Posts

تراویح کی بابت فرقۂ زیدیہ کا تناقض

تراویح کی بابت فرقۂ زیدیہ کا تناقض بقلم: سید علی اصدق نقوی صلات تراویح کا مسئلہ مکاتب اسلامیہ کے مابین فروعات بالخصوص عبادات میں اہم مسائل میں شمار ہوتا ہے۔ اہل تسنن کے یہاں تراویح ہر ماہ رمضان کے معمولات میں سے ہے اور اس کو جائز بلکہ مستحب شمار کیا جاتا ہے گرچہ اہل تسنن سے منسلک مکاتب میں اس کی رکعات اور دیگر جزئیات میں اختلاف ممکن ہے۔ جبکہ اہل تشیع سے منسلک مکاتب جو تاریخ کے ساتھ منقرض نہ ہوئے بلکہ آج موجود ہیں (اثنا عشریہ، اسماعیلیہ اور زیدیہ) کے یہاں تراویح کو بدعت اور ناجائز سمجھا جاتا ہے اور اس کے شواہد وہ کتب اہل سنت سے بھی پیش کرتے ہیں۔ اثنا عشریہ کا موقف تو واضح ہے اور اس پر ان کی کتب میں متواتر اخبار ہیں جس سبب ان کا اعادہ یہاں غیر ضروری ہے (1)۔ پس اثنا عشریہ کے یہاں ائمۂ اہل بیت علیہم السلام سے تراویح کے جماعت میں عدم جواز اور اس کی ممانعت پر مذمت پر احادیث کثیرہ ہیں۔ اثنا عشریہ کے علاوہ اسماعیلیہ کی کتب میں بھی ائمہ علیہم السلام سے تراویح کو بدعت محرمہ قرار دیا گیا ہے جیسا کہ قاضی نعمان مغربی نے روایت کیا ہے: وعن أبي جعفر محمد بن علي صلوات الله عليه أنه دخل مسجد النبي (صلع)...

73 فرقے

Image
73 فرقے 1200 برس میں تو صرف تہتر فرقے اسلام کے ہو گئے تھے لیکن تیرھویں صدی نے اسلام میں وہ بدعات اور نئے فرقے پیدا کئے جو بارہ سو برس میں پیدا نہیں ہوئے تھے ۔  ( روحانی خزائن جلد ۱۷ ص ۲۶۵ تحفہ گولڑویہ) بجز ان چند حدیثوں کے جو 73 تہتر فرقوں نے بوٹی بوٹی کر کے باہم تقسیم کر رکھی ہیں رؤیت حق اور یقین کہاں ہے؟ (روحانی خزائن جلد ۱۷ ص ۴۵۶ اربعین نمبر ۴) بلکہ اصل بات یہ ہے کہ قرونِ ثلاثہ کے بعد امت مرحومہ 73 تہتر فرقوں پر منقسم ہو گئی اور صدہا مختلف قسم کے عقائد ایک دوسرے کے مخالف اُن میں پھیل گئے یہاں تک کہ یہ عقائد کہ مہدی ظاہر ہوگا اور مسیح آئے گا ان میں بھی ایک بات پر متفق نہ رہے۔  ( روحانی خزائن جلد 22 ص 44 حقیقت الوحی )

حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر 120 سال

Image
حدیث: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر 120 سال ہونے کے بارے میں روایت کی جرح قادیانی حضرات "کنز العمال" میں مذکور اس روایت کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام 120 سال زندہ رہے اور پھر وفات پا گئے، حالانکہ اس روایت کی سند اور متن دونوں پر شدید علمی نقد موجود ہے۔ 1. روایت کی اسناد کا تجزیہ (سند کی جرح) یہ روایت مختلف کتب میں مختلف اسناد کے ساتھ منقول ہوئی ہے، مگر بنیادی طور پر ابن سعد، حلیة الاولیاء، مستدرک حاکم، طبرانی اور دیلمی میں پائی جاتی ہے۔ الف) ابن سعد کی روایت (بروایت یحییٰ بن جعدہ) 🔹 سند: یہ روایت ابن سعد نے یحییٰ بن جعدہ سے مرسلاً بیان کی ہے، یعنی اس میں کوئی صحابی مذکور نہیں، بلکہ تابعی براہ راست نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہا ہے۔ 🔹 جرح: 1. یحییٰ بن جعدہ تابعی ہیں، مگر ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست سماع ثابت نہیں، اس لیے یہ مرسل روایت ہے، جو اصولِ حدیث کے مطابق ضعیف شمار ہوتی ہے۔ 2. امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام بخاری، اور دیگر محدثین کے نزدیک مرسل روایت حجت نہیں ہوتی، خاص طور پر عقائد میں۔ 3. مرسل روایت ک...

حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب جسمانی طور پر دوبارہ نازل ہوں گے

جی بالکل! نبی کریم ﷺ کی متعدد احادیث میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب جسمانی طور پر دوبارہ نازل ہوں گے۔ قادیانیوں کا یہ دعویٰ کہ وہ کسی "مثیل" کے طور پر آ چکے ہیں، سراسر غلط اور اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے۔ احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جسمانی واپسی 1. دمشق کے مشرق میں سفید مینار پر نزول نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "عیسیٰ ابن مریم دمشق کے مشرقی جانب سفید مینار پر نازل ہوں گے، زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوں گے، اور ان کے ہاتھ فرشتوں کے پروں پر ہوں گے۔" (صحیح مسلم، حدیث 2937) → اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے جسمانی طور پر نازل ہوں گے، نہ کہ کسی شخص کے "مثیل" کے طور پر پیدا ہوں گے۔ 2. حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبوت کا دعویٰ نہیں کریں گے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور اگر عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے تو وہ کسی نئی شریعت کے ساتھ نہیں آئیں گے بلکہ میری شریعت پر عمل کریں گے۔" (سنن ابوداؤد، حدیث 4252) → اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام واپس آئیں گے لیک...

