Posts

الموحدون یعنی دروز، ایک تعارف اور حالیہ جنگ

* *تحریر: سید اسد عباس* دروز خود کو "الموحدون" کے نام سے پکارتے ہیں، جس کا مطلب ہے "توحید پر عمل کرنے والے" یا "ایک خدا پر ایمان رکھنے والے۔" یہ نام ان کے بنیادی عقیدے کی عکاسی کرتا ہے، جو ایک ابدی، غیر مادی خدا پر یقین پر مبنی ہے۔ لفظ "دروز" محمد بن اسماعیل الدروزی کے نام سے ماخوذ ہے، جو اس فرقے کے ابتدائی داعیوں میں سے ایک تھے ۔ تاہم، دروز خود کو حمزہ بن علی بن احمد) جنھیں حمزہ بن زرونی بھی کہا جاتا ہے (اپنا حقیقی بانی اور سب سے معتبر رہنماء تسلیم کرتے ہیں۔ ان کے اکثر مذہبی رسالے بھی انہی سے منسوب ہیں اور انھوں نے 804 ہجری میں ایک نیا سن (کیلنڈر) بھی جاری کیا تھا، جو ان کے مرکزی کردار کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ دروز مذہب کی ابتدا 10ویں اور 11ویں صدی عیسوی میں فاطمی سلطنت کے دارالحکومت قاہرہ، مصر میں اسماعیلی شیعہ اسلام سے ہوئی۔ یہ تعلق ان کے ابتدائی مذہبی ارتقاء کو سمجھنے کے لیے بنیادی ہے اور ان کے عقائد پر اسلامی اصولوں کے ساتھ ساتھ ہندو اور یونانی فلسفے کا بھی اثر پایا جاتا ہے۔  باوجود اس کے کہ دروزیت اسلام سے نکلی ہے، اب اسے ایک الگ اور منفرد م...

تو تاریخ کہتی ہے کہ

تو تاریخ کہتی ہے کہ جب عمر ابن خطاب اسلام لایا تواس کی عمر چالیس  40 برس تھی اور ترسٹھ  63 برس کی عمر میں عمر ابن خطاب کا قتل ہو گیا ۔ 2- تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ دعوتِ ذولعشیرہ یعنی اسلام کی پہلی دعوت کے وقت امام علی کی عمر مبارک 9 برس تھی ۔ 3- تمام شیعہ سنی مورخین کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ امام علی کا جناب ِ فاطمہ زہرا سے نکاح 25 برس کی عمر میں ہوا۔۔ یعنی دعوت ذولعشیرہ کے 16 برس بعد۔ 4- یعنی عمر بن خطاب ، دعوت ذولعشیرہ کے 7 سال بعد اسلام لیا ، یعنی جب اس نے کلمہ پڑھا تو اس وقت امام علی ؑ کی عمر مبارک 16 برس تھی ۔ 5- عمر کے اسلام لانے کے 9 برس بعد امام علی کا نکاح بحکم خدا جنابِ زہرا سے ہوا یعنی 25 سال کی عمر میں ۔یعنی جب امام علیؑ کی شادی ہوئی تب عمر ابن خطاب  49  برس کے تھا  ( 40+9=49 برس ) 6- تمام مورخین نے یہ بھی لکھا کہ امام علیؑ کی شادی کے ایک سال بعد امام حسن ؑ کی ولادت با سعادت ہوئی اور 2 برس بعد امام حسین ؑ دنیا میں تشریف لائے اور پھر 4برس بعد سیدہ زینب ؑکی ولادت باسعادت ہوئی ۔ ٹھیک! 7- اہل سنت مورخین کے مطابق جناب ِ ام کلثوم بنت امام علی ؑ ، جناب...

