ۔ 3- مندرجہ روایت اور اھلسنت ۔ 4- کتابت گناہ سے معصوم نہیں بناتی ۔ (مرتد ھونا) 5- کاتب وحی کی میت کو زمین نے قبول نہیں کیا ۔ 6- معاویہ کی حضرت علی (ع) سے دشمنی ۔ 7- عیسائی اور ۔۔۔۔۔ کاتب وحی ۔ 8- معاویہ کے مسلمان ھونے کی تاریخ ۔ 9- روایت کا کتب شیعہ میں ھونے کا جواب ۔ 10- روایت کے دیگر پہلو اور ۔۔۔۔۔ متفرقات ۔ (بشکریہ ابرار حسین بخاری) جو چیز ھمیں روایات اور تاریخی کتب سے ملتی ھے ۔ اور ثابت شدہ ھے ، وہ یہ ھے امیر المومنین علی علیہ السلام ، ابی بن کعب ، زید بن ثابت اور ۔۔۔ دیگر کاتب وحی تھے ۔ لیکن معاویہ بن ابو سفیان کا بھی کاتب وحی ھونا ثابت نہیں ھے اور اھلسنت کے بزرگ علماء نے اس بات کو بنو امیہ کا شاخسانہ قرار دیا ھے ۔ 👈 معاویہ کا کاتب وحی ھونے کی روایت کی تحقیق : اھلسنت کے منابع میں اھم ترین روایت جو معاویہ کو کاتب وحی ھونا بتاتی ھے ۔ وہ صحیح مسلم نیشاپوری کی رو...

میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو ‏

السلام علیکم، میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو  جیسا کہ آپ کے علم میں ہے میں نے ضمیر اختر پر اپنی وضاحت پیش کی تھی اور جو ایک اچھا کام انہوں نے بول ٹی وی پر کیا اسے سراہا بھی لیکن وہی ہوا جس کا ڈر تھا اگلے پروگرام میں مفتی عابد مبارک نے علم الرجال الحديث کی بحث چھیڑتے ہوئے اس حدیث کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا.. کو صحیح حدیث ثابت کیا جس پر ضمیر اختر کچھ نہ کہہ سکے اور یہاں پر بالکل بےزاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو تاثر دے گئے کہ جو سامنے والا مفتی ہے اس نے شاید درست کہا ہے. اب جبکہ ضمیر اختر کی جانب سے کوئی دفاع نہیں کیا گیا جو کے شاید وہ کر بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ تاریخ کا علم الگ ہوتا جو کوئی بھی حاصل کر لیتا ہے لیکن سندِ حدیث پر جرح کرنے کے لیے باقاعدہ علم الحدیث حاصل کرنا ہوتا ہے. مجھے شدید رنج سے یہ دوبارہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ضمیر اختر مبینہ مرشد کو تشیع کا عالم نہ سمجھا جائے.. خدارا  اب میں مجبور ہوں کہ اس حدیث کو لے کر یہاں اس جاہل مفتی عابد مبارک کو جواب دوں اور وہ بھی خود اسی کی کتابوں سے.. کوشش کروں گا کہ علمی اور عقلی دونوں لحاظ سے اس حدیث کا رد پیش کروں ا...

کوفی لا یوفی؟

کوفی لا یوفی؟ حضرت علی (ع) کے دور خلافت میں آپ کے اہم ساتھی عمار ابنِ یاسر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مدینہ  مالکِ اشتر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوفہ  میثمِ تمار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوفہ  کمیل اسدی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوفہ  صحصہ بن صوحان ۔۔۔۔۔۔ کوفہ  سُلیم بن قیس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوفہ  عُدی بن حاتم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوفہ  حجر بن عدی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوفہ کربلا میں امام حسین ع کے ساتھ شہید ہونے والے ساتھی حُر بن یزید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوفہ  علی بن حُر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوفہ  حجر بن حُر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوفہ  مصعب بن یزید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوفہ  قرۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوفہ  ابو ثمامہ بن صیداوی ۔۔۔۔۔۔۔کوفہ  ضرغامہ بن مالک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوفہ  عبد الرحمن بن عبداللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔کوفہ  عمرو بن خالد اسدی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوفہ  سعد غلام عمرو بن خالد ۔۔۔۔۔کوفہ  مجمع بن عبداللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوفہ  عائذ بن مجمع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوفہ  جنادہ بن حرث ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوفہ  واضح الترکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوف...