قرآن مجید کو سر پر رکھ کر دعا کرنا

🔴قرآن مجید کو سر پر رکھ کر دعا کرنے والی روایات غیر معتبر ہیں🔴  **ذکر دعاء آخر للمصحف الشريف**   یہ روایات جن میں قرآن کو سر پر رکھ کر دعا کرنے کا ذکر ہے، ان کی اسناد غیر معتبر ہیں۔   ### روایت نمبر 6:   سید بن طاووس نے اپنی کتاب **اقبال الاعمال** میں ایک روایت نقل کی ہے جس میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے منسوب ہے کہ:   "قرآن کو سر پر رکھو اور یہ دعا پڑھو:   «اللهم بحق هذا القرآن وبحق من أرسلته به وبحق كل مؤمن مدحته فيه وبحقك عليهم فلا أحد أعرف بحقك منك بك يا الله» دس بار۔   پھر دس بار: «بمحمد»، دس بار: «بعلي»، دس بار: «بفاطمة»، دس بار: «بالحسن»، دس بار: «بالحسين»، دس بار: «بعلي بن الحسين»، دس بار: «بمحمد بن علي»، دس بار: «بجعفر بن محمد»، دس بار: «بموسى بن جعفر»، دس بار: «بعلي بن موسى»، دس بار: «بمحمد بن علي»، دس بار: «بعلي بن محمد»، دس بار: «بالحسن بن علي»، دس بار: «بالحجة»۔   پھر اپنی حاجت مانگو۔"   ### روایت نمبر 7:   ایک اور روایت میں امام موسی کاظم (علیہ السلام) سے منسوب ہے کہ:...

حوزہ علمیہ قم اور نجف میں رائج نصاب کی تفصیل

حوزہ علمیہ قم اور حوزہ علمیہ نجف میں رائج نصاب کی تفصیل    1.مرحلہ: مقدمات (ابتدائی تعلیم) یہ مرحلہ عربی زبان، منطق اور بلاغت کی مہارت کے لیے ہے۔ مضامین: نحو (گرامر): جامع المقدمات الصرف المیسّر قطر الندى و بل الصدى (ابن هشام) ألفية ابن مالك (شروحات کے ساتھ) منطق: منطق المظفر تهذيب المنطق (التهذيب) بلاغت: مختصر المعاني جواهر البلاغة البلاغة الواضحة لغت: قاموس، مفردات راغب، لسان العرب وغیرہ 2.مرحلہ: سطح (اوسطی تعلیم) یہ مرحلہ فقہ و اصول کے بنیادی اور درمیانی نصوص کے مطالعہ پر مشتمل ہے۔ فقہ: اللمعة الدمشقية (شرح شهيد ثاني کے ساتھ) شرائع الاسلام (علامہ حلی) مكاسب (شیخ انصاری) اصول الفقہ: معالم الأصول (شیخ حسن) قوانین الأصول فرائد الأصول (رسائل شیخ انصاری) كفاية الأصول (آخوند خراسانی) علم الحدیث: شرح نخبة الفكر مقدماتی سطح پر کتب رجال کی شناخت 3 مرحلہ: بحث خارج (اعلیٰ تعلیم) یہ مرحلہ وہ ہے جہاں طالب علم براہ راست مراجع و مجتہدین کی دروسِ خارج میں شریک ہوتا ہے اور فقہی و اصولی مسائل میں اپنی تحقیق کرتا ہے۔ خصوصیات: فقہ و اصول کی اعلیٰ سطح کی بحث (استنباط کی مشق) جدید موضوعات پر تحق...

مجتہد بننے کے لیے کون سے علوم کا سیکھنا ضروری ہیں

شیعہ فقہ (بالخصوص جعفری مکتب) میں مجتہد بننے کے لیے کئی بنیادی اور تخصصی علوم کا سیکھنا ضروری ہے۔ اجتہاد ایک انتہائی بلند مقام ہے، جس کے لیے طالبِ علم کو مختلف دینی اور عقلی علوم پر مہارت حاصل کرنا ہوتی ہے۔ عام طور پر درج ذیل علوم کو ضروری سمجھا جاتا ہے: 1.علم النحو (عربی گرامر) عربی زبان کے قواعد کو جاننا ضروری ہے تاکہ قرآن، حدیث، فقہی متون اور دیگر عربی کتب کو صحیح طور پر سمجھا جا سکے۔ 2.علم الصرف (تصریف) الفاظ کی شکلوں اور ساختوں کی پہچان کے لیے، تاکہ دقیق معانی تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ 3.علم البلاغہ (بیان، معانی، بدیع) قرآن و حدیث کی فصاحت و بلاغت کو سمجھنے کے لیے۔ 4.علم المنطق (منطق) صحیح استدلال اور استنباط کے قواعد کو سیکھنے کے لیے۔ 5۔ علم اصول الفقه احکام کے استنباط کے اصول و قواعد سیکھنے کے لیے۔ یہ علم اجتہاد کی بنیاد ہے۔ 6.علم الفقه فقہی مسائل اور ان کی تفصیلات پر مہارت۔ 7.علم التفسير (تفسیر قرآن) قرآن کریم کی تفسیر، اسباب النزول، اور متعلقہ مسائل پر دسترس۔ 8.علم الحديث و الدراية حدیث کی سند، متن، صحت و ضعف کو پرکھنے کا علم۔ 9.علم الرجال رواۃ الحدیث کی سوانح اور ان کی توثیق و...