Posts

مرزا قادیانی نے تحریرات کو چوری کیا ہے

مسیح موعود و مہدی مہعود مرزا غلام احمد قادیانی صاحب معارف قرآنیہ اور علوم دینیہ کے خدا کی طرف سے ہونے کے دعوے میں بھی بالکل کا ذب ہیں،  جھوٹے ہیں۔   مرزا غلام احمد قادیانی نے جس قدر بھی ایسے مضامین لکھے وہ سب پہلی کتابوں کا سرقہ ہے۔ چوری ہے اور جہاں اپنا تصرف کیا ہے وہی مضمون غلط ہے، جھوٹ ہے، لغو ہے۔ باطل ہے۔ الا ماشاء اللہ ۔ اب جن معارف کی نسبت مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو ناز ہے کہ یہ معارف قرآنیہ خاص مرزا قادیانی کو عطا ہوئے وہ ظاہر کیے جائیں۔ اور نیز وہ معارف جدیدہ کسی قدر ہونے چاہئیں جو مسیح موعود کی شان کے لائق ہوں اور جس سے تمام امت پر مرزا قادیانی کا تفوق ثابت ہوا ہو اس کی تعداد جو چاہو مقرر فرما کر لکھئے۔ پھر ان مضامین کا صرف حوالہ دے دینا چاہیے کہ فلاح کتاب میں فلاں صفحہ سطر کا مضمون فلان صفحہ سطر تک ہے۔ اس کے بعد خدا چاہے میں عرض کر دوں گا کہ ان مضامین سے بہت اعلی مضامین امت میں پہلے سے موجود ہیں اور مرزا قادیانی کے علوم کو ان سے کوئی بھی نسبت نہیں یا یہ مضمون فلاں شخص سے مسروقہ ہے مرزا قادیانی کا نہیں۔ اور فلاں مضمون فلاں سے چرایا گیا ہے پھر مرزائی اگر زیادہ س...

عبد اللہ اشتر المعروف عبد اللہ شاہ غازی کون تھے

عبد اللہ اشتر المعروف عبد اللہ شاہ غازی کون تھے؟ تحریر: فخر عباس زائر اعوان (جنڈ۔اٹک) عبد اللہ اشتر(المعروف عبداللہ شاہ غازی) بن محمد نفس الزکیہ بن عبداللہ محض بن حسن کون تھے اور کس عقیدہ کے حامل تھے؟ کراچی میں موجود عبداللہ شاہ غازی کا مزار عقیدت مندوں کیلئیے ایک عظیم درگاہ ہے  اور یہ حسنی سادات سے ہیں اور امام حسن المجتبی علیہ السلام کے پوتے کے پوتے ہیں۔ عبداللہ اشتر المعروف عبداللہ شاہ غازی کون تھے اور کس عقیدہ کے حامل تھے اور سندھ میں ان کا ورود کیوں ہوا؟ ان سوالوں کا جواب جاننے کیلئیے اول ان کے دادا عبداللہ محض اور ان کے باپ محمد نفس الزکیہ  کے بارے جاننا بہت ضروری ہے اس کے بعد ان کے بارے ذکر کیا جائے گا  کہ وہ کس عقیدہ کے حامل تھے ۔(ہم اس تحریر میں اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے فقط مآخذ تک ہی حوالہ جات نقل کریں گے) عبد اللہ اشتر کا دادا عبد اللہ محض بن حسن بن امام حسن علیہ السلام: عبد اللہ محض بن حسن  مثنی "زیدیہ" سے تعلق رکھتا تھا اور ائمہ حق کے مخالف فتاوی دیتا تھا ۔  جیسا کہ رجال الکشی ، رقم: 634 سے واضح ہے کہ 634 - حدثني محمد بن الحسن ، قال : حدثني الحسن ...

کیا امام علی علیہ السلام نے فیصلہ میں غلطی کی؟

علي بن إبراهيم عن أبيه ، عن ابن أبي عمير، عن عاصم بن حميد ، عن محمد بن قيس ، عن أبي جعفر قال : قضى أمير المؤمنين الله في رجل شهد عليه رجلان بأنه سرق فقطع يده حتى إذا كان بعد ذلك جاء الشاهدان برجل آخر فقالا : هذا السارق و ليس الذي قطعت يده إنما شبهنا ذلك بهذا فقضى عليهما أن غرمهما نصف الدية ولم يجز شهادتهما على الآخر ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا " امیر المومنین علیہ السلام نے ایک شخص کے بارے میں فیصلہ دیا کہ جس کے خلاف دو آدمیوں نے گواہی دی کہ اس نے چوری کی ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا یہاں تک کہ اس کے بعد دو گواہ ایک اور آدمی کو لائے تو انہوں نے کہا " یہ چور ہے وہ چور نہیں ہے کہ جس کا ہاتھ کاٹا گیا ہے۔ ہمیں اس کے بارے میں فقط اشتباہ ہوا تھا تو آپ علیہ السلام نے فیصلہ دیا کہ وہ دونوں آدھی دیت دیں اور دوسرے کے بارے میں اس کی گواہی قبول نہ ہے ــــــــــــ کیا امام علی علیہ السلام نے فیصلہ میں غلطی کی؟  الکافی میں ایک روایت اس عنوان سے وارد ہوئی کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے دو عادل کی گواہی پر ایک شخص جس پر چوری کا الزام تھا ، شہادات کی موجودگی میں اس پر حد جاری کی اور اسکے ہاتھ...