خاندان رسالت کا عظیم الشان مقام

*""خاندان رسالت کا عظیم الشان مقام،* *نسب رسول اللہؐ کی برتری اور فضیلت۔""* *"سادات کرام، پنجتنی احباب کی خدمتِ عالیہ میں ایک خوبصورت تُحفہ۔"* *"قرآن و حدیث کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے نسب کی برتری اور فضیلت کے سلسلہ میں شاندار تحریری مواد،"* المشتہر۔&۔پیشکش از:- *"سنی حسینی مشن۔"* *"شھزادگانِ ساداتِ فاطمیہؑ۔"* سادات کرام یعنی ذریت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اگر نہ ھوتی تو اللہ تعالی نےذریت ابراہیم علیہ السلام میں امامت کیوں رکھی  ، اور فرما یا گیا کہ ھم نے آل ابراہیم کو چن لیا۔ سادات کی عظمت کا منکر  ملاں ان دلائل کا کیا جواب دے گا۔؟ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: *اِنَّ اللّـٰهَ اصْطَفٰٓى اٰدَمَ وَنُـوْحًا وَّاٰلَ اِبْـرَاهِـيْمَ وَاٰلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِيْن۔* 📖ال عمرانَ (33) بے شک اللہ نے آدم کو اور نوح کو اور ابراھیم علیہم السلام کی آل کو اور عمران کی آل کو سارے جہان سے چن لیا ھے۔ *رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا اُمَّةً مُّسْلِمَةً لََّکَ وَاَ...

پاکستان میں شیعہ کشی کی مختصر تاریخ

پاکستان میں شیعہ  کشی کی مختصر تاریخ  پاکستان میں شیعہ نسل کشی کی پہلی وردات 1950 میں وادی کرم پر دیوبندی قبائل کے حملے کی صورت میں ہوئی جو 1948 میں جہاد کشمیر کے نام پر اسلحہ اور مال غنیمت سمیٹ کر طاقتور ہو گئے تھے 1956 میں وادی کرم دوبارہ حملوں کا نشانہ بنی 1957 میں ملتان کے ضلع مظفر گڑھ کے گاؤں سیت پور میں محرم کے جلوس پر حملہ کرکے تین عزاداروں کو قتل کر دیا گیا حکومت کی طرف سے عدالتی کمیشن قائم کیا گیا اور اس وردات میں ملوث پانچ دہشت گردوں کو سزائے موت دی گئ اسی سال احمد پور شرقی میں عزاداری کے جلوس پر پتھراؤ کے نتیجے میں ایک شخص جان بحق اور تین شدید زخمی ہوئے جون 1958 میں بھکر میں ایک شیعہ خطیب آغا محسن کو قتل کر دیا گیا قاتل نے اعترافی بیان میں کہا کہ مولانا نور الحسن بخاری کی تقریر نے اسکو اس جرم پر اکسایا تھا جس میں شیعوں کو قتل کرنے والوں کو غازی علم دین شہید سے نسبت دی گی تھی اور جنت کی بشارت دی گئ تھی مولانا نور الحسن بخاری کو حکومت یا عوام کی طرف سے کوئی سزا نہ ملی جس سے تکفیری علماء کی حوصلہ افزائی ہوئی جوں جوں پاکستان میں مذہبی حکومت  کے قیام کی تحریک زور پک...

فتنہ کے زمانے میں گھر پر رہنا

فتنہ کے زمانے میں گھر پر رہنا تحریر: سید علی اصدق نقوی آجکل quarantine میں رہنے پر بہت زور دیا جا رہا ہے، نیز social distancing کی بھی اصطلاح استعمال ہو رہی ہے۔ ممکن ہے اسکو social کی بجائے  physical distancing کہا جا سکتا ہے اور اسکا معاشرتی (social) پہلو برقرار رکھا جا سکتا ہے دیگران سے جسمانی طور پر دور رہتے ہوئے، کیونکہ انسان social ہوئے بغیر رہ نہیں سکتا۔ اگر ہم احادیث کے مصادر کی طرف رجوع کریں تو متعدد روایات ایسی ملتی ہیں جنکے مطابق فتنے کے وقت گھر رہنا چاہیئے۔ بہت سی روایات، بلکہ قرآن میں بھی "إعتزال" یعنی کنارہ کشی یا self-isolation کا بھی ذکر موجود ہے (1)۔ بعض روایات میں "اپنے گھر میں بیٹھے رہو" سے مراد یہ لیا گیا ہے کہ سیاسی طور پر ایکٹیو نہ رہو یعنی political quietism کی تائید ہے۔ ہم ان میں سے بعض روایات شیعی منابع سے نقل کرتے ہیں: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ مَعْرُوفٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مَهْزِيَارَ يَرْفَعُهُ قَالَ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ الْعَافِيَةُ ...