امام حسین علیہ السلام کے اہلِ خانہ کی کربلا کے سفر میں ہمراہی کے اسباب کیا تھے ؟

امام حسین علیہ السلام کے اہلِ خانہ کی کربلا کے سفر میں ہمراہی کے اسباب کیا تھے ؟ واقعہ عاشورا سے متعلق ایک بار بار دہرایا جانے والا سوال یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام اپنے اہلِ خانہ کو کربلا کیوں ساتھ لائے ؟ اگر امام حسین علیہ السلام کا مقصد یزید کے خلاف قیام کرنا تھا تو فقط اپنے لشکر کے ساتھ تشریف لاتے ، بقیہ خانوادے کو ساتھ لانے کی کیا ضرورت تھی ؟ اس تحریر میں ہم تاریخی شواہد اور عقلی دلائل کی روشنی میں چند بنیادی اسباب کا اختصار کے ساتھ ذکر کریں گے، جن کی بنیاد پر امام حسینؑ نے اہلِ خانہ کو کربلا ساتھ لے جانے کا فیصلہ فرمایا۔   سب سے پہلے یہ واضح رہے کہ امام حسین ع یزید کے خلاف قیام کے ارادے سے ہی مدینہ سے نکلے ہیں  امام حسین علیہ السلام کے مقصد و فلسفہ قیام کو جاننے کے لئے سب سے بہترین اور سب سے مطمئن سند خود آپ کے یا دیگر ائمہ معصومینؑ کے ارشادات اور بیانات ہیں۔  آپ کے سارے خطبات، ارشادات، خطوط، وصیت نامے جو کہ آپ کے قیام کے اغراض و مقاصد کے سلسلہ میں ہیں نیز ائمہ معصومینؑ کی جانب سے امام حسین علیہ السلام کے لئے وارد زیارت ناموں میں بھی آپ کے قیام کے اغراض و مقا...

ابن حجر عسقلانی کی کلابازیاں اور دفاعِ صحیح بخاری

ابن حجر عسقلانی کی کلابازیاں  اور دفاعِ صحیح بخاری ابن حجر عسقلانی وہ نام گزرا ہے جسے متاخرین میں امیرالمومنین فی الحدیث کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور صحیح بخاری کا جتنا دفاع اس بندے نے کیا اس کی نظیر نہیں ملتی لہذا اس عنوان سے اہل سنت کے ہاں اس کی شخصیت بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس کی ایک عبارت ہے جس پر جعلی حسنیوں کے محقق صاحب "عاقب حسین" نے ایک تاویلی پوسٹ کی جس کا لنک ہم کمنٹ میں دے رہے ہیں۔ چلتے ہیں اس عبارت کی جانب پھر اس کا جواب قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ اہل سنت محدثین کا و رخی چہرہ کسی بھی اہل علم سے پوشیدہ نہیں اس وجہ سے بعض افراد اس معمہ کے حل کے لیے توجیہات کا سہارا لیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک ابن حجر عسقلانی ہے۔ لکھتے ہیں: وقد ‌كنتُ ‌أستشكلُ توثيقهم النَّاصبيَّ غالبًا (وتوهينهم الشِّيعَة مُطلقًا)، ولا سيما أن عليًّا وَرَدَ في حَقِّه "لا يُحِبُّه إلا مُؤمن، ولا يُبغضه إلا مُنَافق". ثم ظَهَرَ لي في الجواب عن ذلك: أنَّ البُعْضَ هنا مقيدٌ بسببهِ، وهو كونه نَصَرَ النَّبيّ صلى الله عليه وسلم، لأنَّ من الطَّبع البَشَرِي بُغض من وقعتْ منه إساءةٌ في حقِّ المُبغ...

جبر و تفویض اور اختیار

جبر و تفویض اور اختیار الف: جبر کے لغوی معنی ''جبر'' لغت میں زو رزبردستی سے کوئی کام کرانے کو کہتے ہیں اور ''مجبور'' اس کو کہتے ہیں جس کو زور زبردستی سے کوئی کام کرایا جائے ۔ ''جبر'' اس اصطلاح میں یہ ہے :  خدا وند عالم نے بندوں کو جو اعمال وہ بجا لاتے ہیں ، ان پر مجبور کیا ہے، خواہ نیک کام ہو یا بد ،براہو یا اچھا وہ بھی اس طرح سے کہ بندہ اس سلسلہ میں اس کی نا فرمانی ،خلاف ورزی اور ترک فعل پر ارادہ واختیار نہیں رکھتا۔ مکتب جبر کے ماننے والوں کا عقیدہ یہ ہے انسان کو جو کچھ پیش آتا ہے وہی اس کی پہلے سے تعین شدہ سر نوشت ہے، انسان مجبور ہے وہ کوئی اختیار نہیں رکھتا ہے ،یہ اشاعرہ کا قول ہے ج: تفویض کے لغوی معنی تفویض لغت میں حوالہ کرنے اور اختیار دینے کے معنی میں ہے۔ د: تفویض اسلا می عقائد کے علما ء کی اصطلاح میں ''تفویض'' اس اصطلاح میں یعنی: خدا وند عالم نے بندوں کے امور (افعال )خود ان کے سپرد کر دئے ہیں جو چاہیں آزادی اوراختیا ر سے انجام دیں اور خدا وند عالم ان کے افعال پر کوئی قدرت نہیں رکھتا، یہ فرقۂ ''معتزلہ'...