چاند اورسورج گرہن کا مشہورِ زمانہ مرزائی دھوکہ

"چاند اورسورج گرہن کا مشہورِ زمانہ مرزائی دھوکہ" قادیانی دارقطنی کی درج ذیل روایت پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں اس روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب امام مہدی آئے گا تو اس کے وقت میں چاند کی 13 کو چاند گرہن اور 27 تاریخ کو سورج گرہن لگے گا پس جب مرزا صاحب نے امام مہدی ہونے کا دعوی کیا تو اسی سال چاند اور سورج کو گرہن لگا تھا۔ لہذا یہ اس بات کی نشانی ہے کہ مرزا صاحب ہی سچے امام مہدی ہیں۔  آیئے پہلے روایت اور اس کا ترجمہ دیکھتے ہیں پھر اس کا علمی رد کرتے ہیں۔  "حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْإِصْطَخْرِيُّ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ , ثنا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ , ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ , عَنْ جَابِرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ , قَالَ: «إِنَّ لَمَهْدِيِّنَا آيَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ , يَنْخَسِفُ الْقَمَرُ لَأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ , وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ , وَلَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ» "  ( سنن...

تراویح کی بابت فرقۂ زیدیہ کا تناقض

تراویح کی بابت فرقۂ زیدیہ کا تناقض بقلم: سید علی اصدق نقوی صلات تراویح کا مسئلہ مکاتب اسلامیہ کے مابین فروعات بالخصوص عبادات میں اہم مسائل میں شمار ہوتا ہے۔ اہل تسنن کے یہاں تراویح ہر ماہ رمضان کے معمولات میں سے ہے اور اس کو جائز بلکہ مستحب شمار کیا جاتا ہے گرچہ اہل تسنن سے منسلک مکاتب میں اس کی رکعات اور دیگر جزئیات میں اختلاف ممکن ہے۔ جبکہ اہل تشیع سے منسلک مکاتب جو تاریخ کے ساتھ منقرض نہ ہوئے بلکہ آج موجود ہیں (اثنا عشریہ، اسماعیلیہ اور زیدیہ) کے یہاں تراویح کو بدعت اور ناجائز سمجھا جاتا ہے اور اس کے شواہد وہ کتب اہل سنت سے بھی پیش کرتے ہیں۔ اثنا عشریہ کا موقف تو واضح ہے اور اس پر ان کی کتب میں متواتر اخبار ہیں جس سبب ان کا اعادہ یہاں غیر ضروری ہے (1)۔ پس اثنا عشریہ کے یہاں ائمۂ اہل بیت علیہم السلام سے تراویح کے جماعت میں عدم جواز اور اس کی ممانعت پر مذمت پر احادیث کثیرہ ہیں۔ اثنا عشریہ کے علاوہ اسماعیلیہ کی کتب میں بھی ائمہ علیہم السلام سے تراویح کو بدعت محرمہ قرار دیا گیا ہے جیسا کہ قاضی نعمان مغربی نے روایت کیا ہے: وعن أبي جعفر محمد بن علي صلوات الله عليه أنه دخل مسجد النبي (صلع)...

73 فرقے

Image
73 فرقے 1200 برس میں تو صرف تہتر فرقے اسلام کے ہو گئے تھے لیکن تیرھویں صدی نے اسلام میں وہ بدعات اور نئے فرقے پیدا کئے جو بارہ سو برس میں پیدا نہیں ہوئے تھے ۔  ( روحانی خزائن جلد ۱۷ ص ۲۶۵ تحفہ گولڑویہ) بجز ان چند حدیثوں کے جو 73 تہتر فرقوں نے بوٹی بوٹی کر کے باہم تقسیم کر رکھی ہیں رؤیت حق اور یقین کہاں ہے؟ (روحانی خزائن جلد ۱۷ ص ۴۵۶ اربعین نمبر ۴) بلکہ اصل بات یہ ہے کہ قرونِ ثلاثہ کے بعد امت مرحومہ 73 تہتر فرقوں پر منقسم ہو گئی اور صدہا مختلف قسم کے عقائد ایک دوسرے کے مخالف اُن میں پھیل گئے یہاں تک کہ یہ عقائد کہ مہدی ظاہر ہوگا اور مسیح آئے گا ان میں بھی ایک بات پر متفق نہ رہے۔  ( روحانی خزائن جلد 22 ص 44 حقیقت الوحی )

حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر 120 سال

Image
حدیث: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر 120 سال ہونے کے بارے میں روایت کی جرح قادیانی حضرات "کنز العمال" میں مذکور اس روایت کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام 120 سال زندہ رہے اور پھر وفات پا گئے، حالانکہ اس روایت کی سند اور متن دونوں پر شدید علمی نقد موجود ہے۔ 1. روایت کی اسناد کا تجزیہ (سند کی جرح) یہ روایت مختلف کتب میں مختلف اسناد کے ساتھ منقول ہوئی ہے، مگر بنیادی طور پر ابن سعد، حلیة الاولیاء، مستدرک حاکم، طبرانی اور دیلمی میں پائی جاتی ہے۔ الف) ابن سعد کی روایت (بروایت یحییٰ بن جعدہ) 🔹 سند: یہ روایت ابن سعد نے یحییٰ بن جعدہ سے مرسلاً بیان کی ہے، یعنی اس میں کوئی صحابی مذکور نہیں، بلکہ تابعی براہ راست نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہا ہے۔ 🔹 جرح: 1. یحییٰ بن جعدہ تابعی ہیں، مگر ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست سماع ثابت نہیں، اس لیے یہ مرسل روایت ہے، جو اصولِ حدیث کے مطابق ضعیف شمار ہوتی ہے۔ 2. امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام بخاری، اور دیگر محدثین کے نزدیک مرسل روایت حجت نہیں ہوتی، خاص طور پر عقائد میں۔ 3. مرسل روایت ک...