مرزا قادیانی نے تحریرات کو چوری کیا ہے

مسیح موعود و مہدی مہعود مرزا غلام احمد قادیانی صاحب معارف قرآنیہ اور علوم دینیہ کے خدا کی طرف سے ہونے کے دعوے میں بھی بالکل کا ذب ہیں،  جھوٹے ہیں۔   مرزا غلام احمد قادیانی نے جس قدر بھی ایسے مضامین لکھے وہ سب پہلی کتابوں کا سرقہ ہے۔ چوری ہے اور جہاں اپنا تصرف کیا ہے وہی مضمون غلط ہے، جھوٹ ہے، لغو ہے۔ باطل ہے۔ الا ماشاء اللہ ۔ اب جن معارف کی نسبت مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو ناز ہے کہ یہ معارف قرآنیہ خاص مرزا قادیانی کو عطا ہوئے وہ ظاہر کیے جائیں۔ اور نیز وہ معارف جدیدہ کسی قدر ہونے چاہئیں جو مسیح موعود کی شان کے لائق ہوں اور جس سے تمام امت پر مرزا قادیانی کا تفوق ثابت ہوا ہو اس کی تعداد جو چاہو مقرر فرما کر لکھئے۔ پھر ان مضامین کا صرف حوالہ دے دینا چاہیے کہ فلاح کتاب میں فلاں صفحہ سطر کا مضمون فلان صفحہ سطر تک ہے۔ اس کے بعد خدا چاہے میں عرض کر دوں گا کہ ان مضامین سے بہت اعلی مضامین امت میں پہلے سے موجود ہیں اور مرزا قادیانی کے علوم کو ان سے کوئی بھی نسبت نہیں یا یہ مضمون فلاں شخص سے مسروقہ ہے مرزا قادیانی کا نہیں۔ اور فلاں مضمون فلاں سے چرایا گیا ہے پھر مرزائی اگر زیادہ س...

عبد اللہ اشتر المعروف عبد اللہ شاہ غازی کون تھے

عبد اللہ اشتر المعروف عبد اللہ شاہ غازی کون تھے؟ تحریر: فخر عباس زائر اعوان (جنڈ۔اٹک) عبد اللہ اشتر(المعروف عبداللہ شاہ غازی) بن محمد نفس الزکیہ بن عبداللہ محض بن حسن کون تھے اور کس عقیدہ کے حامل تھے؟ کراچی میں موجود عبداللہ شاہ غازی کا مزار عقیدت مندوں کیلئیے ایک عظیم درگاہ ہے  اور یہ حسنی سادات سے ہیں اور امام حسن المجتبی علیہ السلام کے پوتے کے پوتے ہیں۔ عبداللہ اشتر المعروف عبداللہ شاہ غازی کون تھے اور کس عقیدہ کے حامل تھے اور سندھ میں ان کا ورود کیوں ہوا؟ ان سوالوں کا جواب جاننے کیلئیے اول ان کے دادا عبداللہ محض اور ان کے باپ محمد نفس الزکیہ  کے بارے جاننا بہت ضروری ہے اس کے بعد ان کے بارے ذکر کیا جائے گا  کہ وہ کس عقیدہ کے حامل تھے ۔(ہم اس تحریر میں اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے فقط مآخذ تک ہی حوالہ جات نقل کریں گے) عبد اللہ اشتر کا دادا عبد اللہ محض بن حسن بن امام حسن علیہ السلام: عبد اللہ محض بن حسن  مثنی "زیدیہ" سے تعلق رکھتا تھا اور ائمہ حق کے مخالف فتاوی دیتا تھا ۔  جیسا کہ رجال الکشی ، رقم: 634 سے واضح ہے کہ 634 - حدثني محمد بن الحسن ، قال : حدثني الحسن ...